اے دردِ ہجر یار غزل کہہ رہا ہوں میں
بے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں میں
.
میرے بیانِ غم کا تسلسل نہ ٹوٹ جائے
گیسو ذرا سنوار غزل کہہ رہا ہوں میں
.
راز و نیازِ عشق میں کیا دخل ہے ترا
ہٹ فکرِ روزگار غزل کہہ رہا ہوں میں
.
ساقی بیانِ شوق میں رنگینیاں بھی ہو
لا جامِ خوشگوار غزل کہہ رہا ہوں میں
.
تجھ سا سخن شناس کو ئی دوسرا نہیں
سن لے خیالِ یار غزل کہہ رہا ہوں میں.
/
سکھا مجھہ کو لٹے لوگوں کا ماتم
جلے جسموں بجھی آنکھوں کا ماتم
رہین درد جاں پیاروں کی ہجرت
نصیب دشمناں یاروں کا ماتم
جو فرصت ہو تو مرگ روشنی پر
کبھی دیکھو مری پلکوں کا ماتم
وہ زیر آب لاشوں کی قطاریں
وہ سطح آب پر لہروں کا ماتم
خزاں پتے پہن کر سو گئی ہے
ہوا کرتی پھرے شاخوں کا ماتم
جو خاموشی کی تہہ میں بہہ گئی ہیں
کرے گا کون ان قبروں کا ماتم
مری غزلیں مری نظمیں ہیں محسن
لہو لتھڑے چمن چہروں کا ماتم
تمہیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ہو
بہت خوش فہم ہو تم بھی تمہاری خوش گمانی ہے
میری آنکھوں کی سرخی میں تمہاری یاد کا مطلب
میرے شب بھر کے جاگنے میں تمھارے خواب کا مطلب
یہ آنکھیں تو ہمیشہ سے ہی میری سرخ رہتی ہیں
تمہیں معلوم ہی ہوگا اس شہر کی فذا کتنی آلودہ ہے
تو یہ سوزش اسی فضا کے باعث ہے
تمہیں کس نے کہا پگلی کےمیں شب بھر نہیں سوتا
مجھے اس نوکری کے سب جھمیلوں سے کبھی فرصت ملے تو تب ہے نا
میری باتوں میں لرزش ہے؟ میں اکثر کھو سا جاتا ہوں ؟ ؟ تمہیں کس نے کہا پگلی
محبت کے علاوہ اور بھی تو درد ہوتے ہیں فکر معاش ، سکھ کی تلاش ایسے اور بھی غم ہیں اور تم ان سب غموں کے بعد آتی ہو
تمہیں کس نے کہا پگلی مجھےتم یاد آتی ہو
یہ دنیا والے پاگل ہیں
ذرا سی بات کو یہ تو افسانہ سمجھتے ہیں مجھے اب بھی یہ پاگل تیرا دیوانہ سمجھتے ہیں تمہیں ک
لہجے سے اٹھ رہی تھی داستانِ درد
چہرہ بتا رہا تھا کہ سب کچھ گنوا دیا
دُشوار تھا ، دوبارہ محبت لیکن
خود کو بیکار تِرے بعد ، کہاں تک رکھتے
اک جبر وقت ہے کہ سہے جا رہے ہیں ہم
اور اس کو زندگی بھی کہے جارہے ہیں ہم
اعجاز دیدنی ہے طلسم سراب کا
دریا رکا ہوا ہے بہے جا رہے ہم
جا بہ جا اداسی تھی پورے وجود میں اسکے
روتی تھی تحریر ، ہر شعر اشکبار تھا اس کا
قبل وصال اپنے اندر ہی مر گیا __ ایلیا جون
یوں تو کہنے کو زندوں میں شمار تھا اس کا
کتنا حسین منظر ہو گا
سانس آخری ہو گی انتظار تمہار ا ہو گا
پھر نا سانس ہو گی نہ انتظار ہو گا
جنازہ اٹھائیں دفنا آئیں گے ۔ تب تم صرف اتنا کرنا
میری بخشش کی دعا کرنا
آج دل بہت اداس ہے
آج تم بے حساب یاد آئے
کیا کرو گی آخر تم قبر پر میری آ کر
دیر رو لو گی پھر بھول جاؤ گی
It's reality
معاف کرنا اے خدا میں
خودکو مار بیٹھا ہوں
پھر اچانک میں یہاں سے غائب ہو جاؤں گا نہ ہی میرا کوئی میسج آئے گا اور نہ ہی میں
دن مہینوں میں بدل جائیں گے اور کئی مہینوں بعد اگر آپ کو میرا خیال آیا آپ مجھے میسج کریں گی لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں آئے
پھر ایک دن میری آئی ڈی ایکٹیو ہو گی اور آپ سب کو میری موت کی خبر دی جائے گی لیکن تب تک اتنی دیر ہو چکی ہو گی کہ میرا جسم اور ہڈیاں خاک میں مل چکی ہوں گی۔
میرا وہ دل جو مجھے ہمیشہ بے قرار رکھتا تھا افسوس کہ وہ بھی خاک ہو جائے گا ۔۔لیکن اس میں رہنے والوں کا کیا ہو گا شاید وہ روح کے ساتھ رہیں گے
ﺑﯿﻤﺎﺭٖ ﻋﺸﻖ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﺎً ﻓﺎﺗﺤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﻮ
ہم ﺳﮯ _ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﺠﯿﮯ .
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﻥ ﮨﯿﮟ
آج دل بہت اداس ہے ۔۔ آج کوئی مجھ سے میرا حال ہی پوچھ لے
پھر سے لوٹ آیا اکتوبر
ابھی کچھ ہی دیر پہلے
ابھی کچھ ہی دیر پہلے،
یہاں زندگی تھی روشن، یہ چراغ جل رہے تھے
یہیں پھول کھل رہے تھے، یہیں کھل رہی تھیں کلیاں
ابھی کچھ ہی دیر پہلے، یہاں تتلیاں تھیں رقصاں
تو نہ جانے کیا ہُوا یہ کہ لرز اٹھی زمیں بھی
پھٹے پر بَتوں کے سینے ، نہ پناہ تھی کہیں بھی
ابھی کچھ ہی دیر پہلے، یُوں ہُوا نزولِ آفت
تھے وہ بد نصیب لمحے کہ گزر گئی قیامت
ہے فلک ہی اوڑھنے کو، ہے زمیں ہی اب بچھونا
کہیں گم ہُوا ہے بچّہ، کہیں گم ہُوا کھلونا
کہیں لالِ گم شدہ کی یوں تلاش میں ہے ممتا
نہ ہی سر پہ ہے دوپٹہ نہ ہی پیر میں ہے جوتا
ابھی کچھ ہی دیرپہلے، جو کھنڈر ہے مدرسہ تھا
وہ دبی ہوئی ہے تختی، وہ پڑا ہوا ہے بستہ
کسی پھول سے بدن پرہیں سجی ہوئی خراشیں
کہیں بوڑھا باپ بیٹوں کی اُٹھا رہا ہے لا شیں
ابھی ان گنت ہیں لاشیں
سنو اسے کہنا اکتوبر لوٹ آیا ہے
کہ اب کی بار وہ آ جائے
ہر آہٹ پر چونک جاتی کہ تم آئے
ہر شام کو ڈوبتے سورج کو دیکھتی ہوں
جیسے جیسے سورج ڈوبتا ہے
ویسے ویسے میری امید انتظار کی ختم ہوتی
اک شام کا کہ کر گیا تھا
سنو
کئی شامیں بیت گئی
پر تم نہی آئے
تمہارے قدموں کی آہٹ آج تک آواز آتی
اکتوبر کے جانے سے پہلے لوٹ آؤ
سنو اسے کہنا اکتوبر لوٹ آیا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain