شب وصل ضد میں بسر ہو گئی
نہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئی
کچھ ابر کو بھی ضد ہے منظرؔ مری توبہ سے
جب عہد کیا میں نے گھنگھور گھٹا چھائی
مانا کہ زندگی میں ہے ضد کا بھی ایک مقام
تم آدمی ہو بات تو سن لو خدا نہیں
ابھی تو ضد ہے اسے راستہ بدلنے کی
وہ بہت روئے گا میری چاہتوں کے لیے
پتے برابر نکلے ضد کی بازی میں
وہ مغرور سرپھری, میں انا پرست
پتے برابر نکلے ضد کی بازی میں
وہ مغرور سرپھری, میں انا پرست
اتنے مجبور ہیں ہم اپنی انا کی خاطر
💔
ریزہ ریزہ بھی ہوئے اور بکھرے بھی نہیں
ڈھونڈتا پھرے گا در بدر مجھے..!!
وہ جسے اپنی انا پہ گمان بہت ہے۔
وہی ضد__وہی حسرت__نہ دردِ دل کو کمی ہوئی _
عجیب ہے محبت میری__نہ مل سکی نہ ختم ہوئی _
دل کے کسی گوشے میں رہ جاتے ہیں
کچھ لوگ بڑے ضدی ہوا کرتے ہیں..!
تجھے حیران کرنے کی ضد میں
😏
ہر غم پہ قہقہ لگایا ہم نے ....
ضد پر آ جاؤں تو پلٹ کر بھی نہ دیکھوں۔۔
💘💘
میرے صبر سے ابھی تم واقف ہی کہاں ہو!!!
مـــــــــدتوں کی چاہتـــــــــیں تھیں۔۔۔
💘
اک ضـــــــــد پر ختم ہوئـــــــــیں۔۔۔
💔
اجڑے ھوۓ دل کو آباد کرنے کی ضد نہ کر
اے_____زندگی
جلادیا ہم نے وہ دل جس میں مطلبی لوگ بسا کرتے تھے
'چلو ہم ضد نہیں کرتے کے ہمارا ہال پوچھو..
😊
تم خود کس حال میں ہو اتنا تو بتا دیا کرو...!😏
دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا
میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا
عورت عشق کی استاد ہے
🙄
وہی ہوا نہ تیرا دل بھر گیا ہم سے
میں نے کہا بھی تھا یہ محبت نہیں جو تم کرتے ہو
جو دل کے آئینے میں ہو وہی ہے پیار کے قابل
🔥🔥🔥
ورنہ دیوار کے قابل تو ہر تصویر ہوا کرتی ہے
گردشؤوں کے ہیں مارے ہوے نہ دشمنوں کے ستایے ہوے ہیں
🔥🔥🔥🔥
🔥🔥🔥🔥
جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پر دوستوں کے لگائے ہوے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain