تمہیں یہ ماننا ہو گا کہ ہم نے اپنے لب سی کر سکوتِ شب کی مٹھی میں کوئی طوفان رکھا ہے!! سجا سکتے تھے یادوں کے کئی چہرے کئی پیکر مگر کچھ سوچ کر ہم نے یہ گھر ویران رکھا ہے! ہمیں شوقِ ازیت ہے وگرنہ اس زمانے میں تیری یادیں بھلانے کو بہت سامان رکھا ہے....!!
جو اداس ہیں تیرے ہجر میں، جنہیں بوجھ لگتی ہے ذندگی سر بزم انہیں یوں دیکھ کر تیرے مسکرانے کا شکریہ! تیری یاد کس کس بھیس میں میرے شعرونغمہ میں ڈھل گئ یہ کمال تھا تیری یاد کا تیرے یاد آنے کا شکریہ! مجھے خستہ حال دیکھ کر تیرے پھول سے ہونٹ کھل گئے مجھے اپنے حال کا غم نہیں تیرے مسکرانے کا شکریہ!
وہ بھی کیا دن تھے جب گہری اداسی بھی دو غزلیں لکھنے سے غائب ہو جاتی تھی مگر اب اداسی جڑیں پکڑ جاتی ہے اب لکھتا ہوں تو کچھ لکھا بھی نہیں جاتا بس اداسی بڑھتی جاتی ہے