اُڑ جائیں گے تصویر کے رنگوں کی طرح ہیں ھم وقت کی ٹہنی پہ پرندوں کی طرح ہیں تم شاخ پہ کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہو ہم ریت پہ لکھے ہوئے حرفوں کی طرح ہیں اک عمر ترستے ہیں کسی ایک خوشی کو ہم لوگ بھی بنجر سی زمینوں کی طرح ہیں دنیا کے لیے کچھ بھی سہی تیرے لیے ہم مخلص سدا ماں کی دعاؤں کی طرح ہیں تاریخ کی نظروں میں ھم اک عمر سے اسکول سے بھاگے ہوئے بچوں کی طرح ہیں۔۔
واسطہ حسن سے کیا شدّت جذبات سے کیا عشق کو تیرے قبیلے یامیری ذات سے کیا میری مصروف طبیعت بھی کہاں روک سکی وہ تو یاد آتا ہے اسُ کو میرے دن رات سے کیا پیاس دیکھوں یا کروں فکر کہ گھر کچا ہے سوچ میں ہوں کہ میرا رشتہ ہے برسات سے کیا؟ آج اسے فکر ہے کیا لوگ کہیں گے محسن کل جو کہتا تھا مجھے رسم و روایات سے کیا؟
تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا ! ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے ؟ بہت ممکن ہے ! کچھ دن میں اسے ہم ترک کر دیں تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے
خواب مرشد ہماری التجا سنیں مرشد ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا مرشد ہمارے نو مولود جذبات کا گلا گھونٹا گیا مرشد ہمارے ارمانوں کو سرے بازار بے آبرو کیا گیا مرشد کڑی دھوپ میں سایہ زلف بھی اٹھا لیا گیا مرشد سرد لہجے مزید سرد ہوتے گئے مرشد ہمارے الفاظ ہماے ہی خلاف ہو گئے مرشد ان کے جھوٹ بھی سچ ہونے لگے مرشد ہمارا مقدمہ ہمارے قاتل نے سنا مرشد ہماری خامشی ہمارا جرم ٹھہرا مرشد ہماری وفاؤں کو مصلوب ہونا پڑا مرشد ہمارا خواب بس اتنا تھا مرشد پھر ہماری آنکھ کھل گئی