مجھے کیوں ساتھ نہیں لے کر گئے آپ۔۔۔۔اس لیے چھوڑ گئے تھے اپنی مینو کو۔۔۔۔۔۔ نہیں رویا جاتا اور۔۔۔۔مجھے اپنے پاس لے جائیں۔۔۔۔ آپکی مینو ہار گئی ہے۔۔۔رشتے نبھاتے نبھاتے مرنے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی خوشی اپنے ہاتھوں سے اجاڑ کر دیکھیں کس قدر ویران اور تنہا ہے" شاید وہ آج آخری بار اپنے دل کا ہر دکھ نکال باہر کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔تکلیف کی حد ختم ہو رہی تھی۔۔۔
"میں اب کہاں جاوں۔۔۔۔کہاں جاوں کہ حانی کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو سکوں۔۔۔۔نہیں کر سکتی اس انسان کا سامنا۔۔۔ جسے جیتے جی مار ڈالا ہے۔۔۔۔کاش کوئی ایسا ٹھکانہ ہو جہاں میں خودکو غرق کر لوں۔۔۔۔اتنی بڑی دنیا مینال مرتضی کے لیے اتنی تنگ کیوں ہے آخر؟" وہ آج خود کو بھی تکلیف دے دے کر مارنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔اسے تو آج اپنے ہونے تک پر افسوس تھا۔۔۔۔۔
"ساری زندگی تم دوسروں کے دکھ کی وجہ بنی ہو مینو۔۔
پتا نہیں کیسے کر کے وہ گھر تک پہنچی تھی۔۔۔ اپنے روم میں جا کر خود کو قید کیے وہ وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔چہرہ مسلسل رگڑنے سے لال ہو رہا تھا اور آنکھوں کی تکلیف تو انکی وہشت سے عیاں تھی۔۔۔مینال مرتضی اس وقت شاید خود اپنا سامنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
"میری تکلیف اتنی طویل کیوں ہے۔۔۔۔ کم ازکم مجھے ہمت تو دیں نا اللہ۔۔۔۔۔ میرا یہ رونا مجھ سے چھین کیوں نہیں لیتے آپ۔۔۔یہ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔آپ حانی کے دل سے میرے لیے یہ ناراضگی نکال دیجئے پلیز۔۔۔۔۔یا پھر مجھے اتنا حوصلہ دیں کہ میں یہ سب ہنس کر سہہ سکوں" نمی دوبارہ سے اسکے چہرے پر ڈھلکتی جا رہی تھی۔۔۔۔کرب کی انتہا تھی اور اسے کوئی کندھا تک میسر نہ تھا۔۔۔۔
"کاش میرے پاس کوئی تو ہوتا۔۔۔۔۔ میں اتنی اکیلی کیوں ہوں۔۔۔مما بابا کاش آپ میرے پاس ہوتے۔۔۔آج آپکی مینو کو آپکی بہت ضرورت ہے۔۔۔۔
وہ تو حانی کی زرا سئ ناراضگی سے اس حال کو آپہنچی تھی کہ جیسے اسکا کوئی بڑا نقصان ہو گیا ہو۔۔۔اسکے رونے میں پہلے سے زیادہ شدت آئی تھی۔۔۔
"میں آپکی ناراضگی نہیں سہہ سکتی حانی۔۔۔۔ مجھ سے خفا نہ ہوں۔۔۔۔میں کیسے آپکو چھوڑ پاوں گی" اپنے فیصلے پر جیسے وہ آج سارا رونا چاہتی تھی۔۔ حانی سے دور ہونا شاید اب اسے مرنے کے مترادف لگ رہا تھا۔۔۔۔آج وہ واقعی خود کو ختم کر دینا چاہتی تھی۔۔۔کوئی ایسا کونہ کوئی ایسا چپا چاہتی تھی جہاں اسے دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔شاید وہ اس سے زیادہ تکلیف نہیں سہہ سکتی تھی۔۔۔۔
◇◇◇
۔ غصے میں بھی وہ کافی پیارا لگ رہا تھا۔۔۔۔
"حانی۔۔۔۔پلیز اب بس کر دو۔۔۔۔۔جو ہوگیا ہے اسے مان لو۔۔۔ دیکھو وہ اتنا سخت روتی ہوئی گئی ہے۔۔۔اتنے ظالم مت بنو" اب تو دانیہ اسے بھی ڈانٹنے والی دیکھائی دے رہی تھی اور وہ بیزار منہ ہی بنائے تھا۔۔۔
"اسکے ظلم کے آگے یہ کچھ بھی نہیں۔۔۔رونے دو اسے۔۔بڑا شوق ہے اسے رونے کا۔۔۔۔۔ " اب تو دانیہ اپنا بیگ ہی اٹھا کر مارنے کے انداز میں ہنسی مگر حانی کو کوئی ہنسی نہیں آئی تھی۔۔۔۔ابھی بہت سارا حساب باقی تھا مینو کی طرف۔۔۔۔۔اور وہ جو اسکی بے رخی دیکھ کر گئی تھی شاید اپنا ضبط مزید قائم نہ رکھ پائی۔۔۔باہر لگے بینچ پر بیٹھی وہ اپنا سرخ ہوتا چہرہ رگڑ رہی تھی پر آنکھیں تھیں کہ آج سارا ہی رو لینا چاہتی تھیں۔۔۔آج اسے احساس ہوا تھا کہ اسکی آج تک کی بے رخی نے حانی کو کتنی تکلیف سے دوچار کیا ہوگا۔۔۔۔۔
حانی نے ایک تلخ قہقہہ لگایا۔۔۔
"ہاں۔۔۔۔صرف حنوط مرتضی ہی کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔باقی سب جو مرضی کرتے رہیں۔۔۔۔۔ مر گیا ہے وہ حانی اسکی دی اذیتوں سے۔" اور اب تو مینو کو لگا جیسے وہ مزید رکی تو اسکا سانس بند ہو جائے گا۔۔۔۔اپنی پوری رفتار سے وہ باہر کی طرف بھاگنے کے انداز میں گئی تھی۔۔۔۔۔حانی اور دانیہ بھی کچھ لمحے کو باہر دیکھنے کے بعد دوبارہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ تھے۔۔۔وہ دانیہ کو بھی غصے سے دیکھ رہا تھا۔
"یہ کیا ہے حانی۔۔۔۔۔پلیز اسکے ساتھ ایسا مت کرو" دانیہ نے جیسے التجاء کی۔۔۔
"نہیں ۔۔۔اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔ تھوڑا بدلا تو مجھ پر قرض ہے۔۔۔۔۔اتنی آسانی سے اسے اب میں بھی نہیں ملوں گا۔۔۔۔اور تم؟ تم تو بات ہی نہ کرو مجھ سے" اب وہ اسے یک دم غصے اور ناراضگئ میں لگا تھا۔۔۔۔اور اب کی بار دانیہ مسکرا دی تھی.
تبھی جانے کے ارادے سے پلٹ گئی۔
"مینو باہر ہے" دانیہ کی آواز پر مینو کے قدم تھم سے گئے۔۔
"کون مینو۔۔۔۔میں نہیں جانتا کسی مینو کو۔۔۔کہہ دو اسے کہ ابھی حانی مرا نہیں ہے" جی مینال محترمہ۔۔۔۔۔آپکی سزا بھی تو بنتی ہے نا۔۔۔۔دانیہ تو منہ کھولے حانی کو دیکھ رہی تھی اور وہ جو باہر تھی اپنے رک جانے پر پچھتا رہی تھی۔۔۔۔دل کے جیسے پل بھر میں کئی ٹکڑے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں آج پہلی بار حانی کی بے رخی نے نمی بھر دی تھی۔۔۔
"حانی یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا" دانیہ کی ناراضگی پیک پر تھی۔۔
"یہی طریقہ ہے ایسے اذیت پسند لوگوں سے بات کرنے کا۔۔۔۔ " وہ غصہ تھا۔۔۔وہ تکلیف تھی جو حانی سہہ چکا تھا۔۔مینو کی آنکھوں کی نمی مزید بڑھی۔۔
"حانی پلیز۔۔۔۔تم اسے یوں ہرٹ نہیں کر سکتے۔۔۔وہ سب سے پہلے ہماری دوست ہے" دانیہ بھی جانتی تھی کہ وہ ابھی باہر ہی ہے۔۔
اور ہمیشہ اسی کا رہنے والا ہے۔۔۔۔
"مینو ضد نہیں کرتے" دانیہ اب خفا تھی مگر مینو شاید مجبور۔
"پلیز دانیہ مجھے فورس مت کریں۔۔۔۔ مجھے انکار کرتے ہوئے اچھا نہیں لگے گا پلیز" مینو کی بے بسی دیکھ کر دانیہ بھی اداس سی ہوئی اور سر ہلائے اندر چلی گئی۔۔۔سماعت اور نظریں تو اسکی حانی پر ہی تھیں۔۔۔جو ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔۔۔
"حانی۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو؟" دانیہ اندر گئی تو آہٹ پر وہ آنکھیں کھول چکا تھا۔۔۔۔۔سنجیدگی سے سر ہلائے اسکا دھیان بھی باہر کھڑی اس ظالم مینو کی طرف تھا۔۔۔
"ہاں۔۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔مت پریشان ہو" دانیہ اسکے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔شکوہ تو بہت تھا اسے دانیہ سے مگر وہ صرف ایک خفا نظر ہی ڈال پایا تھا۔۔۔۔۔۔
"ہمممم۔۔۔جلدی سے ٹھیک ہو جاو۔۔۔۔ جان نکال دی ہے تم نے سبکی" دانیہ اور حانی کی باتیں سننا اسے کچھ مناسب نہیں لگا
نیلم کے ساتھ ساتھ آذان بھی اندر آیا۔۔۔۔۔ حانی کو وہ سب یاد آیا تو اسکا چہرہ مزید بوجھل ہوا۔۔۔۔وہ خود کو اس سب کے لیے بہت برا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
"مریض کے قریب زیادہ رش نہ ہو۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ اب آپ گھر چلے جائیں۔۔۔یہ بہتر ہیں ۔۔کل یا پرسوں تک انکو ڈسچارج کر دیا جائے گا" اچھا ہوا جو نرس بول پڑی تھی۔۔۔حانی ویسے بھی بتانا نہیں چاہتا تھا کہ اسکا دھیان کہاں غرق تھا۔۔۔
"جی ٹھیک ہے۔۔۔چلو بھئی سب چلتے ہیں۔۔۔۔ حانی، تم بابا کو بھی کہو۔ انہوں نے اس چکر میں دوا بھی مس کر دی ہے۔۔۔ چلو بیگم۔۔۔یہ بچے ہیں ادھر" اب تو دوا نہ لینے پر حانی نے بابا کو گھورا تھا۔۔۔ نیلم بھی حانی کا ہاتھ پکڑے اداس سی تھی۔۔۔
"بابا ناٹ فئیر۔۔۔" نیلم کا اداس چہرہ تھامے ساتھ ساتھ وہ مہران صاحب کو بھی خفا سا دیکھ رہا تھا۔۔۔
"اچھا نا۔۔۔۔لیکن جلدی سے ٹھیک ہو جا۔۔۔۔۔
جس کے بعد مہران کی ضد کی وجہ سے وہ انھیں ہوسپٹل لے آئے تھے۔۔۔۔۔۔ سب ہی کہ چہرے چمک اٹھے تھے۔۔۔۔حانی کو رات تک روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔۔اور وہ ہوش میں بھی آچکا تھا۔۔۔
"اب تو اس عمر میں باپ کو ہسپتالوں کے چکر لگوائے گا۔۔۔ جان نکال دی تھی بے شرم" اب تو مہران کی باری تھی کہ اس نڈھال سے حانی کی خوب کلاس لیتے۔۔۔۔وہ کافی سنجیدہ اور مرجھایا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔اسکی آنکھیں شاید سر کے شدید زخم نے موٹی سی کر رکھی تھیں۔۔۔۔بابا کا فکر مند چہرہ دیکھ کر وہ بھی مسکرا سا دیا۔۔۔گو مسکرانا ناگزیر تھا۔
میں ٹھیک ہوں بابا" نہایت تھکے انداز میں وہ بولا جب نرس نے اسے ٹیک لگوا کر بیٹھایا۔۔۔۔
"نہیں ہے ٹھیک۔۔۔۔۔دھیان کہاں تھا تیرا۔۔۔۔۔۔۔ تجھ سے ایسی لاپرواہی کی امید نہیں تھی" اب تو وہ باقاعدہ خفا تھے۔ حانی نے انکا ہاتھ تھاما۔۔۔رضوان ، دائم اور نادیہ،
سچ پوچھیں تو مریض جس صورت حال میں تھا ہم خود ڈر گئے تھے۔۔۔ لیکن اللہ نے کرم کیا ہے کہ کوئی اندرونی چوٹ نہیں آئی۔۔ سر اور ٹانگ کا زخم کچھ گہرا ہے۔۔کچھ دن چلنے پھرنے میں اختیاط کرنی ہوگی۔۔۔۔سر کے خون کے بہہ جانے کی وجہ سے بلڈ کلوٹنگ نہیں ہوئی جو پلس پوائیٹ تھا۔۔فل وقت وہ دواوں کے زیر اثر ہیں۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک انکو ہم روم میں شفٹ کر دیں گے۔۔۔" ڈاکٹر نے گویا ان خوفزدہ اور دہلتے دلوں کو امید کی نئ کرن دیکھائی تھی۔۔۔ حانی جس الجھاو میں تھا اس نے اسکا دماغ معاوف کر دیا تھا تبھی وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔۔گاڑی درخت سے بری طرح ٹکڑا کر بلکل بربادد ہو گئی تھی۔۔۔سر اسٹیئرنگ سے بڑی طرح ٹکرایا تھا جبکہ سامنے کے گلاس کا ایک ٹکڑا اسکی ٹانگ میں پیوست ہو گیا تھا۔۔۔۔اللہ نے بڑے نقصان سے بچا لیا تھا۔۔۔۔۔دائم نے رضوان کو کال کر دی تھی
مینو نے دانیہ کے چہرے کے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنے سارے ہی ضبط کر لیے۔
"بہت بری ہو مینو۔۔۔۔۔بہت ڈانٹوں گی تمہیں۔۔۔۔کوئی اتنا پاگل کیسے ہو سکتا ہے" وہ مینو کی بوجھل صورت دیکھ کر دل میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
"پر تمہاری یہ دانیہ بھی تھوڑی پاگل ہے۔۔۔۔۔ میری اور حانی کی جان ہو تم مینو۔ " اسے وہ دوبارہ سے سوچتے ہوئے اسے خود سے لگا چکی تھی اور اب کی بار مینو ، دانیہ کے چہرے پر الگ رنگ دیکھ کر کچھ حیران سی دیکھائی دی تھی۔
◇◇◇
نیلم تو ایک پل کو چپ نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
"اففففف اگر اسے کچھ ہوا تو میں خود کو معاف نہیں کروں گی۔۔۔" دانیہ بھی جیسے دکھ کی انتہا پر تھی۔۔۔۔اور مینو۔۔۔۔اسکی تکلیف کا تو اندازہ لگانا ہی ناممکن تھا۔۔۔۔۔ اگر ممکن ہوتا تو وہ اپنی سانسیں تک اس شخص کو دے دیتی جو اسکی زندگی تھا۔۔۔۔مینو کی آنکھیں سرخ تھیں مگر وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی۔۔۔۔اس ایک اور برداشت سے بڑے امتحان پر۔۔۔۔۔دانیہ تو جانتی تھی۔۔۔۔ ہر کوئی جیسے ایک دوسرے سے اپنا کرب چھپانے پر مجبور تھا۔۔۔۔ دانیہ نے مینو کے گرد اپنی گرفت جیسے مزید مضبوط کی۔۔۔
"دانیہ۔۔۔مت روئیں۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔۔دعا کریں" وہ اتنی پاگل تھی کہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ دانیہ اسے کیا سونپ چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔آج دانیہ کے لیے تھا تو جیت کا دن مگر یوں حانی کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ اسے خوفزدہ کر گیا تھا۔۔۔
اچھا اچھا میں کر رہا ہوں۔۔۔۔آپ حوصلہ رکھیں" اگلے ہی لمحے وہ کال ملا چکے تھے۔۔۔۔
◇◇◇
"سب میری غلطی ہے۔۔۔۔ میں اسے اکیلا جانے ہی نہ دیتی۔۔۔۔ یا اللہ اسے شفاء دیں۔۔۔" مینو تو دانیہ کے ساتھ لگی تھی جبکہ نادیہ نے نیلم کو ساتھ لگا رکھا تھا۔۔۔دائم اور آذان بھی آئی سی یو کے باہر ہی تھے۔۔۔۔۔دانیہ اور آذان جو کر چکے تھے فل حال وہ یہ سب چھپانا چاہ رہے تھے۔۔۔ان کے پلین کے مطابق پہلے حانی اور مینو کو ایک کرنا تھا پھر یہ اتنی بڑی حقیقت سبکو بتانی تھی مگر یوں حانی کے ایکسیڈنٹ نے جیسے انکے سمیت سب کو نڈھال کر دیا تھا۔
"جی ڈیڈ۔۔۔۔۔ ابھی ڈاکٹر باہر نہیں آیا۔۔۔۔انکا کافی خون بہہ گیا ہے۔ آپ تایا جان کو مت بتائیے گا ابھی۔۔۔۔۔ جیسے ہی ڈاکٹر باہر آتا ہے میں بتاتا ہوں آپکو" دائم خود افسردہ سا تھا۔۔۔آذان نے اسکے کندھے پر ہاتھ دھرے جیسے تسلی دی۔۔۔
"یا میرے اللہ ۔۔۔۔میرے بچے پر اپنا کرم کرنا۔۔۔۔۔۔اسے اپنی حفاظت میں رکھنا" دہلتے اور ڈوبتے دل سے وہ خوفزدہ ہوتے بولے تھے۔۔۔ دانیہ کو بھی دائم نے بتا دیا تھا جو الگ دل پر ہاتھ دھرے آئی سی یو کے باہر تھی۔۔۔۔وہ جس غصے اور دکھ کی حالت میں نکلا تھا اس سے ایسی ہی امید تھی۔۔۔۔گاڑی نجانے کس درخت سے دے ماری تھی اس نے۔۔۔۔
"آمین۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔آپ ٹینشن نہ لیں۔۔۔آپکی طبعیت بگڑ جائے گی" دوسری طرف رضوان سے مہران کو سنبھالنا مشکل تھا۔۔۔
"بھاڑ میں گئی طبعیت۔۔۔۔ رضوان مجھے بھی ہوسپٹل لے جاو۔۔۔۔میرا دل بیٹھا جا رہا ہے" انکی خود طبعیت خراب تھی اور وہ جانے پر بضد تھے۔
"بھائی آپ اس حالت میں کیسے جا سکتے ہیں۔۔۔۔سب گئے ہیں ناں۔۔۔ ان شاء اللہ خیر ہوگی۔۔" رضوان اب انھیں سمجھاتے بولے تھے ۔۔۔
"اچھا تم فون کرو دائم کو۔۔۔۔۔کیسا ہے حانی" وہ بے قراری لیے تھے۔۔
دانیہ نے کہا تو وہ رخ پھیر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسکا دماغ بلکل سن تھا۔۔۔پھر اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا ہوا۔۔۔۔۔دانیہ اور حانی کی ڈائورس ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ وکیل کے دفتر سے باہر نکلتے ہوئے حانی بے حال سا آگے تھا اور وہ دونوں پیچھے۔۔۔۔دانیہ نے ایک نظر آذان کو دیکھا اور پھر حانی کو۔۔۔۔۔جو بنا کچھ کہے سنے پوری تیز رفتاری سے گاڑی کی جانب گیا اور سٹارٹ کیے نکل گیا۔۔۔۔۔
"وہ اکیلا چلا گیا" دانیہ کو فکر سی ہوئی۔۔۔وہ دونوں بھی چہرے سے تھکے لگ رہے تھے۔
"سنبھال لے گا خود کو۔۔۔۔آو چلیں" اگلے ہی لمحے وہ دونوں بھی گاڑی کی سمٹ بڑھ گئے۔۔۔۔
◇◇◇
کبھی کبھی محبت نہیں۔۔۔دوستی بچانی پڑتی ہے۔۔۔۔ میں تمہیں اور مینو کو نہیں کھونا چاہتی حانی۔۔۔۔۔۔ اگر میں تمہاری زندگی میں رہی تو شاید تمہارے ساتھ ساتھ مینو کو بھی کھو دوں گی۔۔۔۔اور یہ تکلیف میں نہیں سہنا چاہتی۔۔۔۔۔۔ تمہیں مطمئین بھی کر رہئ ہوں کہ میں آذان کے ساتھ ہمیشہ خوش رہنے کی کوشش کروں گی" وہ حانی کا ہاتھ تھامے اسے مزید ساکت کر رہی تھی اور وہ ہونق زدہ سا ان دونوں کے پاگل پن کو دیکھ رہا تھا۔
"اور میں اس رب کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اس ذمہ داری کو اپنی پوری خوشی اور رضامندی سے نبھاوں گا۔۔۔۔۔۔ دانیہ تمہاری خوشی چاہتی ہے اور میں مینو کی۔۔۔۔۔گویا ہم سب ایک دوسرے کی خوشی چاہتے ہیں۔۔۔۔۔مان جاو" حانی اپنا سر جکڑے یہاں وہاں چکر لگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔دانیہ نے ایک نظر آذان کو دیکھا۔۔۔۔
"حانی وکیل کے پاس جانے کا وقت ہو گیا ہے"
اور ہماری یہ شدت میں ڈوبی دعائیں تمہارے اور مینو کے لیے تکلیف بننے لگیں۔۔۔۔۔۔ اگر میں دعا میں مینو کو مانگتا رہتا تو آج میرے پاس دانیہ تو کیا۔۔۔ میں خود بھی نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح اب اگر دانیہ تمہارے ساتھ کو مانگتی رہی تو شاید تمہاری یہ لازوال تکلیف کبھی نہ مٹ پائے گی۔" حانی کو لگا جیسے وہ ساکت ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل تو اس عجیب منتق پر دہل چکا تھا۔۔۔۔وہ بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جو اسے مینال سے بھی کوئی بڑے قسم کے پاگل لگے تھے۔۔۔
"تمہیں تمہاری نیلی آنکھوں والی شہزادی دینا چاہتی ہوں۔۔ بدلے میں اگر تم نیلے آنکھوں والا شہزادہ مجھے دو گے تو دانیہ خوشی خوشی قبول کرے گی۔۔۔۔۔ میں اور آذان شاید اس دنیا میں سب سے زیادہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے قابل ہیں حانی۔۔۔۔ کیونکہ وہ میرے اور میں اسکے دل سے واقف ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔تم میری فکر مت کرو۔۔۔۔۔۔
پلیز" دانیہ نہایت عاجز آکر بولی تھی اور حانی اپنے بالوں کو جکڑے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔
"کیسے نہ کروں فکر۔۔۔۔۔۔ بتاو مجھے دانیہ۔۔۔۔۔ تم دونوں پاگل ہو گئے ہو۔۔۔۔اور آذان تم۔۔۔۔۔ یہ فیصلہ کس دل سے لے رہے ہو۔۔۔۔۔۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیسے پر یقین ہو کہ تم اس میں خیانت نہیں کرو گے" اب حانی ، آذان کی آنکھوں میں غصے سے دیکھ کر بولا تھا۔۔۔۔آذان کے چہرے پر ایک بار پھر وہی دھیمہ پن مسکرایا۔
"ہم سب کہیں نا کہیں بہت ایماندار ثابت ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسی لیے ہم نادانستہ طور پر اپنی اپنی منزل تک پہنچا دیے گئے ہیں۔۔ ہم ایک دوسرے تک بہت الجھے راستوں سے پہنچے ہیں۔۔۔۔۔راستوں کا یہ گنجل ہمیں ہلا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن قسمت سب پر بھاری نکلی حانی۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب نے اپنے لیے لاحاصل چیزیں مانگ لیں۔۔۔۔خاص کر میں نے اور دانیہ نے۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو" سامنے حانی کی گاڑی کھڑی تھی اور وہ غصے کی انتہا پر تھا۔۔۔ دانیہ اسکے سامنے تھی پھر دوسری گاڑی کا کھلا دروازہ کھول کر کوئی باہر نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آذان۔۔۔۔۔۔۔
"پلیز حانی۔۔۔۔سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔ یہ سب سے بہتر فیصلہ ہے۔۔۔۔ اور اس میں میرا ساتھ آذان نے دیا ہے۔۔۔۔ دیکھو پلیز اب تم کوئی مسئلہ مت بناو" بھائی سے وہ یک دم آذان پر آچکی تھی۔۔۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ حانی کو لگا اسکے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی۔۔۔
"حانی۔۔۔۔۔۔۔ میں یہ تو نہیں جانتا کہ اس فیصلے سے انصاف کی فراہمی کس حد تک ممکن ہوگی مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اب اس فیصلے سے کسی کی تکلیف کا سامان نہیں بنے گا۔۔۔۔ وقتی تکلیف جلد مٹ جائے گی" حانی تو اب آپے سے باہر آرہا تھا۔۔۔۔
"تم دونوں کا دماغ چل گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسکا دل اپنی پوری شدت سے بند ہونے کی تیاری میں تھا۔۔۔
"میں ایسا نہیں کر سکتی دانیہ کے ساتھ" وہ جیسے یہ کہہ کر فورا وہاں سے باہر نکلی مگر سامنے نیلم سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔۔۔
"مینو۔۔۔۔۔تم کب آئی۔۔۔کیسی ہو؟" نیلم نے اسے خود سے لگایا تو مینال کا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔۔
"ہاں ابھی ۔۔۔ٹھیک ہوں" مینو کے چہرے کی نمی اب چھپی بھی ہوتی تو نیلم ضرور دیکھ لیتی۔۔۔
"مینو۔۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ میرا کوئی لفظ تمہاری تکلیف ختم نہیں کر سکتا مگر پھر بھی پریشان مت ہو۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ تم اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرو پلیز" نیلم کی آنکھیں بھی ایک دم ویرانی لیے تھیں۔۔۔
"نہیں نیلم۔۔۔۔اب بہت مشکل ہے۔۔۔۔ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو" وہ شاید فل وقت وہاں سے جانا ہی چاہتی تھی۔۔۔نیلم بھی ایک آہ بھرے بابا کے روم میں چلی گئی۔۔
◇◇◇
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain