بہرحال یہ آخری دکھ بھی گنوارہ کر لیا جائے
کنارا کرنے والوں سے کیوں نا کنارا کر لیا جائے
اک ہجر تیرا جو درپیش ہے سزا مجھے تا حیات
سوچتا ہوں کہ تیرے بعد عشق دوبارہ کر لیا جائے
آج پھر زندگی خفا ہے
چھوڑو کون سا پہلی دفعہ ہے
اِک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہوگی
Kab ki
بڑا طویل صدمہ ہے ت
مختصر سی محبت کا🥀
Bara jhoot
نفرت بھی کیوں کریں ان سے
اتنا بھی کیوں واسطہ رکھنا
Nafrat ki koi wajah hi nhi
ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ
ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ
ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﻨﻮﺭﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﮔﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﺳﻨﻮ۔۔! ﺗﻢ ﮐﻮ ﻗﺴﻢ ﻣﯿﺮﯼ
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﻢ
ﻧﮧ ﺗﻨﮩﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ
ﻧﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ
ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﺮ
ﺍﮐﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ ﺍُﺱ ﻧﮯ
ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯼ ﺍُﺱ ﻧﮯ ۔۔
Wo pata nhi koun thi
Aaj ki raat aik dua mere liye Bhi
اب ایک یہ دکھ بھی گنوارہ کر لیا جائے
کنارا کرنے کرنے والوں سے کنارا کر لیا جائے
تو خوشی جیت کی اور میں مات کا دکھ ہوں تجھے معلوم ہو کیسے میں کس بات کا دکھ ہوں
اب تو یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کون سی محبت سچی تھی
نہیں تو اب اداس نہیں ہوں بس آنکھیں بھر آتی ہیں جب کوئی چیز بدلتی ہوئی دیکھتا ہوں
اک دن مجھ کو میرے حصے کی محبتیں ملیں گی مگر تب مجھے ان محبتوں کی ضرورت نہیں ہو گی
ہم سادہ دلی نے مارا ہے
کتنے نقاب اترتے ہیں اک چہرے سے
دل دھڑکتا ہے تو اٹھتی ہیں چیخیں _____
عشق نے باندھ کے مارا ہے خدا جانتا ہے___
آج موسم بالکل انسانوں کی طرح ہے ۔۔ تھوڑی دیر بعد بدل جاتا ہے ۔۔ کچھ دیر دھوپ کچھ دیر بارش اور کچھ دیر بادل رہتے ہیں ۔۔۔
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کر یاد آیا
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮑﺴﭙﺎﺋﺮﯼ ﮈﯾﭧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻣﻠﮯ، ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ
ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺍﮔﺮ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ، ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻣﺮﺽ ﺑﮍﮪ
ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮑﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﻨﺪﺭﺳﺖ ﮨﻮ
ﭼﮑﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﺘﺎ
ﮨﻮﮞ
ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﺁﺋﮯ
وفا خوبی میری تھی بارہا نہیں رہی
اب خود کو بھی میری تمنا نہیں رہی
میں خود بھی تو دیتا رہا فریب خود کو
تجھ سے ملا تو مجھے عادت وفا نہیں رہی
ہاتھ اٹھائے کب سے کھڑا ہوں تیرے در پر
لیکن لبوں پر میرے کوئی دعا نہیں رہی
اک عمر ہم نے رقص میں ساتھ گزاری ہے
اب وقت بدلا تو زندگی بھی آشنا نہیں رہی
اجنبی سی شام اور میں ہوں
امید بھی ناکام اور میں ہوں
اک طرف ہے ہجوم شہر منتظر
دوسری طرف تیرا نام اور میں ہوں
پارسا ہاتھ میں لیے پتھر کھڑے ہیں
محبت کا ہے الزام اور میں ہوں
اس پار ہیں راحتیں زندگی کی ساری
اس پار ہیں الجھنیں تمام اور میں ہوں
خوب سجی ہے یہاں بزم مہ عاصی~
یاد ٫ درد٫ دوا ، جام اور میں ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain