مقتل میں موت رقص دیکھا ہے
رات خواب میں تیرا عکس دیکھا ہے
تو گیا تو سکون گیا میرے شہر سے
پھر اک اضطراب میں ہر شخص دیکھا ہے
ایک اور شام بیت گئی مگر تم نہیں آئے
اور پھر کچھ معاملات خدا کی عدالت میں پیش ہو جاتے ہیں
دفنائے جاتے ہم اب بھی بغیر کفن کے
میں کس منہ سے کہوں آزادی مبارک
کشمیری
آزاد ہے اب تو دنیا ..پھر میں کیوں آزاد نہیں ..
کشمیری
ﺷﺎﻡِ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ
ﻏﻤﺰﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺷﺒﻨﻤﯽ ﻓﻀﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ