" حانی اسے اب ڈرانے میں خاصا کامیاب تھا۔۔بڑے مزے سے گنگنا کر بولا تھا۔۔۔۔دل تو جیسے پوری شدت سے کبھی بند ہوتا تو کبھی تیز گام کی صورت چلنے لگتا۔۔۔۔۔اسکے چہرے کی پریشانی اور گھبراہٹ جیسے حانی کو اندر تک پرسکون سا کر رہے تھے۔۔۔
"یہ کیا بیہودگی ہے" شاید محترمہ کو گانا پسند نہیں آیا تھا۔۔۔ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں یہی بڑبڑا گئی۔۔۔حانی کا دل سچ میں ہنسنے کو کیا پر وہ مہارت سے ضبط کر گیا۔۔۔کافی دیر ہاتھ چھڑوانے کا یہ سلسلہ جاری رہا تھا۔۔۔۔
◇◇◇
"یہاں آو دانیہ۔۔۔۔۔ آج مجھے تم پر ناز ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ تم نے یہ فیصلہ یقینا بہت کٹھن مرحلے سے گزرنے کے بعد لیا ہے۔۔۔۔ لیکن میں مہران مرتضی تمہارے اس فیصلے پر تمہیں سلام کرتا ہوں۔۔۔۔یہاں آو میری جان" مہران نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔سب کی نم ہوتی آنکھیں ایک بار پھر پہلے سے زیادہ شدت پکڑے نم تھیں۔۔
مینو کے چہرے پر۔۔۔خود حانی کو بھی نہیں پتا تھا۔۔۔۔اب تو دل تک ٹھنڈ پڑی تھی حانی کو۔۔۔۔
"یہ۔۔۔۔ک۔۔۔کیا کیا آپ نے۔۔۔۔کیوں پھاڑے۔۔۔۔" اس سے پہلے کے وہ اٹھتی۔۔۔حانی اسکی بازو پکڑے دوبارہ اپنے روبرو کیے بیٹھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔مینو اب دروازہ توڑ کر بھی بس باہر جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
"آج دو ہی راستے ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔یا اظہار کر کے چلی جاو۔۔ یا انکار کر کے مجھے دی ہر تکلیف کے بدلے کے لیے تیار ہو جاو" اچھے بدلے لے رہا تھا۔۔۔۔وہ بھی گن گن کر۔۔۔۔۔مینو تو پتھر بنی حانی کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے کی سنجیدگی اسے خوفزدہ کر چکی تھی۔۔۔۔
"تم پر آج کسی صورت رحم نہیں۔۔۔۔۔بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے" دل میں وہ اس ظالم سے مخاطب تھا جو اب باقاعدہ ہونق زدہ اور گھبرائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
"ہم تم۔۔۔۔۔ایک کمرے میں بند۔۔اور چابی کھو جائے۔۔۔سوچ لو"
افففف بس کرو حنوط مرتضئ ۔کیا تم اب بچاری کی جان لو گے۔۔۔دل تو اسے بھی اس بد تہذیبی پر ملامت کر رہا تھا پر وہ اس ظالم کو اتنی جلدی کیسے چھوڑ دیتا۔۔۔۔
"آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔ میں کسی کو دکھ دینا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔" مینو کی آج وہ کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔۔
"کیا یہ دکھ کم ہے کہ آج بھی تم وہاں ہو اور میں یہاں۔۔۔۔۔۔آج تک تمہیں اپنے شوہر سے بات کرنی نہیں آئی۔۔۔۔بھلے آخری ہی سہی یہاں آکر کہو جو کہنا ہے۔ کیونکہ میں تو اب وہاں آنے سے رہا" فل غصے سے وہ اپنے ہاتھ سے اپنے پہلو میں اشارہ کرتے بولا۔۔۔۔۔ یہ کیا تھا اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ بات تو غصے والی نہیں تھی مگر حانی کے چہرے پر غصہ تھا۔۔۔
"ہمممم اب کہو" ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑے وہ اسے بلکل اپنے روبرو بٹھا چکا تھا۔۔۔۔دل تو حانی کا شوخا ہو رہا تھا
"وہ لاک کر گئی ہیں۔۔۔۔۔" رونی شکل بنائے کہا گیا تھا۔۔ حانی جی آپکے تو مزے ہو رہے پر بچاری مینو کی جان جا رہی ہے۔۔۔۔بس کیجئے یہ ستم۔۔۔۔۔
"ہمممم۔۔۔۔۔۔ دانیہ کا تو میں دماغ سیٹ کرتا ہوں۔۔۔ کس کو چھوڑ گئی ہے میرے پاس۔۔۔آگے بچ گیا ہوں مرنے سے پر اب نہیں لگتا کوئی چانس بچے گا" منہ پر کمال کا منصوعی غصہ لائے وہ اسے مزید سنا رہا تھا اور وہ اب سر جھکائے نم آنکھوں سے حانی کو دیکھ رہی تھی۔
"حانی ایسا مت کہیں ۔۔۔ میں نے کبھی آپکو تکلیف دینی نہیں چاہی" وہ جیسے روتی آواز میں بھی اپنا دفاع کرنا نہیں بھولی تھی۔۔۔۔حانی نے یوں دیکھا کہ وہ مزید بوجھل ہوئی۔۔۔۔
"ہاں پھر بھی تمہاری سوچ ہے کہ تم نے مجھے کتنے دکھ دیے۔۔۔۔ ویسے بھی کیا فائدہ اب ان باتوں کا۔۔۔۔۔کچھ نہیں بچا اب ہمارے بیچ۔۔۔۔تم نے تو شاید کبھی محبت کی ہی نہیں۔۔۔۔میں اپنی والی پر صبر کر لوں گا"
دانیہ اسے جہاں کھڑا کر گئی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے مینال صاحبہ وہیں مجسمہ بن گئی تھیں۔۔۔حانی کی نظریں مسلسل اس پر تھیں۔۔۔جو نہ قریب آنے کے کسی موڈ میں تھی اور نہ دور جانے کے۔۔۔۔اور وہ اسے دور جانے بھی کیوں دیتا اب۔۔۔۔۔
"مجسمہ بن گئی ہو کیا۔۔۔۔ارے یار کوئی اسے لے جائے" اب حانی کا وقت تھا۔۔۔اور وہ اس سے چن چن کر بدلا لینے والا تھا۔۔۔ظالم کہیں کا۔۔۔۔۔۔
"میں نے دانیہ کو کہا بھی تھا مجھے نہیں جانا۔ وہ مجھے زبردستی لے آئی ہیں" وہ اپنی آنکھوں میں آئے موٹے موٹے آنسو ضبط کرتی مڑی مگر اگلے ہی لمحے وہ سارے آنسو خلق میں اٹک گئے تھے کیونکہ دانیہ باہر سے لاک کر کے گئی تھی۔۔۔۔اب تو اسے دروازے کے پاس جما ہوا دیکھ کر حانی نے بھی اپنی ہنسی ضبط کی۔۔۔۔وہ بیڈ پر لیٹا ہوا اب بڑے مزے سے اسے واپس اسی جگہ تک آتے دیکھ رہا تھا۔۔۔مینو کا سر جھکا ہوا تھا۔۔۔
اور اس میں اوپر والے نے ہر مدد بھی فراہم کی۔۔کیا یہ خوشی کافی نہیں کہ آپکی اور بڑے تایا جان کی تربیت نے کبھی آپکو شرمندہ نہیں ہونے دیا" دانیہ کی آنکھیں بھی تر ہوئیں اور پھر رضوان نے جیسے اسے خود سے لگا لیا۔۔۔۔۔نادیہ بھی روتی ہوئی اس سمت گئیں تو دائم نے انھیں خود سے لگا لیا۔۔۔۔حبیبہ بھی یہ سب دیکھ کر اپنی آنکھیں نم کر چکی تھیں۔۔۔۔
"آپ میری فکر مت کریں مما بابا۔۔۔۔۔ آپ فخر کریں۔۔۔ یہ رونے کا مقام نہیں ہے۔۔۔۔ آپکی دانیہ نے آپکو شرمندہ ہونے نہیں دیا۔۔۔ورنہ میرے ساتھ ساتھ آپ بھی مینو کے مجرم بن جاتے۔۔۔بلکے ہم سب بن جاتے۔۔۔۔۔وہ دونوں اب الگ نہیں ہونے چاہیں۔۔۔ وہ دونوں اب مکمل ترین اختیار اور خوشی کے مستحق ہیں۔۔۔۔" دانیہ وہاں موجود ہر فرد کو قائل کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ پھر جیسے وہاں کچھ لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
◇◇◇
حانی میرا دوست ہے۔۔۔۔اور وہ مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔لیکن جب میں نے اپنے جذبوں کو، مینو کے جذبوں سے ناپا تو میری ساری محبت، اسکی ایک لمحے کی محبت سے بھی چھوٹی پڑھ گئی ۔۔۔۔۔وہ اتنے بڑے ظلم کی مستحق نہیں ہے۔۔۔اور وہ حانی۔۔۔۔ کبھی آہ نہیں کی۔۔ وہ بھی سہتا رہا۔۔۔۔ یہاں تک کہ اسکی زبان پر میرے لیے فکر کے سوا کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔۔ مجھے دوست کہتا ہی نہیں رہا بلکے اس نے ثابت کیا کہ وہ واقعی ایک مخلص دوست ہے۔۔ کیا میرا بھی فرض نہیں بنتا کہ اب میں ان دونوں کی محبت اور دوستی کا مان نبھاوں " دانیہ کی آنکھوں کی نمی اور لہجے کا درد وہاں موجود ہر ایک آنکھ کو تر کر گیا تھا۔۔۔
"لیکن ہم اپنے پھٹے دل کو کونسا مرہم دیں دانیہ" رضوان کی لرزتی آواز آئی تو وہ چل کر بابا کے قدموں میں بیٹھ گئی۔۔۔
"کیا یہ مرہم کافی نہیں کہ آپکی دانیہ نے ایک بڑی ناانصافی ہونے سے روک دی ہے
دانیہ بھی اب دکھی ہو کر بولی تو نادیہ اور رضوان کی تکلیف دہ نظر دیکھ کر اندر تک زخمی ہوئی۔۔۔
"دانیہ۔۔۔۔ بیٹا یہ کیا کر دیا ہے تم نے؟" مہران بھی جیسے تھکی ہوئی آنکھیں لیے تھے۔۔۔نیلم تو شاید اس سب کے بعد کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں تھی۔۔۔
"مینو اور حانی ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔ مینو صرف میری وجہ سے کہ کہیں مجھے کسی دکھ کی آنچ نہ پہنچے۔۔۔۔ آج تک اپنی خوشی کا قتل کرتی آرہی تھی۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں۔۔۔جب اوپر والے نے ان دونوں کو ایک دوسرے کا بنایا ہے۔تو ہم کون ہوتے ہیں انکی یہ محبت جدا کرنے والے۔۔۔۔" یہ بات وہاں صرف نادیہ اور رضوان کے لیے نئی تھی۔۔۔ اور شاید ہونق ذدہ سی حبیبہ کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔ لیکن اس اتنی بڑی سچائی کے باوجود رضوان اور نادیہ کا دل پھٹ چکا تھا۔۔۔۔وہ تکلیف کے جس مقام پر تھے
اففففففف یا میرے اللہ ۔۔۔ یہ کیا کر دیا اس بیوقوف نے۔۔۔۔۔۔" نادیہ تو بس یہ سن کر بیہوش ہوتے ہوتے ہی بچی تھیں۔۔۔۔۔
"آپی سیریسلی۔۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔۔۔ آپ حانی سے ڈائورس لے چکی ہیں۔۔۔۔او مائی گارڈ" دائم تو پہلے ہی لگتا تھا سکتے میں ہے۔۔۔۔ سوائے نیلم اور مہران کے۔۔۔۔سب ہی نہایت غصے اور خفگی کی انتہا پر تھے۔۔۔۔۔۔
"کیوں آخر۔۔۔۔دانیہ اتنا بڑا فیصلہ۔۔۔اور تم دونوں نے ہم سب سے پوچھنا تو دور ، بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔۔ مجھے خبر ہی نہیں اور میری بیٹی طلاق کا داغ ماتھے پر سجائے خوشیاں منا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔دانیہ تم سے ایسی امید نہیں تھی" رضوان کا غصہ جیسے تکلیف کی انتہا پر تھا۔۔۔۔وہ گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھ کر اپنا سر تھام چکے تھے۔۔۔۔
"آپ سب میری پوری بات تو سنیں۔ یہ رشتہ بنا ہی نہیں تھا نہ کبھی اس رشتے کی کبھی گنجائش تھی۔"
پورے لاونچ میں سناٹا طاری تھا۔۔۔سامنے رضوان اور مہران ساکت سے تھے۔۔۔ نادیہ تو باقاعدہ سر پکڑے تھیں۔۔۔۔حبیبہ کے چہرے کا ایکسپریشن بھی یوں تھا گویا کوئی خوفناک شے دیکھ لی ہو۔۔۔نیلم اور دائم خواس باختہ سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔یہ ساری شاک سی نظریں سب کے سامنے والے صوفے پر بیٹھے آذان اور دانیہ کی سمت تھیں۔۔۔۔۔۔ یوں خاموشی تھی کہ گویا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم لوگ جانتے ہو کہ تم لوگ کہہ کیا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔ یہ مزاق ہے۔۔۔۔ دانیہ یہ کیا بکواس ہے" پھر جیسے یک دم اس سناٹے میں ایک آواز سئ ابھری۔۔۔غصہ۔۔۔تکلیف اور غم ،،،، ناجانے کیا کیا تھا اس آواز میں۔۔۔۔۔رضوان شاید آپے سے باہر آجاتے مگر دائم نے انھیں کول ڈاون کرنے کو تھاما۔۔۔۔۔آج تو وہ واقعی خوفناک قسم کے غصے میں تھے۔۔۔۔
"دانیہ یہ کیا کر دیا تم نے۔۔۔۔۔۔
مینو کو کندھے سے پکڑے وہ مزید آگے کیے سختی سے بولی جو اب نظریں زمین میں یوں گاڑے ہوئے تھی کہ گویا آج نظروں سے ہی پھاڑ دے گی۔۔۔حانی نے ایک خفا نظر دانیہ کو دیکھا اور پھر ایک اسکو جو بلیو جینز کے اوپر اپنی بجھی صورت جیسا ہی ہلکا گلابی کرتا پہنے تھی۔۔ بال محترمہ نے بہت سلیقے سے یوں کھول رکھے تھے کہ ظالم کم سخی زیادہ لگ رہی تھی۔
"اور ہاں۔۔۔آج تم دونوں اپنا معاملہ سیٹل کر لو۔۔کیونکہ اسکے بعد میں نے ڈنڈا اٹھا کر دونوں کی وہ پٹائی کرنی ہے کہ سوچ ہے۔۔۔۔ چلو۔۔۔میں جا رہی ہوں۔۔۔۔" اب کی بار وہ خوشگوار سی خفگی لیے تھی پر وہ دونوں تو پتھر جیسے ایکسپریشن دے رہے تھے۔۔۔
"آگے آو۔۔۔کھا نہیں جائے گا وہ تمہیں" مینو ہلکا ہلکا پیچھے ہوتی ہوئی پھر سے وہیں جا کر کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔۔اسے تھوڑا قریب کیے اب دانیہ باہر کی سمت مڑی اور دروازہ زور سے بند کر گئی۔۔۔۔
◇◇◇
"دانیہ پلیز مجھے آپ کہاں لے کر جا رہی ہیں" دانیہ اسکا ہاتھ پکڑے لے جا رہی تھی۔ اور جیسے ہی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تو مینو کے قدم رکے۔۔۔دانیہ نے بھی رک کر ایک نظر مینو کو دیکھا۔
"حانی کے پاس۔۔آو" اب تو وہ ساکت تھی۔۔۔
"مجھے نہیں جانا پلیز۔۔۔۔۔آپ مجھے مت لے کر جائیں۔ وہ مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتے دانیہ" اسکا ہاتھ وہ اب مزید مضبوطی سے پکڑے چل رہی تھی اور ویسے ہی مینو کے دل کی ڈھڑکن رکتی جا رہی تھی۔۔۔
"تم چپ کر جاو۔۔۔۔اسکی خبر تو میں لیتی ہوں۔۔۔آو" مینو کو لگا جیسے بس اب وہ فنا ہو جائے گی۔۔۔یہ چند قدم جو حانی کے سامنے جا کر تھمے تھے، شاید اسے اپنی زندگی کے سب سے مشکل ترین محسوس ہوئے۔۔۔۔لمحے بھر کو حانی کی نظر مینو سے ملی۔۔۔
"لے آئی ہوں اسے۔۔۔۔حانی اگر اب تم نے مزید بتتمیزی کی تو مار کھاو گے۔۔۔۔۔تم دونوں کو بات کرنی چاہیے۔۔۔۔"
دل تو اسکا زمین کے اندر دھنس جانے کو کیا تھا پر کیا کرتی۔۔۔۔۔
"آپ سب یہیں رہیے گا۔ مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ ہم آتے ہیں۔۔۔۔مینو میرے ساتھ آو" دانیہ مسکراتی ہوئی آئی اور مینو کا ہاتھ پکڑے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔سب ہی فرمابرداری سے سر ہلا چکے تھے۔۔۔
◇◇◇
آجا میرے شیر۔۔۔۔گود میں لے کر جاوں یا کندھے پر اٹھا کر" اب تو سب ہی ہنس دیے تھے سوائے مینو اور دانیہ کہ۔۔۔مینو تو ناجانے کیسے ضبط کیے تھی۔۔
"کیوں جوانی میں اپنی گود اور کندھے کو تڑوانے کے چکر میں ہے۔۔۔۔۔ہاتھ پکڑ " اب تو دائم کی بھی بتیسی باہر تھی۔۔۔۔ دانیہ نے ہاتھ میں پکڑا سیل آن کیا اور آذان کا نمبر کھول کر کچھ ٹائپ کرنے لگی۔۔۔۔ شاید وقت آگیا تھا کہ وہ یہ حقیقت سب کو بتاتے۔ کیونکہ حانی اب مینو کو بہت ہرٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔دائم ، حانی کو لیے روم میں لے گیا جبکہ نادیہ کچن میں چلی گئیں۔۔ نیلم بھی انکے ساتھ چلی گئی۔۔۔ مہران نے ایک نظر اداس سی مینو کو دیکھا۔۔
"یہ سب تمہارا فیصلہ بدلنے کے لیے کر رہا ہے۔۔۔۔تم اداس نہ ہو۔۔۔ ٹھیک ہونے دو اسے۔۔۔اچھے کان کھینچوں گا" مہران نے مینو کے کان کے قریب سرگوشی کی تو وہ بھی مسکرا دی۔۔۔۔
اور اب حانی کو انکی فکر ہو رہی تھی۔۔
"میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ارے آو میرا بچہ۔۔۔آجاو" یک دم نظر مینو پر پڑی تو مسکرا سے دیے۔۔۔وہ بھی مہران کے یوں کہنے پر ہمت کرتی ہوئی انکے ساتھ جا بیٹھی۔۔۔حانی کے چہرے کی سنجیدگی اب خفگی سی بنی۔۔۔۔جیسے وہ یوں شو کر رہا تھا کہ مینو کی آمد اسے خاصی ناگوار گزری ہے۔۔۔۔
"کیسے ہیں اب آپ حانی؟" حانی کو امید تو نہیں تھی پر وہ اس سے پوچھ بیٹھی تھی۔۔۔۔ اور وہ اسے مکمل اگنور کرتا ہوا دائم کی طرف رخ کیے مڑا۔۔۔
"یار دائم مجھے روم میں چھوڑ آ۔۔۔۔بہت تھک گیا ہوں۔۔اب آرام کروں گا" وہ اسے سبکے سامنے ایک بار پھر برے طریقے سے اگنور کر گیا تھا۔۔۔۔دانیہ نے تو باقاعدہ حانی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔سب نے ہی حانی کی یہ حرکت نوٹ کی تھی۔۔۔ پھر جیسے دائم کو ہی معاملہ تھوڑا خوشگوار کرنا پڑا۔۔۔
ورنہ زخم جلد نہیں بھرے گا" نادیہ نے اسکا معصوم سا منہ دیکھتے کہا تو باقی سب بھی مسکرا دیے۔۔ٹانگ کو میز پر دھرے وہ نادیہ کے ہاتھ سے اب شرافت سے سوپ پی رہا تھا۔۔۔
"بس اب جلدی سے دوڑتے نظر آو برخوردار۔۔۔۔یوں پڑے ہوئے زرا نہیں اچھے لگتے" رضوان بھی ہلکے پھلکے انداز میں تھے جبکہ دائم دوسری طرف بیٹھا اب سیلڈ خود کھانا شروع ہو گیا تھا۔۔۔
سب ہی ہنس رہے تھے۔۔۔ مینو سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ پتا نہیں وہ اپنے اندر کہاں سے اتنی ہمت لاتی تھی۔۔۔۔یوں سبکو مسکراتا دیکھ کر اسکی ہمت نہیں ہوئی کہ قدم بڑھا کر ان کے بیچ جائے۔۔۔ کہیں اسکے جانے سے وہاں ہر چہرہ اداس ہو گیا تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔ مگر اسے یوں چھپنا نہیں تھا۔۔۔۔۔وہ کسی کو بھی یہ نہیں دیکھا سکتی تھی کہ وہ کمزور ہے۔۔۔۔۔
"بابا اب آپ آرام کریں جا کے میں ٹھیک ہوں" مہران کب سے یونہی بیٹھے تھے
اب تو وہ بھی اسکی طرف ایک لمحہ دیکھتے ہنسی۔۔
"راز یہ ہے کہ میں نے آج ہلکا سا میک آپ کیا ہے۔۔۔" نیلم کی بات پر دائم نے ہنسی دبائے دیکھا۔۔۔
"اوہ۔۔۔واقعی۔۔روز تو تیز کر کے چڑئیل بنی ہوتی ہو۔۔۔آج ہلکا ہے تبھی پیاری لگ رہی ہو" اب تو نیلم نے آنکھیں باہر نکالے دائم کو دیکھا جو شرارت لیے ہنس رہا تھا۔۔۔دل تو اسکا یہی کیا تھا کہ کچھ اٹھا کر دائم کا سر پھاڑ دیتی۔۔۔۔۔
"ہمممم کاش سبکی کھوئی مسکراہٹ بھی یونہی لوٹ آئے۔۔۔۔۔ " پھر جیسے دائم نے سنجیدگی لیے کہا۔۔۔نیلم بھی متفقہ انداز میں سر ہلائے تھی۔۔
"ہاں۔۔۔۔دائم کیا تم جانتے ہو مینو بھی حانی بھیا کو چاہتی ہے" اب تو دائم حیرت لیے ساکت ہوا تھا۔۔۔۔۔بے یقینی کی انتہا تھی۔۔
"کیا؟۔۔۔۔۔۔ ان بلیو ایبل۔۔۔۔۔۔ افففففف کیا وہ واقعی اتنی پاگل ہے۔۔۔۔ " دائم حیرت میں مزید مبتلا تھا اور نیلم بھی اداسی اوڑھے تھی۔
کرسی سے ٹیک لگائے اب وہ کچھ زیادہ ہی فری ہو رہا تھا۔
"شاعرانہ باتیں کہاں سے سیکھ رہے ہو چھچھورے انسان" وہ بھی مسکراتی ہوئی بولی تو دائم بھی اٹھ کر اسکے سامنے آیا۔۔۔
"ہے ایک میری استانی۔۔۔ھاھا کبھی ملواوں گا۔۔۔۔یہ بتاو کیا منگواوں۔۔۔۔۔ " وہ اب ہلکی سئ دلکشی لیے مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
"ارے کچھ نہیں۔۔۔گھر چلتے ہیں ناں۔۔۔آج حانی بھائی آرہے ہیں گھر۔۔۔۔تمہیں لینے ہی آئی ہوں" نیلم نے کہا تو دائم سر ہلائے مڑا اور اپنا سیل اور لیپ ٹاپ اٹھائے اسے دیکھتے ہوئے سامنے آیا۔۔۔۔پھر وہ دونوں ہی نکل آئے تھے۔۔۔ نیلم بہت آہستہ آہستہ گاڑی چلاتی تھی۔۔۔۔دائم تو بمشکل ہنسی دبائے تھا۔۔۔۔
"ایسے کیا دیکھ رہے ہو بندر؟" خود پر دائم کی نظریں اسے بے چین سا کر رہی تھیں۔۔
"دیکھ رہا ہوں آج تم بدلی بدلی لگ رہی ہو۔۔۔۔۔یہ راز کیا ہے؟"
مینو کی رات ناجانے کس کرب میں گزری تھی مگر گزر گئی تھی۔۔ آج حانی کو ڈسچارج کر دیا جانا تھا تبھی رضوان ، دائم کو آفس جانے کا کہہ کر خود ہوسپٹل کے لیے نکل گئے تھے۔۔۔دائم کی گاڑی خراب ہو گئی تھی اور رضوان بھی اپنی لیے نکل گئے تھے۔۔۔ تبھی انہوں نے نیلم کو بجھوا دیا تھا۔۔۔۔۔
"زہے نصیب۔۔۔۔یہ میرے آفس میں چاند کہاں سے آنکلا ہے" نیلم کو اندر آتا دیکھ کر وہ بڑے ہی پھیلے انداز میں بولا تو وہ بھی مسکرا سی دی۔۔۔
"آنکھیں کم کھولو۔۔۔یہ چاند نہیں۔۔ سورج ہے۔۔یہ نہ ہو اسکی تیز روشنی انکو پھوڑ دے" وہ بھی شرارت لیے بولی تھی۔۔ اداس تو سب ہی تھے مگر حانی اب ٹھیک تھا لہذا وہ دونوں ہی بہتر تھے۔
"اففففف یہ اگر سورج بھی ہے تو بہت ہی مدھم سے سکون جیسا ہے۔۔۔۔ اہممم اہمممم اسکی روشنی تو سیدھی میرے دل کو روشن کر رہی ہے"
مینو۔۔۔یہ دھتکار، یہ بے بسی اور یہ تکلیف اب تمہارا نصیب ہے۔۔۔۔ یہی تمہاری زندگی ہے۔۔۔۔سمجھی تم۔۔۔۔۔؟" پھر جیسے ہمت کر کے وہ آئینے کے سامنے آکر خود کو حقارت سے دیکھتے بولی۔
"اب اپنا یہ رونا۔۔۔یہ تکلیف، یہ مردہ چہرہ اسی کمرے تک دفن رکھنا۔۔۔۔۔۔مت دینا مزید کسی اور کو تکلیف۔۔۔نکل جاو تم حانی کی زندگی سے۔۔۔۔جتنے دکھ تم نے اس انسان کو دیے ہیں تم تو اسکے سائے کی بھی مستحق نہیں" اپنا چہرہ بے دردی سے رگڑتے شاید وہ ان بہتے انسسووں اور اس تکلیف کو لگام ڈالنے کی کوشش میں ہی تھی۔۔۔۔۔۔پھر جیسے کچھ دیر آئینے میں مزید خود کو حقارت سے دیکھنے کے بعد وہ لائٹ آف کیے بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔ساتھ جلتا لیمپ بھی ہاتھ بڑھائے بجھا دیا۔۔۔۔۔۔
◇◇◇
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain