ہم ہیں غُربَت میں گُزارے ہوئے اَیَّام جِنہیں
لوگ جب تَخت پہ آتے ہیں ، بُھلا دیتے ہیں!
Everything is right but I am wrong
سبھی ہارے ہیں قسمت کے آ گے محبت کو
یوں ہی نہیں بنا اک فرقہ اداس لوگوں کا.
جب نہیں آتے یاد تو دن بھر نہیں آتے یاد
جب یاد آتے ہیں بہت ہیں آتے یاد
میں اپنے دور کا وہ مطمئین منافق ہوں...!!
جو اپنے آپ کو ترتیب سے گنوا رہا ہے...!!!
خودکشی حرام ہے۔۔🙏
لیکن نہ جانے کیوں میرا جی چاہتا ہے۔۔
میں مر جاؤں 😢💯
خدا خیر کرے
دو ذرائع ہیں...........آب پاشی ڪے!!!
پھر بھی تڪیے پہ پھول اُگتے نہیں!!
مجھے لگتا ہے۔۔۔۔
پتا نہی کیوں۔۔۔۔
میں روز بروز اذیت پسند ہوتا جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
کبھی خود کو اذیت دیتے دیتے پتا نہی کیوں دل بڑی شدت سے دھڑکتا ہے۔۔۔ ۔۔ دل کرتا بس بہت جی لیا۔۔۔ اب خودکشی کر لی جائے۔ ۔۔ اپنی سانسیں روک لی جائیں۔۔۔ نہی برداشت ہوتی تنہایاں نہی برداشت ہوتا کہ کوئی ہماری ذات کو روندھ کے گزر جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کرتا خود کو اتنی اذیت دوں کہ اذیت سہتے سہتے آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون نکلے اور موت آ جائے۔۔۔۔۔
پہلے سہ وہ جنونِ محبت نہیں رہا۔۔۔
کچھ کچھ سنبھل گئے ہیں
تیری دعا🤲 سے ہم۔
میں اپنے وجود کے اندر بھٹکتے بھٹکتے تھک گیا ہوں،
میں نے اپنے وجود کے مسافتوں میں بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں، بڑے دکھ جھیلیں ہیں
ﻟﻮﭦ ﺟﺎﺅ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
. ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ ﺑﮭﭩﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ
مجھے معلوم تھا ناگن مجھے ڈس سکتی ہے
آنکھ پھڑکی تھی میری، پھڑکی بھی اچھی خاصی..
تھوڑا سا زہر چیونٹی میں بھی ہوتا ہے میاں
وہ تو پھر لڑکی تھی، اور لڑکی بھی اچھی خاصی..
تعویذ لکھ کے دیتا تھا عمر طویل کے
عامل وہ خود بیچارا جوانی میں مر گیا
جانے والے تو زندہ رہتے ہیں
موت آتی ہے جینے والوں کو
وہ جو تعمیر ہونے والی تھی،🥰🥰
لگ گئی آگ اُس عمارت میں😓😥😢
لفظ یوں نہیں تخلیق میں آتے سائیں ۔۔۔۔
خون سے سینچنا پڑتا ھے انھیں ہر لمحہ۔۔۔
شامِ شہر اداس کے والی
اے مرے مہرباں کہاں ہے تو
شامِ شہر اداس کے والی
اے مرے مہرباں کہاں ہے تو
کتاب #زیست کے اوراق پھٹ گئے میرے۔۔۔
میرے وجود سے سب غم لپٹ گئے میرے۔۔۔
تمام راستے کٹھنائیوں کی نظر ھوئے ۔۔۔
سبھی سفر اذیتوں میں کٹ گئے میرے ۔۔۔
میرے نصیب کے سارے ستارے زد میں ھیں۔۔۔۔
میں تکتی رہ گئی تختے الٹ گئے میرے ۔۔۔۔۔
تصورات کے خاکے میں ھے سراپا تیرا ۔۔۔۔۔
تمھاری ذات میں ارماں سمٹ گئے میرے ۔۔۔۔
تیرے بچھڑنے کا اک خوف سا لاحق تھا مجھے ۔۔۔
پر اب وہ خوف کے بادل بھی چھٹ گئے میرے ۔۔۔
تمھارے جاتے ہی جتنے بھی کام باقی تھے۔۔۔۔۔
خدا کے فضل سے وہ سب نمٹ گئے میرے۔۔۔۔۔۔۔
کتاب #زیست کے اوراق پھٹ گئے میرے ۔۔۔۔۔
میرے وجود سے سب غم لپٹ گئے میرے ۔
خدا سے اس لیے بولا"بہت اکیلا ھوں
بہت اکیلے کا مطلب خدا ہی جانتا ھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain