گر لوٹ سکتے نہیں ہو واپس
تو یاد بھی کیوں آتے ہو
Today I am so sad
جا بہ جا اداسی تھی پورے وجود میں اسکے
روتی تھی تحریر ، ہر شعر اشکبار تھا اس کا
قبل وصال اپنے اندر ہی مر گیا __ ایلیا جون
یوں تو کہنے کو زندوں میں شمار تھا اس کا
یہ چبھن اکیلے پن کی ، یہ لگن اداس شب سے
میں ہوا سے لڑ رہا ہوں تجھے کیا بتاؤں کب سے
یہ سحر کی سازشیں تھیں کہ یہ انتقام شب تھا
مجھے زندگی کا سورج نہ بچا سکا غضب سے
ترے نام سے شفا ہو کوئی زخم وہ عطا کر
مرے نامہ بر ملے تو ، اسے کہنا یہ ادب سے
وہ جواں رتوں کی شامیں کہاں کھو گئی ہیں محسن
میں تو بجھ کے رہ گیا ہوں وہ بچھڑ گیا ہے جب سے
🖤
میں چاہتا ہوں کوئی مجھ سے بات کرتا رہے،
میں چاہتا ہوں کہ اندر کی خامشی نکلے۔۔
لبوں سے لفظ جھڑیں آنکھ سے نمی نکلے۔۔
کسی طرح تو میرے دل سے بےدلی نکلے۔۔
میں چاہتا ہوں پرندے رہا کئے جائیں،
میں چاہتا ہوں تیرے ہونٹ سے ہنسی نکلے۔۔
میں چاہتا ہوں کوئی مجھ سے بات کرتا رہے،
میں چاہتا ہوں کہ اندر کی خامشی نکلے۔۔
میں چاہتا ہوں مجھے تاقچوں میں رکھا جائے،
میں چاہتا ہوں جلوں ، اور روشنی نکلے۔۔
میں چاہتا ہوں تیرے ہجر میں عجیب ہو کچھ،
میں چاہتا ہوں چراغوں سے تیرگی نکلے۔۔
میں چاہتا ہوں تجھے مجھ سے عشق ہوجائے،
میں چاہتا ہوں کہ صحرا سے جل پری نکلے۔۔
میں چاہتا ہوں مجھے کوئی درد دان کرے،
شدید اتنا کہ آنسو ہنسی خوشی نکلے۔۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﺍٌﻟﭧ ﮨﻮﮔﺌیں ترتیبیں 🔮
ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﯽ ﺩﯾﻤﮏ
ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺍﮌ ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﻮ ﺯﻧﮓ ﻟﮕﺎ ﮬﮯ
ﺩﻋﺎ ﮐﯿﺠﯿﮱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ " ﺻﺎﺣﺐ "
ﺩﻝ ﺿﺒﻂ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮭﭧ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
آج دل بہت اداس ہے
آج کوئی دل سے دعا دو
ایک وہ جو مجھ سے بچھڑ کر بھی خوش رہتی ہے
ایک میں ہوں جو اس کے ساتھ بھی اداس رہتا ہوں
https://free.facebook.com/Asim-writes-101877104725532/?ref=104
Like my poetry page
For my own poetry
ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی
میں چپ ہوا تو میری انا چیختی رہی
اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی
سڑکوں پہ سرد رات رہی میری ہمسفر
آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی
یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر
خوشبو کے انتظار میں شب بھیگتی رہی
وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا محسن
سوچوں پہ اس کے نام کی تختی لگی رہی.!!!
میرا آخری دیدار کیسے کرے گا وہ
مِرے مرنے کی کس طرح اس کو خبر ہو گی 🔥💔"
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو مر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
زندگی تری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
ستارے گر بتا دیتے سفر کتنا کٹھن ہوگا
پیالے شہد کے پیتے, تلخ ایام سے پہلے
یہ ہم جو لفظ لکھتے ہیں, ہماری آپ بیتی ہے
کہ دکھ تحریر کب ہوتے, کسی الہام سے پہلے
باتوں باتوں میں ______خدا کو یہ بتایا میں نے
مجھ کو اک شخص ضروری تھا _مگر اچھا خیر!!
سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحانِ شہر
پھر رفتہ رفتہ خود اُسی کافر کے ہو گئے۔۔۔۔۔۔!!!
اب دستکیں دے گا تُو کہاں اے غمِ احباب.
میں نے تو کہا تھا کہ میرے دل میں رہا کر
سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحانِ شہر
پھر رفتہ رفتہ خود اُسی کافر کے ہو گئے۔۔۔۔۔۔!!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain