اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں سب کے دل سے اُتر گیا ہوں میں کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سُن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں اب ہے اپنا سامنا درپیش ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں وہی ناز و ادا ، وہی غمزے سر بہ سر آپ پر گیا ہوں میں
ہاں میرے غم تو اٹھا لیتا ہے، غم خوار نہیں دل پڑوسی ہے مگر میرا طرف دار نہیں جانے والوں کو کہاں روک سکتا ہے کوئی گھر میں دروازہ تو ہے، پیچھے کی دیوار نہیں آپ کے بعد یہ محسوس ہوا ہے ہم کو جینا مشکل نہیں اور مرنا بھی دشوار نہیں کانچ کے گھر ہیں یہاں سب کے، بس اتنا سوچیں عرض کرتے ہیں فقط، آپ سے تکرار نہیں
تجھ سے بچھڑ کے ھم بھی مقدر کے ھوگے پھر جو بھی در ملا ھے اسی در کے ھو گے پھر یوں ھوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باھر کے ھو گے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کے عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ھو گے اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکاییتیں اے دردھجر ھم بھی تو پتھر کے ھو گے سمجھا رھے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ھو گے اب کے نہ انتظار کریں گے چارہ گر کا ھم اب کے گے تو کوے ستم گر کے ھو گے روتے ھو اک جزیرہ جاں کو فراز تم دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ھو گے
جب سے گئے ہیں آپ کسی اجنبی کے ساتھ ! سو درد لگ گئے ہیں میری زندگی کے ساتھ ! کیسے بھلا سکوں گا میں احسان آپ کا ! کھیلا کیے ہیں آپ میری زندگی کے ساتھ! باہر جو دیکھتے ہیں وہ سمجھیں گے کس طرح ! کتنے غموں کی بھیڑ ہے ایک آدمی کے ساتھ !