Damadam.pk
aasi-1's posts | Damadam

aasi-1's posts:

aasi-1
 

رشتہِ دل ترے زمانے میں
رسم ہی کیا نباہنی ہوتی
مسکرائے ہم اس سے ملتے وقت
رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی

aasi-1
 

ہر موڑ پر آ کر مجھ سے ملتی ہے فرحت
کہیں بد نصیبی بھی تو نہیں دیوانی میری

aasi-1
 

زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم

aasi-1
 

رلانے پھر مجھ کو ستم گر آ گیا ہے
وہ دیکھو پھر سے دسمبر آ گیا ہے
ابھی بھرے ہی تھے زخم پرانے
پھر سے درد جگانے دسمبر آ گیا ہے

aasi-1
 

اے دسمبر تم کیوں آتے ہو؟
دسمبر، ایویں ہی🤨
اے دسمبر تم اتنے ٹھنڈے کیوں ہو؟
دسمبر ، بکواس نا کر میں سعودیہ آتا ہی نہیں😏
اے دسمبر ، تم مت جاو نا😒
دسمبر ، اگے جنوری میں بھی مینو بڑے کام ویلا نئ 😐
دسمبر! تم یاد آتے ہو
دسمبر، ہاں جی، ایڈا میں دو دا پہاڑہ😒
دسمبر! تم درد دیتے ہو
دسمبر، میں تہاڈا ہتھ بُوہے اچ دے دِتا؟؟😡
دسمبر! تم اتنے اداس کیوں دِکھتے ہو
دسمبر ،تے باقی مہینے کیہڑا تہانوں جگتاں لاندے

aasi-1
 

دسمبر کی پہلی شام ••🍂❤️
سردی کی خبر دیتی ہوا ںیں•• سرد موسم , لمبی راتے , خاموشی, رات کی تاریک , گہرا سانٹھ , میری تنہائ , 🥀🖤
میرا کمرہ اس میں موجود ماضی کے پل •••کچھ یادیں, کچھ اھورے خواب , سرد لہجے, ادھوری شاعری ••• گہری سوچ ••• تنہاںیوں میں خود سے گفتگو••😊💓 اور ساتھ ایک کپ چاۓ ••••☕❤️🔥

aasi-1
 

دسمبر جب بھی لوٹا ہے میرے خاموش آنگن میں
میرے بستر پہ بکھری ہوئی کتابیں بھیگ جاتی ہیں

aasi-1
 

مصلحت اس میں کیا ہے میری
ٹوٹا پھوٹا لگتا ہوں ۔۔۔۔۔

aasi-1
 

یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں
سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں
تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں
بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں
تم پر میں صحیفہ ہائے کہنہ
اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں

aasi-1
 

"اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں؟
" فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم "

aasi-1
 

حالتِ گفتگو نہیں عشرتِ آرزو نہیں
کتنی اُداس آئی ہے شامِ وصال شہر میں

aasi-1
 

یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں
سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں
تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں
بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں
تم پر میں صحیفہ ہائے کہنہ
اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں

aasi-1
 

اشکوں کا دریا تھمتا نہیں ہے
یادوں کی بارش رکتی نہیں ہے
امید سحر اب تک ہے باقی لیکن
شب غم کسی طور کٹتی نہیں ہے
عذابِ ہجر میں زندگی میری اور
اک خواہش وصل ہے جو مٹتی نہیں ہے
اک زندگی ہے جو کب کی ختم ہو گئی
اک سانس ہے جو رکتی نہیں ہے
میرے خواب تھے میری اوقات سے اونچے
اور ان کی تعبیر مجھے ملتی نہیں ہے
مجھے لگتا ہے میں نے دیکھا ہے عاصی~
تیرا چہرا مجھ سے اجنبی نہیں ہے

aasi-1
 

تیری دوستی کا حق میں اس طرح سے ادا کروں گا
جب تک بھی زندہ رہا تجھ سے ہی وفا کروں گا
اسی طور سے ہی گزر جائے گی زندگی میری
تیری یاد میں اشک بہاتا رہوں گا آور کیا کروں گا
سانس تک ہی رک جاتی ہے یہ سوچ کر
میں کیسے خود کو تجھ سے جدا کروں گا
ہر ستم ہنس کر سہہ لوں گا تیرا میں
خود پر میں ظلم کی اک انتہا کروں گا
تجھے جیتا ہوں میں اتنا ہی ہو گا
اس سے زیادہ نہ زندگی تجھ سے نبھا کروں گا
,تیرے بعد تنہائی سے ہی رشتے رہے گا میرا
پھر کس کو مناؤں گا کسے خفا کروں گا
اک ہی کام بچے گا میرے پاس عاصی ~
میں جی بھر کے اپنی حالت تباہ کروں گا

aasi-1
 

مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے...
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا؟
مجھے شکوہ نہیں بس پوچھنا ہے..
یہ تم ہنستی ہو،اپنی ہی ہنسی کیا؟

aasi-1
 

کون بتائے کہ کیا ہے زندگی ..
سنا ہے بہت بے وفا ہے زندگی
وقت بهرے گا ہر اک زخم
میرے درد کی دوا ہے زندگی
تیرے بغیر جو گزارنی پڑ جائے تو
میرے لیے اک سزا ہے زندگی
ہر انداز ہے نرالا اس کا
ہر رنگ روپ سے جدا ہے زندگی
جوق در جوق ملتے ہیں درد
ہر غم سے آشنا ہے زندگی
منایا لاکھ میں نے اسے مگر
آج بھی مجھ سے خفا ہے زندگی
تلاش اس کو کروں میں کوچ در کوچ
عاصی~اب کہی لاپتہ ہے زندگی

aasi-1
 

اے دردِ دل تو ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
حالت زار جو دیکھی بیمار محبت کی
تو لوگوں نے کہا تو مر کیوں نہیں جاتا
ہزاروں خواب روز بہہ جاتے ہیں ا
اے اشکوں کے دریا تو اتر کیوں نہیں جاتا
کب تک خون دل سے اسے سینچتا رہوں
اے یادوں کے گلشن تو بکھر کیوں نہیں جاتا
اتنا بھی نہ کر خود کو برباد عاصی~
ابھی وقت ہے تو سدھر کیوں نہیں جاتا

aasi-1
 

ہم دشت کے باسی ہیں ارے شہر کے لوگو
یہ روح پیاسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
دکھ درد سے صدیوں کا تعلق ہے ہمارا
آنکھوں کی اداسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جاں دینا روایت ہے قبیلے کی ہماری
یہ سیاہ لباسی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جو بات بھی کہتے ہیں اتر جاتی ہے دل میں
تاثیر جدا سی ہمیں ورثے میں ملی ہے
جو ہاتھ بھی تھاما ہے سدا ساتھ رہا ہے
احباب شناسی ہمیں ورثے میں ملی ہے

aasi-1
 

مجھکو یہ بھی نہیں معلوم کہاں رھتا ھے
جو کہ چلتی ھوئ سانسوں میں رواں رھتا ھے
یوں تو ھر طرح سے ویراں ھے دل کی بستی
بن بتائے ھی مگر کوئ یہاں رھتا ھے
اب کسی رات میں جلتا نہیں کوئ چراغ
شام سے بس اسکی یادوں کا دھواں رھتا ھے
کوئ دو دن کے لیے جو ھو جاتا مہماں دل میں
وہ چلا جائے تو پھر اسکا نشاں رھتا ھے
عکس اسکا نظر آتا ھے ھر اک چیز میں محسن
رات دن بس اسکا ھی گماں رھتا ھے

aasi-1
 

مجھکو یہ بھی نہیں معلوم کہاں رھتا ھے
جو کہ چلتی ھوئ سانسوں میں رواں رھتا ھے
یوں تو ھر طرح سے ویراں ھے دل کی بستی
بن بتائے ھی مگر کوئ یہاں رھتا ھے
اب کسی رات میں جلتا نہیں کوئ چراغ
شام سے بس اسکی یادوں کا دھواں رھتا ھے
کوئ دو دن کے لیے جو ھو جاتا مہماں دل میں
وہ چلا جائے تو پھر اسکا نشاں رھتا ھے
عکس اسکا نظر آتا ھے ھر اک چیز میں محسن
رات دن بس اسکا ھی گماں رھتا ھے