ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
بات تو دل شکن ہے پر، یارو!
عقل سچی تھی، عشق جھوٹا تھا
اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا
جسم کی صاف گوئی کے باوصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا !
اب تو جس طور بھی گزر جائے
کوئی اسرار زندگی سے نہیں
اس کے غم میں کیا سبھی کو معاف
کوئی شکوہ بھی اب کسی سے نہیں
کبھی کبھی بیزاریت اتنی بڑ جاتی ہے کہ کچھ بھی اچھا نہیں لگتا حتیٰ کہ تمہاری یاد بھی
تم ایک شخص کے جانے پہ رو پڑے ہو .....!
ہمارا کوئی نہیں ہے! یہ ہنسی دیکھتے ہو ؟
بظاہر تو بہار ہے لیکن
اداسی اب بھی دسمبر والی ہے
تم پڑھتے تھے تو سکوں ہوتا تھا
اب درد لکھ کر لفظوں کو رسوا کرتا ہوں
بال بِکھرائے ٹوٹی قبروں پر
جب کوئی مہ جبین روتی ہے
مُجھ کو اکثر خیال آتا ہے
موت کِتنی حسین ہوتی ہے
تیرے بعد میں ہر کسی کا ہو گیا
تیرے بعد دکھوں نے مجھے بانٹ لیا
دکھ یہ نہیں کہ وہ یاد نہیں کرتا
دکھ یہ ہے کہ وہ یاد بھی نہیں آتا
بدل گئی ہے یہ زندگی اب سبھی نظارے بدل گئے ہیں
کہیں پہ موجیں بدل گئی ہیں کہیں کنارے بدل گئے ہیں
بدل گیا ہے اب اس کا لہجہ‘ اب اُس کی آنکھیں بدل گئی ہیں
وہ چاند چہرہ ہے اب بھی ویسا مرے ستارے بدل گئے ہیں
ملا ہوں اُس سے تو یوں لگا ہے کہ جیسے دونوں ہی اجنبی ہوں
کبھی جو مجھ کو عزیز جاں تھے‘ وہ طور سارے بدل گئے ہیں
کچھ اس لیے بھی میں سر جھکا کر پھر اُس کی نگری سے چل پڑاہوں
کہ جن پہ مجھ کو تھا ناز عاطفؔ وہ سب سہارے بدل گئے ہیں
بہت غنيمت ہیں ہم سے ملنے کبھی کبھی کے یہ آنے والے
وگرنہ اپنا تو شہر بھر میں مکان تالے سے جانا جائے
لڑنے کا نیا انداز اپنا لیا میں نے
تلوار پھینکی اور قلم اٹھا لیا میں نے
جب بھی ہوا کہیں ظلم نیا تو
جواب دینے کے بجائے سر جھکا لیا میں نے
اسے اپنے درد کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا
میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتا
وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا بھی محال تھا
کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیا
وہ جواب مجھ کو نہ دے سکا، وہ جو خود سراپا سوال تھا
وہ جو اس کے سامنے آگیا، وہی روشنی میں نہا گیا
عجب اس کی ہیبتِ حسن تھی، عجب اس کا رنگِ جمال تھا
دمِ واپسی اسے کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، وہ تو آپ اپنی مثال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا
اُسے میری چپ نے رلا دیا، جسے گفتگو میں کمال تھا
میرے ساتھ لگ کے وہ رو دیا، اور مجھے فقط اتنا وہ کہہ سکا
جسے جانتا تھا میں زندگی، وہ تو صرف وہم و خیال تھا.
شکست حال ہے دنیا کے بھی ستائے ہوئے ہیں
یا رب تیرے سوال کا جواب دیتے ہیں
بروزِ حشر ہے اتنی بھی جلد بازی کیا ہے
شراب تو پی لیں پھر حساب دیتے ہیں
اے خدا میں مایوس کرم نہیں ہوں
لیکن بتا میرے دن کب۔ بدلیں گے
ایک اور شخص مجھ کو چھوڑ گیا تو کیا ہوا
میرے ساتھ یہ کونسا پہلی دفعہ ہوا
زمین راس نہ آئے تو موسم بہار میں بھی پیڑ سوکھ جاتے ہیں
وفا خوبی میری تھی بارہا نہیں رہی
اب خود کو بھی میری تمنا نہیں رہی
میں خود بھی تو دیتا رہا فریب خود کو
تجھ سے ملا تو مجھے عادت وفا نہیں رہی
ہاتھ اٹھائے کب سے کھڑا ہوں تیرے در پر
لیکن لبوں پر میرے کوئی دعا نہیں رہی
اک عمر ہم نے رقص میں ساتھ گزاری ہے
اب وقت بدلا تو زندگی بھی آشنا نہیں رہی
میں اداسی ہوں ان بکھرے پتوں کی
جو بہار میں شاخ سے ٹوٹ جاتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain