نہ تقدیر بدلی نہ ہی حال بدلے گا سنا ہے کچھ دن سال بعد بدلے گا جواب پھر بھی وہی رہے گا اس بار بھی صرف سوال بدلے گا نہ رات نئی ہو گی نہ دن نیا ہو گا رت پھر ہو گی وہی مگر خیال بدلے گا
Meri nai ghazal aik choti see koshish مجھ کو تو اتنا ہی بتا شام کے بعد کیوں مجھے یہ درد ملا شام کے بعد دن تو دن تھا کٹ گیا اسے سوچتے ہوئے لیکن پھر کیسے کٹے سفر تنہا شام کے بعد وہ جو کرتا تھا عمر بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ مجھ سے پھر وہ ہوا خفا شام کے بعد بیمار ہجر مر ہی نہ جائے کہیں وحشت سے آج بھیجو میرے لیے کوئی دعا شام کے بعد رات روتے ہوئے گزر جاتی ہے میری اکثر ملی ہے جانے کس جرم کی سزا شام کے بعد میں خوش تھا تو اسے بھول بیٹھا تھا عاصی~ پھر اداسی میں آیا یاد خدا شام کے بعد
اے فقیرو! گلی کے اُس گُل کی تم ہمیں اپنی خاکِ پا بھیجو شفقِ " شامِ " ہجر کے ہاتھوں اپنی" اُتری " ہوئی قبا بھیجو کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو کچھ نہیں، "کوئی" بَد دُعا بھیجو