ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیں تھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگی مجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی رخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے امشب گریز و رم کا نہیں ہے کوئی محل آغوش میں در آ کہ طبیعت اداس ہے کیفیت سکوت سے بڑھتا ہے اور غم قصہ کوئی سنا کہ طبیعت اداس ہے یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری کمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے کہ ٹوٹ کر بھی میرا حوصلہ چٹان کا ہے بُرا نہ مان میرے حرف زہر زہر سہی میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دِل کی ویرانی تمام شہر پہ سایہ میرے مکان کا ہے بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا وہ کہہ گیا تھا یہی وقت امتحان کا ہے مسافروں کی خبر ہے نہ دُکھ ہے کشتی کا ہوا کو جتنا بھی غم ہے وہ بادبان کا ہے یہ اور بات عدالت ہے بےخبر ورنہ تمام شہر میں چرچہ میرے بیان کا ہے اثر دِکھا نہ سکا اُس کے دل میں اشک میرا یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے بچھڑ بھی جائے مگر مجھ سے بدگمان بھی رہے یہ حوصلہ ہی کہاں میرے بدگمان کا ہے قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن ہوا میں شور ابھی تک میری اُڑان کا ہے
خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں، اک ورق روز موڑ دیتا ہوں.. ! اس قدر زخم ھیں نگاہوں میں، روز ایک آئینہ توڑ دیتا ہوں.. ! کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں.. بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں.. ! ریت کے گھر بنا بنا کے فراز.. جانے کیوں خود ہی توڑ دیتا ہوں.. !
تختی قلم دوات سے پہلے کی بات ہے یہ عشق کائنات سے پہلے کی بات ہے سچ ہے کہ میں بھی پیار کا منکر بنا رہا ہاں،ہاں یہ تیری ذات سے پہلے کی بات ہے اب تو ترے غلط پہ بھی آمین کہہ دیا انکار تیری بات سے پہلے کی بات ہے بس بے سبب فرات پہ الزام آ گیا یہ پیاس تو فرات سے پہلے کی بات ہے میں ناز زندگی کے اٹھاتا رہا بجا پر یہ مری وفات سے پہلے کی بات ہے.