اداس اب میری طبیعت نہیں رہی۔۔ تم سے بھی اب کوئی شکایت نہیں رہی ۔۔ اب تو صرف رشتے کا بھرم نبھاتے ہم اک بوسیدہ سا تعلق باقی مگر محبت نہیں رہی کچھ میں بھی ہو گیا تمہاری یاد سے غافل کچھ تمہیں بھی اب پہلے سی فرصت نہیں رہی کیا کہا ایک اور فریب کھاوں میں ۔۔ نہیں اب مجھ کو عادت نہیں رہی ۔۔ سجدوں میں بھی کوئی اور یاد آتا ہے اب نماز بھی تمہاری عبادت نہیں رہی ۔۔۔ اک خواب ہے جو میں جی رہا ہوں ۔۔۔ یعنی میری زندگی میں کوئی حقیقت نہیں رہی ہاں میں پکارتا تو تم لوٹ ہی آتے شاید ۔۔ مگر مجھ میں ہی بولنے کی طاقت نہیں رہی ۔ میری سانسوں کی تھا تحریر جو عاصی~ ۔۔ وہی نام لکھنے کی اب اجازت نہیں رہی
مجھے ڈر لگتا ہے اس دنیا سے ان بادشاہوں سے مجھے خوف آتا ہے دنیا کے درندوں سے سہما سا رہتا ہوں ہمہ وقت ڈرتا ہوں کونے سے چِپکا رہتا ہوں لوگوں سے میں چھپتا ہوں مجھے خوف آتا ہے دنیا سے دنیا کے ان خداؤں سے کہاں چھپ جاؤں میں کنارہ کر لوں میں بڑا خوف سا آتا ہے وحشت سی ہوتی ہے