Damadam.pk
anusinha's posts | Damadam

anusinha's posts:

anusinha
 

"ہم دونوں ایک دوسرے کی ہر کیفیت سے واقف ہیں۔۔۔۔ یہ آذان تمہارے سامنے اور تم میرے سامنے کھلی کتاب ہو۔۔ مجھے لگتا تھا جیسے مجھے کچھ وقت لگے گا اس حقیقت کو ماننے میں مگر تم یقین کرو دانیہ کہ آج یوں ہے کہ جیسے مجھے تم سے ہی محبت تھی۔۔۔۔ شاید یہ اس نکاح کا اثر ہے یا پھر میرا، اللہ کی رضا میں راضی ہونے کا انعام۔۔۔۔۔میں خود کو بہت ہلکا اور پرسکون محسوس کر رہا ہوں۔۔۔میں بہت خوش ہوں کہ اس رب نے میرے لیے تمہیں چنا۔۔۔۔۔۔ آج اور ابھی سے میں اپنے ساری محبت، اپنا سارا اختیار تمہیں سونپنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اور وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں ہمیشہ وہ مان ، عزت اور محبت دوں گا جسکی تم مستحق ہو۔۔۔۔۔۔ " وہ تو جیسے دل تک مسکرائی تھی۔۔۔۔۔ آذان کا دھیمہ اور انوکھا سا پن تو اسے پہلے ہی متاثر کر چکا تھا۔۔۔رہی سہی کسر اس چہرے پر پھیلے نور اور روشنی نے پوری کی تھی۔۔۔۔

anusinha
 

وہ دونوں تو فل وقت شرارتی کپل تھا۔۔۔۔۔جو سب ہی کی توجہ کا مرکز تھا۔۔۔۔۔۔بہت حیسن ہے یہ سب کیونکہ یہ سارا کچھ وہاں اس آسمان پر ازل سے طے تھا۔۔۔۔اس رب نے ہر کسی کے زخموں کا مداوا کیا تھا۔۔۔۔۔۔کیوں نہ کرتا۔۔۔۔وہ اپنے پیاروں کو زیادہ نہیں آزماتا۔۔۔۔۔
◇◇◇
"آج میری ساری فکریں دور ہو گئیں۔۔۔ میرے دل کو قرار آگیا ہے۔ آذان اور تمہیں دیکھ کر یہ بوڑھی جیسے پھر سے جی اٹھی ہے" دانیہ کا چہرہ تھامے وہ مسکرا رہی تھیں۔۔۔۔دانیہ بھی خوش تھی۔۔ یہ خوشی ہی تو ہے جو بنا بتائے بھی اپنے ہونے کا پتا دیتی ہے۔۔۔ آذان بھی سامنے ہی صوفے پر بیٹھا تھا اور حبیبہ اور دانیہ سامنے بیڈ پر۔۔۔۔۔ کمرے میں بس ہلکی سی سجاوٹ تھی مگر وہ بھی بہت پیاری دیکھائی دے رہی تھی۔
"اللہ آپکا سایہ ہم پر سلامت رکھیں" دانیہ نے بھی دل سے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔ایک نظر آذان کو دیکھا

anusinha
 

وہ اپنے تمام بچوں کے چہروں پر پھیلی مسکراہٹ کی تاعمر دعا کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔مہران خوش تھے کہ وہ ہر ذمہ داری سے بری ہو گئے ہیں۔۔۔انکی کی گئی تربیت نے انکو کبھی بھی شرمندہ نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔۔۔۔نادیہ اور رضوان مطمئین تھے کیونکہ انکو آذان پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔۔۔وہ دانیہ کے لیے ایک بہترین چوائز تھا۔۔۔۔حبیبہ کی تو جیسے آنکھیں اور دل دونوں مسکرا رہے تھے۔۔۔ رب نے انکے بچے کو کیا خوبصورت مرہم عطا کیا تھا۔۔۔۔۔سٹیج تو جیسے انہی تین پریوں سے جگمگا اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔تینوں دلہے بھی اپنے اپنے پہلو میں کھڑی ان شہزادیوں پر فدا ہوتے دیکھائی دیے تھے۔۔۔۔ارحم صاحب نے اپنے ٹیب اور سیل میں پکس کی لائن لگا دی تھی۔۔۔دائم تو باقاعدہ عجیب عجیب شکلیں بنائے پوز بنا رہا تھا اور اپنے ساتھ کرائم پارٹنر۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے لائف پارٹنر کو بھی ملا چکا تھا۔۔۔۔

anusinha
 

گرین اینڈ براون شیڈ دیتا ہوا بھاری لہنگا اور وہ ساحرہ۔۔۔۔ جسکی نیلی آنکھوں کا عکس ہر سو ستارے سے اجاگر کیے تھے۔۔۔ ہر سو خوشبو کے رنگ بکھیر رہا تھا۔۔۔اور اسکے ساتھ قسمت کا سکندر۔۔۔۔۔۔۔خاص الخاص محبت کا پیکر حنوط مرتضی بلیک تھری پیس اور وائٹ شرٹ۔۔۔۔سب کی ڈریسنگ ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھی۔۔۔۔۔۔۔ یہی تو چارم تھا۔۔۔۔دلکشی تھی۔۔۔۔مہر بھی رضی کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔۔اسکے چہرے پر جو خوشی تھی شاید وہ اتنی سچئ تھی کہ اسکا اندازہ لگانا ناممکن تھا۔۔۔۔آخر مینو کی ،زندگی کا ایک کٹھن سفر ختم ہو کر اسکی پرسکون سی منزل تک جا پہنچا تھا۔۔ماہین اور رزاق بھی مسکرا رہے تھے۔ارحم کی پرجوشی تو کمال کی تھی۔۔۔ایک ساتھ تین تین دلہے اور تین تین دلہنیں دیکھ کر وہ کافی پرجوش تھا۔۔نادیہ، رضوان، مہران اور حبیبہ کے چہروں پر لازوال سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔۔۔

anusinha
 

اب دانیہ نے ان دونوں کیوٹ سی لہنگوں والی دلہوں کو خود سے لگا لیا تھا۔۔۔۔۔سب ایک دم مکمل اور حسین تھا۔۔۔۔۔۔
◇◇◇
حمدان حویلی اپنی پوری شان و شوکت سے جگمگا رہی تھی۔۔۔۔غموں نے الوداع کہہ دیا اور خوشیاں ہر جانب رقصاں تھیں۔۔۔۔ دانیہ اور نیلم کا نکاح بہت خوبصورتی سے طے پایا تھا۔۔۔۔۔میرون بہت ہی بھاری کام والے لہنگے میں دانیہ کا حسن تو جیسے آسمان کو چھو رہا تھا۔۔۔۔اور اسکے ساتھ بیٹھا نیلی آنکھوں والا شہزادہ بھی کالی اور گولڈن شیروانی میں غضب ڈھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ پرپل کلر کا اسی انداز کا بھاری لہنگا جس نے نیلم کو خود میں قید کر رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔ یوں جیسے کوئی دلکشی کا شہکار تھی وہ۔۔۔۔۔ اور دائم صاحب تو آج کسی سلطنت کے ولی عہد معلوم ہو رہے تھے۔۔۔ سفید سوٹ پر پرپل ہی واسکٹ پہنے۔۔۔۔۔۔۔پھر جیسے ہر منظر ساکت ہوا تھا۔۔۔۔

anusinha
 

کیوں مینو۔ بتاو ان ہڈیوں کو۔۔۔۔وہ میرا مطلب ہے ان لڑکیوں کو" زبان پھسلنے پر دانیہ بھی ہنسی تھی۔۔۔۔مینو تو سر جھکائے بس دبی دبی ہی ہنس رہی تھی۔۔۔۔۔دائم کی انٹری ہو اور کچھ نہ ہو ایسا ناممکن ہے۔۔۔
"یہ میری گناہ گار آنکھیں کیا ملاخظہ فرما رہی ہیں۔۔۔یہ دونوں مجرم ایک ساتھ وہ بھی دائم صاحب کی چوبیس گھنٹے کی فل سیکورٹی کے باوجود" دائم تو کان پر ہاتھ لگائے آنکھیں پھاڑے تھا جبکہ باقی سب اب ہنس رہے تھے۔۔۔
"بچو تجھ سے تو حساب لوں گا پورا اس ظلم کا۔۔۔۔۔۔ " حانی تو باقاعدہ اسے دبوچ چکا تھا جو اب مسکین شکل بنائے دانتوں کی نمائش میں تھا۔۔۔۔حانی کی نظریں تو ابھی بھی مینو پر تھیں۔۔۔۔ پیاری ہی اتنی لگ رہی تھی تو کیا کرتا۔۔۔۔۔
"چلو دائم لے کر نکلو اسے۔۔۔۔۔" دانیہ کا ظلم تو اب واقعی بہت تھا۔۔۔ بچارے کو مسکین شکل بنائے آخر جانا ہی پڑا۔۔۔۔

anusinha
 

اب تو وہ شرارت لیے اپنا چہرہ اسکے کندھے پر ٹکائے بولا جو خود کو ہی کوسنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
"آہمممم اہمممم۔۔"۔۔ پیچھے کسی آواز پر حانی فورا اسے گرفت سے نکالے سیدھا ہوا۔۔۔۔۔ چہرے پر شرارت ویسی ہی تھی جبکہ مینو تو بس زمین میں گڑھ جانے والا پوز دے رہی تھی۔۔۔ سامنے ہی مہندی کے جوڑوں میں کھڑی نیلم اور دانیہ اب حانی کو گھور رہی تھیں۔۔۔۔
"دائم کو کہو ڈنڈا لے آئے۔۔۔ ہم حانی کی دوسری ٹانگ بھی ٹھیک کرتے ہیں" دانیہ تو فل مستی میں تھی مگر اگلے ہی لمحے وہ سب مسکرا دیے۔۔۔۔
"کیوں بھئی۔۔۔صبر نہیں ہے تم میں۔۔۔۔ کیا حانی ایک دن تو رہ گیا ہے۔۔۔چلو نکلو شاباش" اب تو حانی کو وہ دونوں بھی دشمن اور کباب کی بڑی والی ہڈیاں لگی تھیں۔۔۔۔حانی بھی فل بلیک میں آفت ہی مچا رہا تھا۔۔۔کیونکہ چہرے کی خوشی اور شوخی بھی اضافی تھی۔۔۔
"ہم تو بات کر رہے تھے ایک بہت ضروری۔۔

anusinha
 

میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔ دل سے۔۔۔ میرا عمل تمہاری زندگی میں بہت سی تکلیف لایا مگر اسکا اینڈ فائنلی مینال مرتضی کی حقیقی خوشی پر ہوا۔۔۔۔۔تھینکس ٹو اللہ ۔۔" عادی بھی آج اپنی سچی مسکراہٹ لیے تھا۔۔۔اور وہ بنا دیکھے بھی اسکا وہ مطمئین چہرہ ایمیجن کر سکتی تھی۔۔۔
"تھینک یو عادی۔۔۔۔مجھے ہمیشہ سمجھنے کے لیے۔۔۔ مجھے کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑنے کے لیے۔۔۔ میرا مان پورے دل سے نبھانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔اور میرا دوست ہونے کے لیے۔۔۔۔ " وہ یوں رو رہی تھی کہ جیسے آج بھی خوشی اسے ہلکان کر گئی ہو۔۔۔۔ دوسری سمت عادی کی بھی آنکھ نم سی ہوئی۔۔۔۔
"آل تھینکس گوز ٹو یو مسز حنوط مرتضی۔۔۔۔۔ جیتی رہو۔۔۔۔ " پھر جیسے وہ اپنے سامنے کھڑی خوبصورت سی ریڈ ساڑھی میں ملبوس حرا کا ہاتھ تھامے مسکرایا تھا۔۔۔۔
"ھاھا دونوں بولو" وہ جانتی تھی وہ اسکے آس پاس ہوگی۔۔

anusinha
 

"میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید اب کبھی تم سے بات نہیں کر پاوں گا" فون کان سے لگائے وہ باہر کا اندھیرا دیکھ کر مسکرائی تھی۔ عادی کے چہرے کی اداسی بلکل ویسی ہی تھی۔۔۔
"کیوں۔۔۔۔۔ اس مینو کی خوشی میں اسکا ساتھ نہیں دینا کیا۔۔۔۔۔ جب تم نے مجھے میرے دکھوں میں نہیں چھوڑا تو اب میں اپنی اور تمہاری خوشی میں تمہیں کیسے بھول جاتی عادی" عادی کو لگا جیسے وہ کوئی اور ہی مینو ہے۔۔۔۔جسکی آواز میں آج ایک خوشبو سا احساس ہے۔۔۔
"مجھے معاف کر دو مینو۔۔۔۔لیکن میری نیت بس تمہاری خوشی تھی" عادی سنجیدہ تھا اور وہ خوش تھی۔۔۔۔
"تو تمہاری نیت پوری ہو گئی عادی۔۔ مجھے حانی مل گئے۔۔۔ پورے" وہ اپنی خوشی پر آنکھیں نم محسوس کرتی ہوئی مسکرائی۔۔۔اور دوسری طرف بھی وہ جیسے جی سا اٹھا۔۔۔۔اللہ نے اسکو شرمندہ ہونے سے بچایا تھا۔۔۔
"یو ڈیزرو حانی۔۔۔۔۔۔اور وہ بھی۔۔۔

anusinha
 

دانیہ کے چہرے کا اطمینان پہلی بار مینو کو پرسکون کر گیا تھا۔۔۔۔اور وہ ہوئی بھی تھی کیونکہ جتنی وہ حساس اور خود اپنی ہی خوشی پر اداس ہونے والی تھی، اسے سبکے چہرے بخوبی پڑھنے آتے تھے۔۔۔۔نادیہ اور رضوان ہلکے سے اداس سے لگتے تھے پر وہ دعا کر رہی تھی کہ وہ دونوں دانیہ اور دائم کی ہزاروں خوشیاں دیکھیں۔۔۔۔ مہران تو جیسے اپنی ہر ناانصافی اور تکلیف سے بری الزمہ ہو چکے تھے۔۔۔۔دل تک اپنے بچوں کی خوشیاں انکو پرسکون کر گئی تھیں۔۔۔۔۔ پیلے اور سرخ رنگ کا بہت نفیس مہندی کا لہنگا پہنے وہ کھڑکی کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔پھر جیسے فون سے عادی کا نمبر ملایا۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی تو اسکا مددگار تھا۔۔۔۔۔۔شاید سب سے اچھا دوست۔۔۔۔۔۔وقت آگیا تھا کہ وہ اسے اس پچھتاوے سے آزاد کر دیتی کہ وہ مینو کے ساتھ غلط کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔ دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔۔۔۔

anusinha
 

ایک سے بڑھ کر ایک خوشی نے جیسے مینو کے سارے دکھ خود میں جذب کر لیے تھے۔۔۔۔۔اس پورے ہفتے میں سب نے ہی اسے بہت محبت سے اس فیصلے کا یقین دلایا تھا۔۔۔۔۔حانی کا اس تک پہنچنے کی کوششیں دیکھ کر وہ دل سے ہنستی رہی۔۔۔گو کہ دو ہونہار پیار کے دشمنوں یعنی نیلم اور دائم نے کوششوں میں کوئی کامیابی آنے نہ دی تھی پر پھر بھی وہ ہر طرف بس مسکراتا ہوا دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھتا ہوا۔۔۔۔جیسے وہ بھی اس خوبصورت یقین کو اپنے انگ انگ میں اتار رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔آذان کے چہرے کی خوشی نے مینو کو بہت مطمئین کیا تھا۔۔۔ کیا جان پاتی کہ وہ تو اللہ کا نیک بندہ تھا اور دانیہ کو انعام کے طور پر ملا تھا۔۔۔مگر اتنا ضرور جانتی تھی کہ دانیہ اسے ضرور کسی بڑی نیکی کے بدلے مل رہی ہے۔۔ دائم اور نیلم کے چہرے کی ازلی مسکراہٹ تو پہلے سے کئی گنا بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

anusinha
 

وہ رب ہے۔۔۔۔۔ زخم دیتا ہے تو مرہم بھی عطا کرتا ہے۔۔۔۔۔سب کے زخموں کا مرہم عطا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔سب کے چہروں پر ایک ایسی خوشی تھی جو مکمل اور دلکش تھی۔۔۔۔جو طویل تھی۔۔۔ جو دلنشیں تھی۔۔۔۔۔۔۔یہ پورا ہفتہ تو شاید وہ اپنی اس خوشی پر ایمان لاتے لاتے گزار رہی تھی۔۔۔۔ہاں۔۔۔خود کو یہ یقین دلانا کتنا خوبصورت تھا کہ حانی اسکا تھا۔۔۔۔۔۔گھر میں ایسی سجاوٹ کی جارہی تھی کہ گویا کبھی پہلے نہ دیکھی گئی ہو۔۔۔۔۔دائم اور نیلم کو تو بہت اہم کام سونپا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مینو اور حانی کی پہرہ داری کا۔۔۔۔یہ بھی بہت مزے کا تھا۔۔۔۔۔وہ جیسے ہی آمنے سامنے ہوتے تو یا تو دندناتا ہوا دائم بیچ میں آجاتا تو کبھی نیلم ، شرارتی انداز میں مینو کا ہاتھ پکڑے دوڑ جاتی۔۔۔۔۔وہ تینوں ہی پورا ہفتہ مایوں کے کپڑوں میں ایک ہی ریاست کی ملکہ بنی رہیں۔۔۔۔

anusinha
 

چھوڑو بھی ہاتھ۔۔۔۔۔۔ ایک ہفتے بعد یہ پورے حق کے ساتھ تمہیں سونپی جائے گی۔۔۔تب تک تم اسکے پاس بھی بھٹکے تو دوسری ٹانگ کی حیریت منا لینا" دانیہ تو اب اسے ڈان ہی لگی تھی۔۔۔۔۔اور وہ تو بچارا ہفتے کا سن کر منہ کھول چکا تھا۔۔۔۔۔
"اففففف مجھ پر اتنا ظلم" حسرت سے مینو کا ہاتھ چھوڑے وہ آہ بھرتے بولا تھا۔۔۔۔مینو کی روئی آنکھیں تو ابھی بھی بے یقینی سے حانی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔
"ہاں بھئی ظلم ہی سمجھ لو۔۔۔اور ہاں میں دائم کو بجھواتی ہوں۔۔۔ تم کو واک وغیرہ کروائے۔۔۔۔ یہ نہ ہو جم جاو یہیں۔۔ ایک ہفتے میں دوڑیں لگانا شروع کر دو بس تم" دانیہ کی بات پر وہ بھی شرارت سے ہنسا تھا۔۔۔۔۔۔مینو کو خود سے لگائے وہ باہر نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔ حانی بھی بہت دن بعد کافی پرسکون انداز میں مسکرایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
◇◇◇

anusinha
 

اور وہ پیپرز بھی اسی نے پھاڑے تھے۔۔۔۔یہ سارا پلین بھی اسی کا تھا۔۔۔۔۔ یعنی سب نے مل کر ہمیں ایک دوسرے کا عمر بھر پابند کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ اب یہ میرے بندھے ہاتھوں کا واسطہ ہے تمہیں۔۔۔یہ اپنا خوفناک رونا ختم کر دو" شروع تو حانی نے بہت دھیمے سے کیا تھا پر آخری بات پر تو بچارا ہاتھ جوڑ گیا تھا۔۔۔۔دانیہ بھی ہنس رہی تھی۔۔۔
"ہمممم۔۔۔۔۔ مجھے رونا آرہا ہے" اب تو حانی نے باقاعدہ اپنا سر تھام لیا تھا۔۔۔۔۔دانیہ بھی مسکراتی ہوئی اٹھ گئی۔۔۔۔
"چلو مینو" دانیہ اسکا ہاتھ پکڑے اسے اٹھا چکی تھی مگر حانی نے مینو کا ہاتھ پکڑے یوں دیکھا جیسے دانیہ اسکی کوئی چیز چرا رہی تھی۔۔۔
"یہ اب تم بھی ظلم نہیں کر رہی دانیہ" حانی نے مسکین شکل بنائے اس رو کر آنکھیں سجائے کھڑی مینو اور پھر دانیہ کو دیکھا۔۔۔
"بھئی ایک ہفتے تک تم اس سے بلکل دور رہو گے۔۔۔

anusinha
 

تو کسی صورت رونا بند نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
"دانیہ آپکی خوشی کا کیا۔۔ میں آپکو دکھ دے کر نہیں جی سکتی۔۔۔۔۔ پلیز مجھے مزید تکلیف سے دوچار مت کریں۔۔۔" وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔اب تو دانیہ بھی پریشان تھی۔۔
"مینو۔۔۔۔۔یہاں آو۔۔۔۔۔۔دانیہ اسکا ہاتھ دینا مجھے" حانی سے بھی اب اسکا یہ فضول رونا برداشت نہیں تھا۔۔۔۔دانیہ اسکا ہاتھ پکڑے حانی کو دیتی خود بھی ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔اور وہ اس رونی صورت کو اپنے سامنے بیٹھائے ہنس دیا۔۔۔۔ مینو کی سرخ آنکھوں کا غصہ عروج پر گیا۔۔۔۔اب کی بار تو دانیہ نے بھی ہنسی ضبط کرنی ضروری نہیں سمجھی تھی۔۔۔
"آپ دونوں بہت برے ہو۔۔۔" روتی صورت سے وہ دونوں کو ہنستا دیکھ کر بولی تھی۔۔۔۔دونوں ہی کی ہنسی ڈبل ہوئی۔۔۔
"مجھے معاف کر دو۔۔۔ میں نے تمہیں سب جانتے ہوئے بھی بہت تنگ کیا۔۔۔۔میں چاہتا تھا کہ یہ دانیہ تمہیں خود بتائے۔

anusinha
 

۔۔۔۔۔۔جو بات سوچنا تک خواب تھا وہ اسکی آنکھوں کے سامنے حقیقت بنی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دانیہ۔۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔پلیز مزاق مت کریں۔۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتیں۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔میرے لیے آپ ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔ آپ کیسے؟ افففففف نہیں" وہ پاگل ہو رہی تھی۔۔۔اور وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ اس پاگل کا یہی ریکشن ہونے والا ہے۔۔۔۔
"مینو۔۔۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔" اسے بمشکل قابو کیے وہ اسکی بازو پکڑے بولی تھی۔۔۔اور وہ بہت برا رو رہی تھی۔۔۔اتنا کہ حانی بھی پریشان ہو چکا تھا۔۔۔۔
"مینو یہ سب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب میرا کمال نہیں ہے۔۔۔۔ یہ تمہارا انعام ہے میری جان۔۔۔۔ خود کو تکلیف دینا ختم کر دو۔۔۔ اب کسی سے بھی تمہاری زرا سی اداسی تک نہیں دیکھی جائے گی۔ یہ لمحہ خوشی کا ہے۔۔۔رب کی شکرگزاری کا ہے کہ اس نے ایک ایسا فیصلہ دیا ہے جو سبکے درد اور دکھ مٹا گیا ہے

anusinha
 

حانی صرف تمہارا ہے۔۔۔۔۔ میرا اور حانی کا رشتہ ازل سے دوستی کا تھا اور وہی رہے گا۔۔۔اب میں اسکے نکاح میں بھی نہیں ہوں۔۔ یعنی یہ پورے کا پورا صرف تمہارا ہے" مینو کو لگا کمرے کی چھت اس پر آن گری ہے۔۔۔۔۔۔دل رک ہی تو گیا تھا۔۔۔۔۔آنکھیں اس حقیقت نے ایک بار پھر نم کیں۔۔۔۔بے یقینئ اور دکھ سے وہ حانی کی سمت دیکھ رہی تھی جو بدلے میں محبت سے دیکھتا ہوا سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
"نہیں۔۔۔روک لو ان آنسووں کو۔۔۔۔میری رخصتی کے لیے۔۔۔۔ کل ہم سب کی زندگیاں بدل گئیں۔۔۔۔حانی کو اسکی شہزادی مل گئی اور دانیہ کو اسکے شہزادے تک پہنچا دیا گیا۔۔۔۔ہاں پوری خوشی کے ساتھ دانیہ نے تمہیں تمہارا حانی بنا کسی خیانت کے لوٹا دیا۔۔۔۔۔ " وہ مینو کو خود سے لگائے مسکرائی تھی اور وہ تو اس سب کو ایک خواب سمجھ رہی تھی۔۔۔۔یہ سب کیا تھا۔۔۔۔۔اسکا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔۔

anusinha
 

مینو۔۔۔۔ تم کو پتا ہے میرا دل چاہ رہا ہے میں تمہیں بہت سارا ڈانٹوں۔۔۔۔۔۔ تم نے تو ہر چیز میں دانیہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔لیکن تم بھول گئی تھی کہ جتنی محبت تم مجھ سے کرتی ہو، اس سے لاکھ گنا یہ دانیہ تم سے کرتی ہے۔۔۔۔بارہا کہا کہ تم میری جان ہو۔۔۔۔۔تو پھر میں اپنے ہاتھوں سے اس جان کو کیسے تکلیف دیتی۔۔۔۔ سارے حق اور فرض نبھا لیے تم نے۔۔۔۔۔۔ بلکے انکو نبھانے میں ہر حد بھی پار کرتی گئی۔۔۔پگلی۔۔۔۔خود بھی تکلیف سہی اور اسے بھی نڈھال کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔اور مجھے اتنا سارا مان دیا۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں ساری زندگی تمہارے سامنے نظریں جھکائے رہوں نا تو تب بھی تمہاری محبت کا قرض نہیں اتار سکتی۔۔۔۔۔۔ " مینو کا چہرہ تھامے دانیہ محبت سے بول رہی تھی اور وہ تو جیسے اپنی جگہ پر پتھر بن چکی تھی۔۔۔حانی بھی مسکرا کر دونوں سہیلیوں کا یہ پیار دیکھ کر انجوائے کر رہا تھا

anusinha
 

مجھے اور میری معافی کو قبول کر لیا۔۔۔۔ میرے دل سے تمام حسرتیں نکال دیں تو نے مولا۔۔۔۔۔میں تو ساری زندگی تیرے آگے سجدے میں بھی گزار دوں تو اس ہدایت کا حق ادا نہ ہوگا۔۔۔۔۔تو اس بندے کو بھی بخش دے۔۔۔۔۔۔ وہ تیرا وسیلہ تھا اسی کے صدقے اسے بخش دے۔۔۔۔۔۔۔" آذان کی آنکھیں ایک بار پھر شکرگزاری نے نم کی تھیں۔۔۔۔۔۔
"میرے دل کو بھی اب دانیہ کی طرف پھیر دے۔۔۔۔۔ اور مجھے یہ رشتہ پوری ایمانداری سے نبھانے کی توفیق دے۔۔۔۔۔" خود میں وہ آج صرف سکون ہی سکون اترتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔پھر جیسے آذان کے چہرے پر ایک مطمئین مسکراہٹ سی پھیلی تھی۔۔۔شکر گزاری۔۔۔۔ اللہ کی رضا۔۔۔۔۔ سکون۔۔۔خوشی۔۔۔سب مل گیا تھا۔۔۔۔ یہی تو رب کے فیصلوں پر راضی ہونے کا انعام ہے۔۔۔۔ہماری سوچ سے بھی پیارا۔۔۔۔ہماری توقع سے بھی پرسکون۔۔۔۔۔۔
◇◇◇

anusinha
 

میری باری ہے اب" اگلے ہی لمحے مینو کا چہرہ تھامے وہ حانی کو مسلسل چپ ہونے کا بولی تھی جو فرمابرداری سے سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔
◇◇◇
"یہاں ایک بوڑھا آدمی اور اسکا ایک بیٹا تھا۔۔۔۔کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں وہ کہاں گئے" آذان اسی فٹ پاتھ پر کھڑا تھا۔۔۔سامنے نہ وہ آدمی تھا نہ اسکا کوئی نشان۔۔۔پاس ہی ایک سبزی والے سے وہ پوچھ رہا۔۔۔۔۔
"وہ جسکا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا؟" آذان نے فورا سر ہلایا۔۔۔تھری پیس میں ہمیشہ کی طرح دھیمے انداز سے وہ سر ہلا رہا تھا مگر پھر جیسے اسکے چہرے پر فکر سی ابھری۔۔
"جی وہی" آذان نے سر ہلاتے پوچھا۔۔
"اسکا تو کچھ دن پہلے یہیں انتقال ہو گیا ہے" آذان کو لگا جیسے وہ وہیں جم سا گیا ہے۔۔۔اسکا رنگ فق ہو چکا تھا۔۔۔آتی جاتی گاڑیوں کا شور اسے سنائی دینا بند ہو گیا تھا۔۔۔۔
"کیا۔۔۔اچھا اسکا جو بیٹا تھا" آذان نے دکھ اور حیرت میں ڈوبے پوچھا