اَب کے اُمید کے شُعلے سے بھی آنکھیں نہ جلیں
جَانے کِــــــس موڑ پہ لے آئــی مُحبّت ہَــــــم کو
کون سی رُت ہے زمانے، ہمــــــیں کیا مـــــعلوم
اپنے دامن میں لئے پھرتی ہے حَسرت ہَـــــم کو
زَخم یہ وصل کے مرہم سے بھی شَاید نہ بھرے
ہِجــر میں ایسی مِلی اب کے مُسافت ہَـــــم کو
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاوں بتا اے دلِ تنہا تجھ کو
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں
مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں
تعارف روگ بن جائے تو ا س کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ناممکن ہو
اسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
تُم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دُنیا سے بھی دُور ہوُئے
اپنی اَنا کے سارے شیشے آخر چکنا چور ہوُئے
ترکِ وفا کی ساری قسمیں اُن کو دیکھ کے ٹوٹ گئیں
اُن کا ناز سلامت ٹھہرا، ہم ہی ذرا مجبور ہوُئے
اب کے اُن کی بزم میں جانے کا گر محسن اذن ملے
زخم ہی ان کی نذر گزاریں اشک تو نا منظور ہوُئے
۔۔
وہ قریب آنا بھی چاھے ، اور گُریزاں بھی رھے
اُسکا یہ پِندارِ محبوبی ، مُجھے بھایا بہت
کِتنی یادیں ، کِتنے منظر آبدِیدہ ھُوگئے
جب بھی تنہا آئینہ دیکھا ، وہ یاد آیا بہت
سانس کی مہلت کیا کر لے گی
اب یہ سہولت کیا کر لے گی
بے بس کرکے رکھ دے گی نا
اور محبت کیا کر لے گی ؟
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
کوئی بتائے تو سہی
محبت کیا ہے
کسی کو پانا
یا کسی کا ہوجانا
محبت ایک صیغہِ راز ہے
محبت پہ آج تک جتنا
لکھا گیا کم ہے
یہ روح کا ملاپ ہے
دو دلوں کا احساس ہے
محبت جاوداں ہے
یہ میں نے تم سے جانا
کہ محبت کیا ہے ❤
کوئی تو ہوتا،،،
،جو میری ہستی پہ جان دیتا،،
گلے لگا کر محبتوں سے،
وفاؤں کو میری وہ مان دیتا۔۔۔
کوئی تو ہوتا۔۔
جسے مجھ ہی سے غرض ہوتی،
یہ دوستی ہی محبتوں کی امین ہوتی،
کہانی میں جو یہ فرض ہوتی،،
کوئی تو ہوتا،،،
جو چہرے کی مسکراہٹوں کے پیچھے،
چھپے ہوئے درد دیکھ لیتا،،
سمیٹ لیتا۔۔،،
مگر یہ ممکن اسی ہی صورت،،،
کوئی تو ہوتا،،،،
زمانے بھر سے جدا جو ہوتا،،،
یقین مانو،،،
میری محبتوں کا ،،،
امین ہوتا،،،
خدا وہ ہوتا!!!
قاتل ہے کون اس کا.........مجھے کچھ پتہ نہیں.....!!
میں پھنس گیا ہوں.......لاش سے خنجر نکال کر..
میں بھیک دے کے بھکاری سے بد دعا لوں گا
کہ مجھ کو عین جوانی میں موت آ جائے
رکا ہوا قافلہ یقیں کا
ہے کوئی الجھن, مگر نہیں ہے
ہاں وہ ہی میں
وہ ہی تو ہے
وہ اک محبت
کہیں نہیں ہے۔۔۔۔۔!!!!
بانٹ ڈالا ہے زندگی نے ہمیں
اپنے حصے میں ہم نہیں
تمام عمر کرائے کے گھر میں گزری ہے
مقامِ شکر ہے قبریں ہماری اپنی ہیں
تم بڑے لوگ ہو سیدھے ہی گزر جاتے ہو
ورنہ کچھ تنگ سی گلیاں بھی ہیں بازار کے ساتھ
میرے اشکوں پہ تجھے اتنا تعجب کیوں ہے
تو نے چشمے نہیں دیکھے کبھی کہسار کے ساتھ؟
روز خواب میں ہوتا ہے تعمیر مکان میرا
تعبیر بتاتی ہے کہ میں مر جاؤں گا
ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﺲ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻣﺎﻥ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ
ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺗﮭﻮ ﮌﮮ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﯿﮟ
ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﺲ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍﮌ ﮔﺌﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ
ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﺲ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﮔﻨﻮﺍﯾﺎ ﮨﮯ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮﺑﺮﺳﻨﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﺲ ﮐﺴﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﮯ ﺭﻻﯾﺎ ﮨﮯ!!!
اک خیال نے وحشت زدہ کیا ھے
کوئی تیسرا کہانی میں موجود ھے💔💔
مرشد! مکمل اجڑ گۓ ہیں ہم
مرشد! اسی قابل تھے ہم۔۔🔥
"دیری"
کچّی عمر میں چہرے پر جُھریاں دِکھتی ہیں!
ہنستا ہوں تو گالوں کے اوپر کا ماس لٹک جاتا ہے!
بھرپور جوانی ہے اور چار قدم چلنے سے سانس اکھڑتا ہے!
آنکھیں رستہ تکتے تکتے پِچھلی عمر کو جا پہنچی ہیں!
دیکھو!
تُم نے کتنی دیر لگا دی آنے میں!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain