میں کیا کروں کہ سمجھ میں بھی کچھ نہیں آتا کوئی سبب بھی ہے یا بے سبب اداسی ہے … عبث ہیں کوششیں راغبؔ مجھے ہنسانے کی کسی کے دَم سے دمک تھی سو اب اُداسی ہے
وہ اپنے وعدوں سے پھر گیا ہے میں اپنے وعدے نبھا رہا ہوں کہیں ملے تو اسے یہ کہنا یہ کس الجھن میں جی رہا ہوں میں اپنے سائے سے ڈر رہا ہوں جو ہو سکے تو سمیٹ لے وہ مجھکو میں تنکا تنکا بکھر رہا ہوں کہیں ملے تو اسے یہ کہنا نہ دل میں کوئی ملال رکھے وہ ہمیشہ اپنا خیال رکھے وہ اپنے سارے غم مجھکو دے دے تمام خوشیاں وہ سنبھال رکھے کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
کہیں ملے تو اسے یہ کہنا میں تنہا ساون بِتا چکا ہوں میں سارے ارمان جلا چکا ہوں جو شعلے بھڑکتے تھے خواہشوں کے وہ آنسوؤں سے بجھا چکا ہوں کہیں ملے تو اسے یہ کہنا بغیر اسکے اداس ہوں میں بدلتی رت کا قیاس ہوں میں بجھا دے اپنی محبتوں سے تو سلگتی صدیوں کی پیاس ہوں میں کہیں ملے تو اسے یہ کہنا وہ جذبے میرے کچل گیا ہے وفا کے سانچے میں ڈھل گیا ہے نہ بدلے موسم بھی اتنی جلدی وہ جتنی جلدی بدل گیا ہے کہیں ملے تو اسے یہ کہنا میں چاک دامن کو سی رہا ہوں بہت ہی مشکل سے جی رہا ہوں دیا جو نفرت کا زہر اسنے سمجھ کے وہ امرت پی رہا ہوں کہیں ملے تو اسے یہ کہنا فصیل نفرت گرا رہا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
یارب! میں ایک کھلونا مٹی کا تیرے کن سے جو تخلیق ہوا تیرے کرم نے ذی روح کیا مجھے تیرے حکم سے یہ سانسیں چلتی ہیں تیرے فضل سے ہستی قائم ہے تو ہی اول تو ہی آخر ہے تو ہی ظاہر تو ہی باطن ہے اک اور کرم فرما مجھ پہ میرے سارے زنگ اتار یارب! اور اپنا رنگ چڑھا مجھ پہ!