Damadam.pk
anusinha's posts | Damadam

anusinha's posts:

anusinha
 

دانیہ۔۔۔۔آپ نے ایسا کیوں کیا۔۔۔لاک کیوں کیا" دانیہ نے ٹرے رکھی تو مینو اسکی جانب لپکی۔۔آنکھوں میں ننھے ننھے موتی لیے وہ دانیہ کے ساتھ لگ گئی۔۔۔
"میری جان۔۔۔۔۔۔کیا اس بت تمیز نے پھر سے تم کو تنگ کیا ہے۔۔۔ اسکی تو خبر لیتی میں۔۔۔۔۔اور لاک اس لیے لگایا تھا کہ تم دونوں آرام سے بات کر سکو۔۔۔اور فیصلہ کر سکو کہ آخر کیا ہونا چاہیے" دانیہ اسکو الگ کیے اسکا چہرہ تھامے تھی۔۔۔۔حانی بھی اب مطمئین سا دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
"تنگ تو اس نے کیا مجھے۔۔۔اففف میری کمر ٹوٹ گئی۔۔ ساری رات اسکی وجہ سے بیٹھا رہا۔۔۔ایک بار جھوٹے منہ بھی نہ کہا کہ حانی آپکی طبعیت خراب ہے پلیز لیٹ جائیں" اب تو مینو منہ اور آنکھیں کھولے حانی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی جبکہ دانیہ ایک بار پھر ہنسئ ضبط کر گئی۔۔۔۔
"تمہاری یہی سزا ہونی چاہیے۔۔میں تو کہتی ہوں

anusinha
 

حانی کی زندگی اسے لوٹا دو۔۔۔۔۔وعدہ کرو کہ مجھے خود سے کبھی الگ نہیں کرو گی۔۔۔۔ میں اب صرف تمہارا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔اور میں سچ میں اب صرف تمہارا ہوں" وہ اسے ایک بار پھر کمزور اور بے یقین کیے اسکے دونوں ہاتھ ہونٹوں سے لگائے اعتراف کر رہا تھا۔
"کیا۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں۔۔آپ مکر نہیں سکتے حانی۔۔۔ آپ دانیہ۔۔۔" وہ ہاتھ سے اسے خاموش کروا چکا تھا۔۔۔۔وقت آگیا تھا کہ وہ مینو کی یہ تکلیف مٹا دیتا جو اسکی آنکھیں خشک ہونے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔مینو اپنے ہاتھ چھرائے کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔حانی نے ایک سرد نظر مینو کی اس حرکت پر ڈالی۔۔۔۔۔دانیہ مسکراتے چہرے کے ساتھ تین کپ چائے لیے اندر آچکی تھی۔۔۔۔۔۔مینو کو یوں کھڑا دیکھ کر اسے ہنسی ضرور آئی تھی پر وہ ضبط کیے ہوئے حانی کو گھور رہی تھی جو ابھی تک اداس سا منہ بنائے تھا۔۔۔۔۔

anusinha
 

نظر تو اس شخص کی خود پر پڑنا اسے پرسکون کر رہا تھا مگر وہ ابھی بھی اتنی ہی بے حس اور مجبور تھی۔۔
"دور مت جاو۔۔۔مینو میرے ساتھ رہو کچھ اور دیر" وہ التجاء کر رہا تھا اور وہ رد کر دینا چاہتی تھی۔۔حانی نے دیکھا کہ اسکی آنکھیں نم ہیں۔۔۔۔۔
"حانی میں نے اپنی شرط پوری کی ہے۔۔۔۔اب مجھ پے رحم کیجئے۔ میں آپکو آپکا اظہار دے چکی ہوں اب مجھے میری رہائی دے دیں" وہ بھی نظروں میں التجاء لیے تھی۔۔۔۔حانی نے اسکے دونوں ہاتھ تھامے اور اسکی جانب رخ موڑ کر بیٹھا۔۔۔ساری رات یوں نیم دراز بیٹھے رہنے کی وجہ سے اب اسکی ٹانگ بھی شدید درد کر رہی تھی لیکن اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔
"تمہیں رہائی دے دی تو مر جاوں گا۔۔۔۔۔ مجھ سے کبھی دور مت جانا مینو۔۔۔۔میری محبت صرف تمہارے لیے ہے۔۔۔۔تم نہیں تو میں اس لفظ تک سے ناآشنا ہوں۔۔۔۔تم ہو تو میری بہار ہے۔۔۔

anusinha
 

ورنہ وہ تو ایک عمر سے خود کو مینو کا کر چکا تھا۔۔۔۔۔اپنا سب کچھ صرف مینو پر لٹانے کا خواہش مند تھا وہ۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی اپنی حد پار نہیں کی تھی۔۔۔۔۔محبت میں زبردستی تو ہوتی ہی نہیں۔۔یہ تو دل کی رضا کا معاملہ ہے۔۔۔۔۔حانی بھی اسے پانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ بس اسکی رضا اپنے نام چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔اسے اپنا بنانا چاہتا تھا۔۔۔۔ ورنہ وہ کیا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ ایک بااختیار اور حق رکھنے والا ہو کر بھی مینو کو کسی قسم کی تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکا تھا۔۔۔۔۔۔۔اب وہ ایسے شخص سے کیسے جدا ہو جائے۔۔۔۔؟ دل تو خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔پھر وہ چونکی کیونکہ حانی بھی آنکھیں کھولے اسکی جانب متوجہ تھا۔۔۔یک دم وہ ہڑابڑا کر اسکی گرفت سے نکلتی ہوئی سیدھی ہوئی اور اگلے ہی لمحے بیڈ سے اٹھ کر جانے لگی مگر وہ اسکی بازو پکڑے دوبارہ بیٹھا گیا تھا۔۔۔۔۔

anusinha
 

دیکھا تو وہ واقعی آنکھیں بند کر چکا تھا۔۔۔۔مگر بازو کی گرفت میں زرا کمی نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔پھر ناجانے کب مینو کی بھی آنکھ لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب ساتھ ہی ایسا پرسکون ہو تو نیند آنی تو طے تھی۔۔۔۔۔دونوں ہی دیوانے لگ رہے تھے۔۔۔۔۔معصوم سے دو پاگل۔۔۔۔۔۔۔
◇◇◇
سورج کی کرنیں پردوں کو چیرتی ہوئی انکے چہرے پر پڑھ رہی تھیں۔۔۔۔حانی کے کندھے سے لگی وہ ابھی تک اسکی بازو کی گرفت میں تھی۔۔۔۔۔شاید آج دونوں پر ہی نیند بہت دنوں بعد یوں مہربان ہوئی تھی۔۔۔۔۔سامنے گھڑی دس بجا رہی تھی۔۔۔۔۔۔دونوں جس انداز سے بیٹھے بیٹھے نیم دراز تھے ابھی تک وہی انداز تھا۔۔۔ہاں اب مینو کا ہاتھ حانی کے سینے پر دھرا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ جیسے آج کسی حسیں خواب سے جاگ رہی تھی۔۔۔۔۔نظریں کھل سی گئیں۔۔۔۔ سامنے گھڑی منہ چراتی ہوئی دس بجا رہی تھی۔۔کمرے میں کھڑکی کے اطراف سے آتی روشنی نے

anusinha
 

تجاوز نہ ہوگی" سر حانی کے سینے پر دھرے اب وہ وعدہ والی بات پر ایک بار پھر ساکت ہوئی۔۔۔
"ہمممم۔۔۔۔۔ آپ سو جائیں حانی۔ یہاں تو میں سونے کا رسک نہ لوں کبھی بھی" دل میں اس بندے کو دہائی دیتی ہوئی وہ بولی تھی اور وہ بڑے دلکش انداز میں مینو کا جھکا چہرہ دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔ اپنی بازو مینو کا حصار بنائے ہوئے وہ کتنا مطمئین تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ اب اسکی تھی۔۔۔۔۔۔۔دل تو بس سجدے میں تھا۔۔۔۔اور وہ بھی بیٹھے بیٹھے ہی اس شخص کو ساری رات کوسنے ہی والی تھی۔۔۔ جو اسے خوامخواہ خود سے لگائے نیم دراز تھا۔۔۔۔۔۔دل میں یہی سوچ رہی تھی کہ شاید یہ بھی وہ غلط کر رہی ہے۔۔۔۔۔لیکن دل تو اسکا حانی کے سینے پر سر رکھ کر یوں شادماں تھا۔۔۔۔وہ اسکی ڈھڑکن کی دھک دھک بھی سن سکتی تھی۔۔۔اسکے پرفیوم کی مہک تو اسے ہلکی سی سمائیل دے رہئ تھی۔۔۔۔۔۔۔نظر اٹھا کر حانی کی سمت دیکھا

anusinha
 

یہاں آو۔۔۔۔۔۔ " اب وہ اسے اپنی دوسری طرف بیڈ پر بلا رہا تھا۔۔۔مینو تو ساکت ہو چکی تھی۔۔۔۔
"نہیں۔۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔پلیز حانی" وہ التجاء کر رہی تھی۔
"ارے پاگل یہاں آکر میری کمر پر خارش کر دو یار۔۔۔۔ ہاتھ نہیں پہنچ رہا۔۔۔۔۔۔۔" یک دم جیسے وہ ہاتھ کمر پر پھیرتے منہ بنائے بولا تو مینو کا منہ دیکھ کر اب تو اسے واقعی لگا جیسے بدلا پورا ہوا۔
"یہ بندہ آج میرا ہارٹ فیل کروائے گا" منہ میں غصے سے بڑبڑاتی ہوئی وہ اٹھی اور جیسے ہی بیٹھی تو حانی نے اسکی بازو کھینچی ۔۔۔۔۔سیدھی وہ حانی کے ساتھ جا لگی۔۔۔۔سر اٹھائے آنکھ میں شرارت لیے دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
"بس یہ ہے اصل جگہ۔۔۔۔۔۔ آج مجھے یہ شرف دے دو کہ میں کم ازکم کچھ دیر تمہارے ساتھ یہ وقت اپنی یاداشت میں بھر لوں۔۔۔وعدہ کہ کوئی لمنٹ تجاوز نہ ہوگی" سر حانی کے سینے پر دھرے اب وہ وعدہ والی بات پر

anusinha
 

"حانی۔۔۔۔۔کرتی ہوں۔۔۔۔۔ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔۔" اب کی بار وہ خود حانی کا ہاتھ پکڑے ہوئے بولی تھی اور اسکی آنکھیں نمئ سے تر تھیں۔۔
"مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں نے آپکو بہت تکلیف دی ہے۔۔لیکن حانی میں مجبور ہوں۔ آپ مینو کی جان ہیں۔۔۔۔۔ آپکو دینے والی ہر تکلیف پہلے میں نے جھیلی ہے۔۔۔۔میں آپ سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔سن رہے ہیں ناں۔۔۔۔۔ " حانی تو سنجیدہ تھا اور وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیے سختی سے بولی تھی۔۔۔۔۔
"اور کرو۔۔۔۔کرتی جاو" اب تو مینو بھی ساکت سی ہوئی۔۔۔مینو نے ہاتھ ہٹا دیے۔۔۔کیونکہ وہ بہت خطرناک سی سنجیدگی لیے تھا۔
"بس یہی۔۔۔۔۔اب مجھے جانے دیں" وہ رخ پھیر کر بولی تو جیسے اب کی بار وہ پوری کی پوری حانی کی بازووں کی قید میں تھی۔۔۔۔ٹانگ کے درد کے باوجود وہ پوری شدت سے اسے خود سے لگا چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

anusinha
 

اب بولو بھی" وہ تو جیسے اس کو بھی خیانت ہی سمجھ رہی تھی۔
"حانی مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہا" اب تو اسکی یہ معصومیت حانی کو واقعی پاگل کر رہی تھی۔۔۔ حانی بھی آج فرصت سے اسے ستا رہا تھا۔۔۔۔۔
"فل وقت تم مجھے جو کہو گی وہ پورے حق کے ساتھ ہوگا۔۔۔اس لیے ایسا نہ سوچو۔۔۔۔کہو" منہ پر نرمی سجائے اب وہ اسے قائل کر کر کے بھی بور ہو رہا تھا۔۔۔۔۔مینو کے چہرے کی اداسی اسے کافی تنگ کر رہی تھی۔۔۔
"ہممممم ٹھیک۔۔۔۔۔تم نہیں دو گی نا اظہار۔۔۔۔ہاں حانی اس قابل ہے ہی کہاں۔۔۔جاو تمہیں دونوں شرطوں سے آزاد کیا۔۔۔۔"اسکا ہاتھ چھوڑے وہ کمال کا دکھ منہ پر لانے میں کامیاب تھا۔۔۔اور مینو تو جیسے سہم سی گئی۔۔۔۔دل تھا کہ پھر سے بھر آیا۔۔۔۔
"نہیں مینو۔۔۔۔اتنی اذیت مت دو حانی کو۔۔۔۔۔وہ اظہار ڈیزرو کرتے ہیں" نجانے کس ضبط سے وہ حانی کے چہرے کی منصوعی تکلیف سے خوفزدہ سی ہوئی۔۔۔۔

anusinha
 

Aj is nvl ka ikhtitam hogA🖤

anusinha
 

چہرے پر زمانے بھر کی شرافت لیے اب وہ ہونق زدہ سی نیلم کو دیکھ کر بولا جو باقاعدہ اب بابا کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔۔۔۔سب ایک بار پھر مسکرا دیے۔۔۔۔
"ہمیں نیلم دے دیں بھائی" اب رضوان مسکراتے ہوئے مہران کی طرف متوجہ ہوئے تو دانیہ اور دائم نے تو باقاعدہ تالی ماری۔۔۔
"دے دی۔" اگلے ہی لمحے وہ رضوان کو کھڑا ہو کر خود سے لگا چکے تھے اور وہ تو گھبراتی اور ڈری سئ ہنسی کے ساتھ دائم کو دیکھ رہی تھی جو آج واقعی چھچھورا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
پورا حال ایک بار پھر ہنسی سے منور تھا۔۔۔۔۔سب سے خوش تو دانیہ تھی۔۔۔۔۔۔۔دوستی اور محبت دونوں ہی امر کر گئی تھی۔۔۔۔
"تم دونوں ہمشہ خوش رہو۔۔۔۔۔۔" دل سے ان دونوں کو دعا دیتی ہوئی اب وہ آذان کو دیکھ رہی تھی جو بدلے میں اپنی دلکش مسکراہٹ لیے اسکے ساتھ پر بہت خوش دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔آخر سب اختیار میں لوٹ آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
◇◇

anusinha
 

وہ میں نے دونوں کو قید کر دیا ہے کہ جتنا لڑنا ہے آج ہی لڑ لیں فرصت سے۔۔۔۔۔۔ کل جب دونوں کو یہ سرپرائز ملے گا تب انکے چہروں کی خوشی دیکھنے والی ہوگی" دانیہ نے منہ پر ہاتھ دھرے ہنستے کہا تو پورا حال ہی شرارتی ہنسی لیے مسکرا سا دیا تھا۔۔۔۔سب کتنا مکمل تھا۔۔۔۔
"تو بھئی ایک اور اعلان میرا بھی سن لو سب" اب تو جیسے رضوان میدان میں اترے تھے۔۔۔ سب پورے کے پورے ہمہ تن گوش ہو چکے تھے۔
"اگر دائم آج یہیں وعدہ کرتا ہے کہ وہ آج سے باقاعدہ آفس جوائن کرے گا تو ہم اسکی بھی شادی کا فیصلہ ابھی دے دیں گے" سب نے اب دائم کی طرف دیکھا جو آنکھیں کھولے بے یقینی لیے تھا۔۔۔۔پھر یک دم جیسے اسکی آنکھیں بلب کی طرح روشن اور چہرہ شرارتی ہنسی لیے جگمگا اٹھا۔۔۔۔۔۔نیلم تو باقاعدہ ایک بار پھر شاک تھی۔
"گو یہ آفس کا کام بہت بورنگ سہی پر آفر بری نہیں"

anusinha
 

"ہم اگلے ہفتے ہی یہ نکاح کر دیتے ہیں۔۔۔۔ بس آپ مجھے انکار مت کیجئے گا" اب تو خود دانیہ بھی آنکھیں پھیلائے حیرت میں تھی۔۔سب ہی مسکرا دیے۔۔۔
"ارے اتنی جلدی۔۔۔۔۔" نیلم تو سب سے پرجوش تھی۔۔۔
"جی بلکل۔۔۔۔۔اب بہت ہوگیا اداسی کا پہرہ۔۔۔۔۔خوشیاں جب دروازے پر کھڑی دستک دے رہی ہیں تو پھر دیر کیسی" اب کی بار دائم نے انٹری ماری تھی۔۔۔
"بلکل جی۔۔۔۔۔تو پھر طے ہوگیا۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ ہم جلد یہ خوبصورت سا رشتہ جڑتا دیکھیں گے۔۔۔اللہ پاک میرے ان دونوں بچوں کو بھی ایک ساتھ خوش رکھے" سب ہی اب باری باری ایک دوسرے کا منہ میٹھا کروا رہے تھے۔۔۔۔
"ارے ان دونوں کو بھی کوئی بتائے کہ تبدیلی آنہیں رہی، بلکے تبدیلی آگئی ہے" دائم مٹھائی کی پلیٹ لیے مڑا ہی تھا کہ دانیہ کی آواز پر رکا۔۔۔
"نہیں۔۔۔۔دائم۔۔۔۔۔۔۔یہ سرپرائز انکو کل ملے گا۔۔۔۔

anusinha
 

حانی مجھے آپ سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔ آپ دل سے وعدہ کر رہے ہیں ناں" اب تو بڑا مشکل ہو رہا تھا حانی کو ہنسی کنڑول کرنا پر وہ فل وقت اپنا بھانڈا نہیں پھوڑنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
"ہاں۔۔۔۔۔۔ تم کہو۔۔۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھو مینو" چہرے پر کمال کی سچی سنجیدگی لائے وہ اسکی جانب متوجہ تھا جو اب چہرہ جھکائے شاید ایک لمبی تقریر کرنے والی تھی۔۔۔
◇◇◇
"کیا خیال ہے بھائی صاحب پھر آپکا" یک دم ہی جیسے لاونچ کا ماحول بلکل بدل گیا تھا۔۔۔سب ہی مسکرا رہے تھے جبکہ ابھی نادیہ ملازمہ کے ہمراہ سبکو چائے سرو کر رہی تھیں۔۔۔۔ نیلم نے تو ڈرائیور کو کہہ کر میٹھائی بھی منگوا لی تھی۔۔۔
"بھئی یہ نادیہ اور رضوان سے پوچھ لیں۔۔۔کیا خیال ہے بچو" مہران صاحب نے بھئ گویا ساری ذمہ داری انہی کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔۔۔۔حبیبہ تو دانیہ کو خود کے ساتھ بیٹھائے ہوئے تھیں۔۔۔

anusinha
 

"میں۔۔۔۔۔میں نے یہ کب کہا۔۔۔آپ غلط غلط نہیں سوچیں۔۔۔ میں بس چاہتی آپ پورے دانیہ کے ہو جائیں۔۔۔اب چھوڑیں میرا ہاتھ" وہ تو جیسے ابھی سے فرار ہونے کی لازوال خوش فہمی پالے تھی۔۔۔
"ہمممم مزہ نہیں آیا ابھی۔۔۔یہ اظہار تو نہ ہوا۔۔۔۔مینو پلیز کتنا تڑپاو گی۔۔۔۔۔وہ کہو نا جو صرف میرے لیے ہے" اب وہ اسے قریب کرنے کے بجائے خود تھوڑا سیدھا ہو کر اسکے مقابل ہوا تھا۔۔۔۔۔ڈھڑکنیں تو دونوں طرف بوجھل پن لیے تھیں۔۔۔اور وہ اب مینو کو نڈھال کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
"حانی پہلے وعدہ کریں کے آپ مجھے اسکے بعد چھوڑ دیں گے" وہ تو مینو کی اس قدر سادگی اور معصومیت پر مڑ ہی مٹا تھا۔۔۔۔
"ہاں چھوڑ دوں گا (خوابوں میں)" آخری بات وہ دل میں بول کر لطف اندوز ہوا تھا۔۔۔۔۔۔مینو کے چہرے کی معصومیت اب اسے بہکا رہی تھی مگر وہ پھر سے اپنے بتتمیز دل کو سمجھا چکا تھا۔۔۔

anusinha
 

کچھ تو میرا خیال کر لو مینو" پھر جیسے وہ اب کی بار سچ میں دکھ لیے تھا۔۔۔۔مینو کی آنکھوں میں ہار وافع تھی۔۔ تو گویا اظہار ۔۔۔یعنی مینو کا سارا حوصلہ مانگ رہا تھا وہ۔۔۔۔۔حانی کے آنکھوں میں آیا دکھ اب مینو سے بھی برداشت نہیں ہوا تھا۔۔۔
"حانی میں دانیہ کو دکھ نہیں دے سکتی۔دانیہ نے مجھے نا صرف بہن اور دوست کا پیار دیا بلکے ایک ماں کے جیسے شفقت بھی دی۔ آپ خود بتائیں کہ میں کیسے ان سے انکا شوہر چھین لوں۔۔۔ وہ آپکو آدھا ادھورا ڈئزرو نہیں کرتیں۔۔۔۔۔۔۔اور نہ میرے اندر حوصلہ ہے کہ آپکو کسی کے ساتھ آدھا بانٹ سکوں۔۔۔تبھی پورا دینا چاہتی ہوں" تو گویا اصل بات مینو نے کہہ ہی دی تھی۔۔۔۔۔دل تک وہ پرسکون ہونا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔
"تو تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تم مجھے پورا چاہتی ہو۔۔۔۔۔" مطلب کی بات وہ کتنی جلدی پکڑ کر بولا تھا۔۔۔مینو بھی گڑبڑا کر کچھ دور ہوئی۔۔

anusinha
 

یہ انسان تو اسکی جان لینے کے در پے تھا۔۔۔۔۔پھر سے مینو کی آنکھوں میں نمی ابھری۔۔۔۔ اسکے پاس یہئ آخری احتجاج تھا۔۔۔۔دل تو حانی کا یہی چاہا کہ ساری باتیں چھوڑ کر وہ اسے بس خود سے لگا لے۔۔۔۔کہ اب یہ دوری ناقابل برداشت تھی۔۔۔مگر وہ اسے یہ آخری آسانی دینا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔اظہار پر اسکا حق تھا۔۔۔۔۔پھر تو بھلے وہ کرتی یا نہ کرتی۔۔۔وہ اب حانی کی تھی۔۔۔۔اور حانی اسکا۔۔۔۔
"یہ رو کے تم مجھے آج پگھلا نہیں سکتی۔۔۔۔۔ کیا اسے میں انکار سمجھوں" مینو کا ہاتھ تھوڑا کھینچنے سے وہ اسکے مزید قریب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔حانی کی اس حرکت پر جیسے وہ ہل گئی۔۔۔اتنا قریب۔۔۔۔۔وہ اسے دیکھتی، اسے سنتی یا اسکی بات کا جواب دیتی۔۔۔۔۔سب کچھ جیسے ساکت ہوا۔۔۔۔
"حا ۔۔۔۔حانی پلیز مت کریں۔۔۔۔ " وہ رو سی دی تھی۔۔۔آب تو حانی کا بھی دل ہلا تھا۔۔۔
"اظہار کر دو۔۔۔۔۔چلی جانا۔۔۔۔۔۔

anusinha
 

رضوان کی سمت دیکھ کر مطمین انداز میں سر ہلا چکی تھیں۔۔۔
"آذان کے لیے دانیہ؟" سب جیسے بیک وقت حیران ہوئے تھے۔۔۔ رضوان اور نادیہ کی آنکھیں تو اب کی بار خوشی سے نم ہوئی تھیں ۔۔۔۔ سب کے چہروں پر کسی کھوئی چیز کے مل جانے والی سچی خوشی تھئ۔۔۔۔۔مہران آگے بڑھے اور آذان کو خود سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔
"ہم اس انکار کی سہولت نہ رکھتے ہوئے آپکو ہاں کہتے ہیں۔۔۔۔۔ بنا سوچے۔۔۔۔ ہم اپنی دانیہ۔۔۔۔آپکے آذان کو دیتے ہیں۔۔۔۔۔" کیونکہ حانی اور دانیہ کا کوئی ازواجی رشتہ قائم نہیں تھا لہذا عدت کا آپشن تھا ہی نہیں۔۔۔ تو پھر شادی کے اس فیصلے میں کوئی رکاوٹ تھی ہی نہیں۔ پھر تو جیسے بہار سی آئی تھی۔۔۔ہر آنکھ مسکرائی تھی۔۔۔دانیہ کی آنکھوں کی نمی آذان سمجھ گیا تھا۔۔۔وہ اسکا شکریہ ادا کر رہی تھی۔۔۔۔کئی مان ٹوٹنے سے بچ گئے تھے۔۔۔۔۔۔کئی آنکھیں ویرانی کی گرد سے خالی ہو گئی تھیں۔

anusinha
 

میں کچھ دیر پہلے ایک سکتے کی حالت میں تھی۔۔۔۔ لیکن دانیہ کی باتیں سن کر اور آپ سبکی اس نیک تربیت کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوں کے آپ سچ میں بہت خوش قسمت ہیں۔۔۔۔کہ آپ کو دانیہ جیسی، مینو جیسئ بیٹیاں ملی۔۔۔۔جو کسی قیمیت پر بھی دکھ اور تکلیف بانٹنا نہیں چاہتیں۔۔۔۔میری خواہش تو تھی کہ میں آذان کے لیے مینو کو بیاہ کر لے جاتی پر آج اسی لمحے اپنی جھولی پھیلائے آپ سے یہ ہیرا مانگتی ہوں۔۔۔۔۔ میرے آذان کے لیے مجھے دانیہ دے دیں مہران بھائی۔۔۔۔۔۔" اگلے ہی لمحے سب ساکت ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ تو گویا حبیبہ بھی اب دل سے مسکرائی تھیں۔۔اور انکے ساتھ کھڑا آذان۔۔۔۔جس کی آنکھیں آج بہت دنوں بعد اپنی پہلی روشنی لیے چمکی تھیں۔۔۔نادیہ نے ایک نظر دانیہ کو دیکھا کیونکہ وہ جو جاننا چاہ رہی تھیں وہ بہت اہم تھا۔ دانیہ کے چہرے کا اطمینان دیکھ کر

anusinha
 

دانیہ۔۔۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔ " نادیہ بھی آگے آئیں اور اسے خود سے لگا لیا۔۔۔۔۔پھر جیسے وہ بھی شکست خوردہ سے بیٹی کی سمت بڑھے۔۔۔
"دانیہ جو تم نے کیا ہے نا۔۔۔۔۔۔ مینو کی ساری تکلیف کا یہی صلہ تھا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک باپ کی بے بسی کی انتہا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے اجڑ جانے پر دکھی ہونے کے بجائے دوسری بیٹی کے بس جانے پر راضی ہونے کے لیے مجبور ہے۔۔۔۔دانیہ ہمیں معاف کر دینا۔۔۔۔۔۔" وہ بھی روتی ہوئی بابا کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔لیکن اب کی بار یہ آنسو ایک بڑے خسارے کو مات دینے کی خوشی میں تھے۔۔۔
"آئی ایم پراوڈ آف یو دانیہ آپی۔۔۔۔۔۔ یو آر چیمپئین" دائم بھی اسے خود سے لگائے مسکرایا تھا۔۔۔نیلم بھی بابا کے سینے سے لگی روتے روتے ہنس بھی رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ سب ایک آواز پر متوجہ ہوئے۔۔۔۔۔حبیبہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان سب کے قریب آئی تھیں۔