پہلے شوق رکھتے تھے قُربتیں بڑھانے کے...!! اب تو جِس سے مِلتے ہیں فاصلوں سے مِلتے ہیں...!! دل کہاں بتائے گا، دل پہ کیا گُزرتی ہے...!! دل کے سِلسِلے جاناں، خاموشوں سے مِلتے ہیں...🙂
خاموشی توڑ کے اِک دن سبھی کِردار بولیں گے...!! سُنائی دے اگر تُم کو، دَر و دِیوار بولیں گے...!! اگر چُپ سادھ بھی لُوں میں مُجھے اِتنی سہولت ہے...!! میری غزلیں، میری نظمیں، میرے اشعار بولیں گے...!! کبھی جو پِھر مِلیں دونوں چِھڑیں گے پِھر نئے قِصے...!! کبھی کُچھ کام کی باتیں، کبھی بیکار بولیں گے...!! اِنہیں تُم لاکھ سمجھا لو مگر سمجھا نہ پاؤ گے...!! جہاں بیٹھے تھے ہم مِل کر، وہی اشجار بولیں گے...🙂🖤