ہر ورق الٹا کہ دیکھا کہ شاہد کوئ تیری تحریر ھو
ہر صحفے پہ ملی تیری محبت____ گمشدہ گمش
میرے ذہن کو جو نہیں قبول
وُہی لوگ ہیں میرے ہم سفر
مُجھے ہر طرح سے جو راس تھا
وُہی شخص مُجھ سے بچھڑ گیا
سانس لینے میں بھی دشواری ہے
افق پر اسرار ، وحشت کی خامشی، دھوکہ دیتے راستے
ہم کہاں کہاں سے گزر گئے اے زندگی تیرے واسطے
حیات بھی اپنے مزاج میں بس بیزار سی رہی
میری روح تک اتر گئے کچھ بے سبب سے حادثے
چھڑی گھما کے پری نے بدل دیا سب کچھ ۔۔
مجھے سنائی تھی ماں نے کہانیاں کیا کیا
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
جان ہم کو وہاں بُلا بھیجو
کیا ہمارا نہیں رہا ساون
زُلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو
نئی کلیاں جو اَب کھِلی ہیں وہاں
اُن کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو
ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو
دھُول اڑتی ہے جو اُس آنگن میں
اُس کو بھیجو، صبا صبا بھیجو
اے فقیرو! گلی کے اُس گُل کی
تم ہمیں اپنی خاکِ پا بھیجو
شفقِ شامِ ہجر کے ہاتھوں
اپنی اُتری ہوئی قبا بھیجو
کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو
کچھ نہیں، کوئی بَد دُعا بھیجو
موسم تھا بےقرار،تمہیں سوچتے رہے
کل رات بار بار تمہیں سوچتے رہے
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے ہم
چپ چاپ سوگوار تمہیں سوچتے رہے
مَیں بچ کے آیا ہوں اُس منزلِ اذیت سے
خُدا کے بعد جہاں دیکھنے کو کچھ بھی نہیں
مَیں دیکھتا تھا اُسے اور اُسے بتاتا تھا
کہ اُس کے جیسا یہاں دیکھنے کو کچھ بھی نہیں
مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوبِ نظر کس کے ہو؟
آجکل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو؟
تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے
اب اگر اشک بہاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
میں نـے خالص اور بـے پناہ مُحبتیں صرف میتوں پر ہی نچھاور ہوتـے دیکھی ہیں
کاش میں بھی کوئی میت ہوتا
اب نزع کی تکلیفیں برداشت نہیں ہوتی____
___تم سامنے آ بیٹھو دم نکلے ___بآسانی
اب رک رک کر آتیں ہیں
سانسیں جو آخری ہیں
روٹھ کر جانے والے
تو میرا آخری سہارا تها
میری موت کے اسباب میں لکھا ہوگا
خون میں ازیت کی مقدار زیادہ تھی
😭
مجھے لاشوں پہ لکھنا پڑ رہا ہے
ترے ہونٹوں پہ لکھنے کے دنوں میں
#
نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا
میں اب کی بار محبّت میں مارا جاؤں گا
تم جب آؤ گی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
منتیں ہیں خیال کی تیرے
خوب گزری ترے خیال کے ساتھ
میں نے اک زندگی بسر کردی
تیرے نادیدہ خدو خال کے ساتھ👌
اکثر سوچتا ہوں
کہ تمھارے پاس جائے بغیر
تم سے مل آؤں
اور منہ سے کچھ بولے بغیر
بہت ساری باتیں کہہ آؤں
شاید
تمھاری سوچ بھی کچھ ایسی ہی ہو
کیونکہ یہاں رواج ہے کہ ہم ہمیشہ
اپنی اپنی ظاہری اناؤں کی خاطر
اپنی اپنی حقیقی اناؤں کو کچلتے رہتے ہیں
دعا کیا ہے ہوتی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain