ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺪﻋﺎ ﺗﻌﺎﻗﺐ ﻣﯿﮟ
ﺳﮑﻮﻥ ﺷﮑﻞ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻟﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
Mujhe akser loog firqe ka pochte hain to main jawab deta hoon...
Sare firqon se Acha aik firqa udass logon ka
ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ
ﺣﻖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ
ﺍﮎ ﻟﻔﻆ ﺷﮑﻮﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻼ
ﺗﭙﺘﯽ ﺭﯾﺖ ﭘﺮ ﮐﭩﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮔﻬﺮﺍﻧﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ
لوکی عشق وعشق کر لیندیں نیں
اساں عشق دا پیر جگا بیٹھے
لوکی یار لبن تو پھردے نیں
اساں لبیا یار گوا بیٹھے
اے دنیا والے پاگل نیں
جیڑے عاشق نوں سمجھاندیں نیں
جیڑی آگ نہ بجھدی سمندراں نوں
آکو پھوکاں نال بجھاندیں نیں
میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اُس میں شراب بھر لی ہے
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ " ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ " ﮐﯽ ﺻﺪﺍ !
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﭘﮧ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﭘﮑﺎﺭﺍ ۔ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ ؟؟؟
تم آو گے جنازے پر میرے یہی سوچ کر
میں نے مرنے میں جلدی کر دی ہے
انداز بدل گے زندگی کے
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط نکلے تو لوگ سمجھے
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے، سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے ، جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں، سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے
وہ کہے آنکھیں کھول باتیں کر
۰
میرے پاس اختیار نہ ھو..
میں نکل پاتا نہیں________ یاد کے حلقے سے کبھی
مجھ کو اک شخص میں____ رہ جانے کی بیماری ہے.
میں چاہتا ہوں کہ اُس سےملوں تو مرجاؤں
وہ میری آخری خواہش کامعجزہ دیکھے...
جو حیات تھی تجھے وار دی
اب عروج کیا اور زوال کیا❣
جب پہلے پہل تجھے دیکھا تھا
دل کتنے زور سے دھڑکا تھا
وہ لہر نہ پھر دل میں جاگی
وہ وقت نہ لوٹ کے پھر آیا
اُردُو اٙدب
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں...
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار ، بڑی دیر سے چُپ ہیں
ویراں ھے میکدہ خم و ساغر اداس ھیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے۔۔۔۔۔۔۔ دن بہار کے
Please come back
دستک کس آس پہ دیۓ جا رہے ہو
دروازے پہ تالے لگے ہوۓ ہیں۔
یہ دل اداس ہے بہت کوئی پیغام ہی لکھ دو
تم اپنا نام نہ لکھو گمنام ہی لکھ دو
میری قسمت میں غم تنہائی ہے لیکن
تمام عمر نہ لکھو مگر ایک شام ہی لکھ دو
چلو ہم مان لیتے ہیں کے سزا کے مستحق ٹھرے
کوئی انعام نہ لکھو کوئی الزام ہی لکھ دو
تُو نے بھی اپنے خدّ و خال، جانے کہاں گنوا دیئے
میں نے بھی اپنے خواب کو، جانے کہاں گنوا دیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain