نفرت کرتے ہو نہ مجھ سے تو اس قدر کرنا
.
.
کہ میں دنیا سے جاؤں اور تیری زبان پر لفظ شکر ہوں
ٹوٹ جائے گا تیری نفرت کا محل اس وقت
جب ملے گی خبر تجھ کو کہ ہم نے یہ جہاں چھوڑ دیا
مانا کہ ہم تیری محبت کے قابل نہیں ہیں
پر اتنی بھی نفرت نہ کرو کہ ہم جی نہ سکیں
میں تنہائی پسند نہیں ہوں ہاں مگر
بناوٹی رشتوں سے دم گھٹتا ہے میرا
جس پر زہر بھی اثر نہ کرے
.
.
تنہائی اسے بھی مار دیتی ہے
تنہایوں کا اک الگ ہی مزا ہے
.
.
اس میں ڈر نہیں ہوتا کسی کے چھوڑ جانے کا
مانا کے تم سے زیادہ دور ہو گیا ہوں میں
.
.
مگر تیرے حصے کا وقت آج بھی تنہا گزارتا ہوں میں