Damadam.pk
anusinha's posts | Damadam

anusinha's posts:

anusinha
 

مینو۔۔۔۔۔ کیا اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہو؟" مہران کی بات پر وہ سر اٹھائے انکے روبرو ہوئی۔۔۔
"جی ہنڈسم۔۔۔ میرا فیصلہ نہیں بدل سکتا۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں نا وہ انکو خود سے زیادہ بوجھل لگی تھی ابھی وہ اس پر یہ کھولنا نہیں چاہتے تھے کہ وہ سب جان گئے ہیں۔۔۔دوسرا عادی نے جو مینو کو بتایا تھا اسکے بعد سے مینو ویسے ہی اداس دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔وہ اسکے چہرے کی اداسی بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔
"اگر میں کہوں کہ تم مجھے حانی کی خوشی دے دو؟" یہ کیا مانگ رہے تھے مہران۔۔۔۔ کچھ پل کو جیسے مینو کا سانس سا رکا۔۔۔ وہ بے یقینی لیے انکو دیکھ رہی تھی۔
"بابا پلیز۔۔۔۔ میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں۔۔۔۔ آپ تو سب جانتے ہیں نا" وہ بے قراری لیے تھی۔۔۔
"ہاں ابھی تو سب جانا ہوں" وہ دل میں بولے تھے۔
"دانیہ کی فکر مت کرو ۔ میں اس سے بات کر لوں گا" وہ اب اسے لاجواب کر رہے تھے۔۔

anusinha
 

وہ شام تک پہنچ گئی تھی۔۔۔۔ اور آتے ہی اسے یہ سن کر اطمینان تھا کہ حانی اور دانیہ دونوں ہی گھر پر موجود نہیں ہیں۔۔۔ وہ سیدھی مہران کے کمرے میں گئی تھی۔۔۔۔اسے یوں اپنے سامنے اتنے بڑے ظلم کے بعد بھی قائم دیکھ کر وہ مزید احساس جرم میں گرفتار تھے۔
"آپ ٹھیک ہیں نا ہنڈسم۔۔۔۔۔ آپکی طبعیت کا سن کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔۔اپنے ہر فیصلے کے باوجود میں لوٹ آئی" انکا ہاتھ تھامے وہ بے حد دکھی ہوئی۔اور وہ بھی اب سب جان چکے تھے۔
"بہت اچھا کیا۔۔۔۔تمہاری دوری مجھے ویسے بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔اور فکر مت کرو۔۔۔میں اب بہتر ہوں" اسکا چہرہ تھامے وہ بظاہر مسکرائے تھے۔
"شکر ہے اللہ کا۔۔۔۔۔آپ اپنا خیال رکھا کریں۔۔۔ مینو کے ہوتے ہوئے آپکو ہلکان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں" وہ بھی سر انکے سینے سے لگائے تھی۔۔۔۔ مہران کی آنکھیں ہلکی نمی لیے منور ہوئیں۔

anusinha
 

کیونکہ یہ اسکا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں پر انکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینو کی خوشیاں بھی عنقریب تھیں۔
◇◇◇

anusinha
 

مگر وہ بے دردی سے اسکے ہاتھ ہٹا چکی تھی۔۔۔۔۔ عادی سے وہ انتہا کی ناراض تھی۔۔۔۔
"ہمممم تم نے اچھا نہیں کیا عادی۔۔۔ تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے۔ مجھے تم سے ایسی گہری چوٹ کی امید نہ تھی" اپنا بیگ پکڑے اب وہ اندر جانے کو مڑی تھی ۔۔چہرہ مکمل سرخ اور بھیگ چکا تھا۔
"مینو ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔ یوں رو مت۔۔۔ میں بہت مجبور تھا پلیز مجھے سمجھو" اسکی گرفت بے دردی سے چھراتی وہ اندر کی جانب چلی گئی اور وہ وہیں تھکا سا چہرہ لیے کھڑا رہ گیا۔۔۔۔
"ہمممم۔۔۔۔۔ یااللہ میرئ اس وعدہ خلافی کو مینو کے لیے مزید تکلیف کی وجہ مت بنائیے گا۔۔۔۔۔اسے حانی سے جدا مت ہونے دیجئے گا۔۔۔۔۔ مجھے مینو کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لیجئے" جو بھی تھا۔۔۔۔وہ ابھی بھی پر امید تھا۔۔۔۔اور شاید اوپر والا بھی مینو کے امتحان کے ختم ہونے کا فیصلہ کرنے والا تھا۔۔۔۔

anusinha
 

۔۔ ہاتھوں کی پوری شدت سے وہ اسکا گریبان پکڑے غصے کی انتہا پر تھی۔۔۔
"یہ کیا کہہ رہے ہو عادی۔۔۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔۔تمہیں زرا بھی احساس ہے کہ تم نے یہ کر کے مجھ پر کتنا بڑا ظلم کیا ہے" غصہ یک دم تکلیف اور اذیت بنا تھا۔۔۔۔عادل کے چہرے پر بھی اسکی تکلیف دیکھ کر پریشانی ابھری۔۔۔
"اففففف میرے خدا۔۔۔۔۔میری زندگی کو اذیت کے اس ناختم ہونے والے سلسلے سے دوچار کرنے والے تم ہو۔۔۔۔۔۔ عادی کیوں۔۔۔ کیوں کیا تم نے میرے ساتھ یہ۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے یوں بدلا لو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی" وہ یک دم جیسے پھوٹ پڑی تھی۔۔۔
"مینو۔۔۔۔۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔ مجھ سے تمہاری تکلیف برداشت نہیں تھی۔۔۔۔ میں بھی تم کو تمہاری خوشی دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ میں نے خدارا کوئی بدلا نہیں لیا۔۔۔۔ میری نیت پر شک مت کرو" وہ اسے کندھے سے پکڑے دکھ میں بولا تھا

anusinha
 

دل کہہ رہا تھا کہ سچ بتا دے مگر دماغ نفی کر رہا تھا۔۔۔ آئیرپورٹ آ چکا تھا۔۔۔۔مینو باہر نکلی تو وہ بھی دوسری طرف سے نکل کر اسکا سامان نکال کر اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا۔۔۔
"مینو۔۔۔۔۔ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں" عادی کی بات پر وہ متوجہ سی ہوئی۔۔۔۔
"ہاں کہو۔۔۔۔ لیکن پلیز مزید کوئی نصیحت نہیں" وہ ہر شے سے بیزار سی لگی تھی۔ شاید اب وقت آگیا تھا کہ عادی اسے سب بتا دیتا۔۔
"۔مجھے نہیں پتا کہ تم مجھے اس سب کے لیے معاف کرو گی یا نہیں مگر میری نیت صرف تمہاری خوشیاں تم تک پہنچانے کی ایک کوشش کرنا تھی" یک دم عادی کے چہرے پر افسردگی سی آئی۔۔۔ اور مینو تو اسکی اس تمہید پر اب پریشان سی دیکھائی دی۔
"کیا مطلب" وہ بے تاثر سی ہوئی۔
"حانی تک تمہارے جذبات پہنچانے والا کوئی اور نہیں۔۔۔ میں تھا" اور اگلے ہی لمحے مینو کو لگا جیسے آسمان اسکے سر پر آ گرا ہو۔۔

anusinha
 

مینو نے ایک نظر اسے دیکھا اور مسکرا دی۔
"میری فکر چھوڑ دو۔۔۔۔۔ تم اپنا اور حرا کا خیال رکھنا۔۔۔۔ وہ بہت ہی اچھی ہے۔۔۔۔اسے دیکھ کر میرے دل تک اطمینان بھر گیا ہے۔۔۔ شاید اگر میں یہاں نہ آتی تو کبھی یوں مطمئین نہ ہوتی۔ اور ہمیشہ میرا ساتھ دینے اور مجھے مان دینے کے لیے تمہارا شکریہ" یک دم جیسے عادی کو اپنا وعدہ توڑنا یاد آیا۔۔۔۔۔ اسکا دل کیا وہ آج اسے بتا دے۔
"مینو میری بات ٹالو مت پلیز۔۔۔۔۔۔ تم حانی سے الگ مت ہونا۔۔۔۔ جب میں نے تمہارا مان نہیں توڑا تو تم بھی مت توڑو" وہ ہر ممکن کوشش کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔سب ہی مینو کو اسکی خوشیاں دینا چاہتے تھے اور وہ بھاگ رہی تھی۔
"عادی میں آگے ہی بہت الجھی ہوں۔۔۔ مجھے مزید کسی مان میں مت الجھاو۔۔۔۔۔ میں فیصلہ لے چکی ہوں۔۔۔" وہ بے تاثر سی تھی۔۔۔کتنی ہئ دیر عادل خود سے لڑتا رہا۔۔۔۔

anusinha
 

اگلے دن وہ اپنا سامان ریڈی کر چکی تھی۔۔۔۔۔ اپنا تمام رہا سہا حوصلہ جمع کیے وہ واپس جانے والی تھی۔۔۔۔۔۔ نہیں جانتی تھی کہ کیا ہونے والا ہے مگر وہ یوں فرار کیے کیے تھک گئی تھی۔۔۔
"اتنی جلدی واپسی؟" عادی حیران ہوا تھا جبکہ حرا تو باقاعدہ اداس سی تھی۔
"ہاں۔۔۔۔۔ شاید اب یہ جگہ بھی مجھے زیادہ دن برداشت کرنے سے انکاری ہے۔۔۔۔" وہ بظاہر ہنسی تھی مگر مینو کی تکلیف تو جیسے اسکی آنکھوں میں ثبت ہو چکی تھی۔
"مینال میں آپکو بہت مس کروں گی" حرا آگے آئی اور مینو کا چہرے تھامے اب اسکے ساتھ لگ گئی۔۔۔ مینو کی مسکراتی آنکھیں سامنے کھڑے عادی سے ملیں تو جیسے ہر طرف اطمینان سا ابھرا۔
"مس یو ٹو۔۔۔۔۔ تم دونوں نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔ یہاں آکر مجھے بہت زیادہ اچھا لگا۔۔۔۔۔۔۔ تم دونوں پاکستان آنا۔۔۔۔۔۔ میں انتظار کروں گی"

anusinha
 

پلیز حانی ایک آخری بار میرا مان رکھ لو" دانیہ کی باتیں اب اسے جیسے سنائی دینا بند ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم پاگل ہو گئی ہو" وہ اٹھ جانا چاہتا تھا مگر وہ اسکا ہاتھ تھام چکی تھی۔۔۔۔ایک کی آنکھوں میں دکھ اور شکایت تھی تو دوسری کی آنکھوں میں حسرت اور التجاء۔
"حانی۔۔۔میں تمہیں حکم دے رہی ہوں۔۔۔۔" اسکا کندھا پکڑے اب وہ سختی سے بولی تھی۔۔۔۔
"میرا دماغ کام نہیں کر رہا دانیہ۔۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو" وہ جیسے ہر شے سے فرار چاہتا تھا۔۔۔دانیہ کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔دانیہ نے ایک آہ بھری اور آئینے کے سامنے آئی۔۔۔۔
"بہت بہادر ہو تم مینو۔۔۔۔ اور یہ تمہاری بہادری کا انعام ہے میری جان، جو دانیہ تمہیں دے گی" وہ سائیڈ ٹیبل سے مینو اور حانی کی ڈائورس پیپرز پھارٹی بولی تھی۔۔۔۔۔ چہرے کا دکھ کچھ پل کو وافع ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
◇◇◇

anusinha
 

دانیہ شاید اپنا فیصلہ کر چکی تھی۔۔۔۔۔حانی کا تو فل وقت دماغ معاوف ہو رہا تھا۔
"دانیہ میں تمہارے ساتھ ناانصافی نہیں کر سکتا۔ نہ مجھے وہ کرنے دے گی۔۔۔۔خود بے شک وہ اس سب کو سہتے سہتے ختم ہو جائے" آخری بات پر وہ دونوں ہی تکلیف سی محسوس کرتے ہوئے بوجھل تھے۔
"حانی۔۔۔ مجھ پر بھروسہ ہے نا۔۔۔۔۔ وہ تم سے محبت کرتی ہے۔ تم اس سے کرتے ہو۔۔۔۔۔ اور میں تم دونوں سے۔۔۔ سب شادی نہیں ہوتی۔۔۔ تم میرے تب بھی دوست تھے اور آئیندہ بھی دوست رہو گے۔۔۔۔۔۔۔ میں اب تمہیں اور مینو کو ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور تم اس میں میرا ساتھ دو گے" حانی شاک ہی تو رہ گیا تھا۔۔۔۔
"دانیہ پلیز۔۔۔۔۔" وہ جیسے منت کرتے بولا تھا۔
"اور تمہارا کیا؟" کس قدر دکھ سے وہ اسکی بازو پکڑے بولا تھا۔
"میرے لیے تم لے آنا نا کوئی شہزادہ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے مجھے تمہاری شہزادی تم کو واپس کرنی ہے۔۔۔۔

anusinha
 

"یہ تکلیف شاید ہماری قسمت ہے دانیہ" وہ خود سے بھی بہت ناراض تھا۔۔۔۔
"نہیں۔۔۔۔یہ محض تم دونوں کی بیوقوفی ہے۔۔۔۔۔۔۔کاش یہ سب مجھے پہلے پتا چل جاتا تو میں کبھی بھی تم سے شادی کی حامی نہ بھرتی۔۔۔۔ کیونکہ دانیہ تم دونوں کی تکلیف کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔اس پاگل کا دماغ تو میں ٹھکانے لگاوں گی۔۔۔۔۔" دانیہ کی بات پر حانی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑ ہی ڈالا تھا۔۔
"تم بھی ہو گئی شروع" وہ یک دم بہت غصے میں تھا۔
"حانی۔۔۔۔۔ تم میرے دوست ہو اور ہمیشہ رہو گے۔۔ لیکن اگر مینو تمہاری زندگی سے گئی تو دوبارہ کبھی تم اسے نہیں دیکھ پاو گے۔ اگر وہ یہ سب محض میری خوشی کے لیے کر سکتی ہے تو میں تم دونوں کی زندگی کی سلامتی کے لیے یہ کیوں نہیں کر سکتی۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے کچھ مجھے بھی کرنے دو۔۔۔۔۔ ورنہ ساری زندگی یہ احساس جرم مجھے سر اٹھانے نہیں دے گا"

anusinha
 

مینو کا رکا سانس مزید روکنے کے بعد وہ فون بند کر چکا تھا۔۔۔ جانتا تھا کہ اب تو وہ اڑ کر بھی پہنچ جائے گی۔۔۔۔۔اب وہ اسے کسی صورت بخشنے والا نہیں تھا۔۔۔۔
"یااللہ میں کیا کروں۔اگر جاوں گی تو ہار جانے کا ڈر ہے۔۔۔۔ نہ گئی تو بیٹی کے فرض میں کوتاہی ہوجائے گی۔۔۔۔۔" اپنا سر جکڑ دینے کے انداز میں پکڑے وہ شدید دکھ میں تھی۔
◇◇◇
وہ ایک بار پھر سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔۔آج پھر اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔دانیہ اسکا کھانا روم میں ہی لے آئی تھی۔
"حانی۔۔۔۔۔ چلو کھانا کھا لو" حانی کو کہتے ہوئے وہ ٹرے میز پر دھرے اسکی جانب آئی جو شاید کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔
"ہمممم مجھے نہیں کھانا کچھ" وہ شاید خود تک سے بیزار تھا۔۔۔
"میں تمہاری اور مینو کی یہ تکلیف ختم کر دوں گی۔۔۔ لیکن مجھے کچھ وقت دو" اسکا ہاتھ تھامے وہ اسکے روبرو تھی۔۔۔۔ حانی ایک بار پھر خفگی لیے تھا۔

anusinha
 

وہ اسے کس کرب سے جتائے بولی تھی یہ تو وہ ہی جانتی تھی۔۔۔
"یہ تمہاری بھول ہے اب۔۔۔۔۔۔ تمہیں میرے سامنے آنا ہوگا۔ تمہارے اس اذیت ناک کھیل کا اب خاتمہ بغیر سامنا کیے ممکن نہیں۔۔۔۔ " اب وہ آنکھوں میں شدید غصہ لیے مقابل کی سانس روک چکا تھا۔
"میں آپکے سامنے کبھی نہیں آوں گی" مینو کا خوف اسے اس پار سے بھی دیکھائی اور سنائی دیا تھا۔
"کیوں۔۔۔۔۔۔ تمہیں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔اتنی تکلیف دے کر اب اسکے انجام کے لیے بھی تیار رہو مینال مرتضی۔۔۔۔ کیونکہ جب میں نے تکلیف دینے کا کھیل شروع کرنا ہے تو وہ کبھی بھی نہیں رکے گا۔۔۔ میرے جذبوں کی تپش اب تمہارے حق میں بہت ظالم ہوگی۔۔۔۔"وہ خود ہی فون بند کر کے اب پٹخ دینا چاہتا تھا مگر دوسری سمت کی خاموشی سننے کو رکا۔۔۔۔۔
"بابا کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔ ہو سکے تو واپس آجاو"

anusinha
 

میری چاہت کا احترام نہ سہی پر اس کی انسلٹ بھی مت کرو" وہ مزید ٹوٹ رہی تھی ۔۔ اتنی کہ جیسے حد ختم ہونے کو ہو۔۔
"حانی پلیز۔۔۔۔۔۔۔ " وہ رو دینے والی تھی۔
"کیا ایسا نہیں ہو سکتا مینو کہ تم روز مجھ سے نجات مانگو اور میں تمہیں روز وعدہ دے کر مکرتا رہوں۔۔۔۔۔۔ یوں تم کسی بہانے سے میرے نام سے جڑی رہو گی۔۔۔۔۔۔ تمہارا میری زندگی میں ہونا ہی میری زندگی ہے۔۔۔۔۔۔۔" اسے اب وہ دیوانہ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
"حانی خدا کےلیے " تکلیف دونوں طرف انتہا کی تھی۔
"کاش تم میرے سامنے ہوتی۔۔۔۔۔۔ میں کچھ بھی کر کے تمہیں روک لیتا۔ تم نے میری محبت اور نرمی کو میری کمزوری سمجھ لیا ہے۔" حانی کی آنکھوں میں شدید غصہ اور تکلیف تھی۔
"یہ سامنا اب فیصلے کے بعد ہوگا۔ تب جب ہمارا یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔" حانی کو لگا جیسے وہ اس دنیا کی سب سے بے حس اور ظالم لڑکی ہے۔۔۔۔

anusinha
 

انہی کے ملازم نے فون اٹھایا تھا۔۔۔۔
"میں مینال ہوں۔۔۔۔ گھر سب کیسے ہیں" وہ بس سبکی خیریت جاننا چاہتی تھی۔۔۔
"جی مینو بی بی وہ۔۔۔۔" اس سے پہلے کہ ملازم کچھ بولتا، کسی نے بہت تیزی سے فون اس سے لیا۔۔۔۔ حانی ملازم کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے فون کمرے کی طرف لے کر چلا گیا۔۔۔۔
"کیا ہوا۔۔۔۔سب ٹھیک ہیں نا گھر پر" مینو کی آواز سن کر وہ جیسے مزید اداس ہوا۔ کتنی فکر تھی اسے۔۔۔۔سبکی۔۔سوائے حنوط مرتضی کے۔۔۔۔۔چہرے پر سختی لائے وہ اپنے کمرے کا دروازہ پٹخ چکا تھا۔۔۔ وہ بھی یک دم چونکی تھی۔
"تمہیں کیا پرواہ۔۔۔اس گھر کی اور یہاں کے لوگوں کی۔۔۔۔۔۔" مینو کی ڈھڑکن تھم سی گئی تھی۔ اسے امید نہیں تھی کہ اسکی بات حانی سے ہوگی۔
"فون بند مت کرنا۔۔۔۔ورنہ وہیں آکر سارے حساب بے باک کروں گا" فون بند کرتے کرتے مینو کے ہاتھ کانپے۔۔۔۔۔دونوں طرف تکلیف سی تھی۔

anusinha
 

اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔۔۔" پھر سے تسلیاں۔۔۔۔اب تو اسکا ان تسلیوں پر بھی چیخنے کا دل چاہتا تھا۔۔۔۔۔ہلکا سا سر ہلائے انھیں آرام کرنے کا کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔ وہ بھی دوبارہ آنکھیں موندھ گئے۔
◇◇◇
عادی اور حرا نے ڈنڑ کا پلین بنایا تھا مگر مینو فل وقت واقعئ خود کے ساتھ رہنا چاہتی تھی تبھی ٹال گئی۔۔۔۔ وہ دونوں پھر اکیلے ہی چلے گئے تھے۔۔۔۔ کمرے میں اسکا دل گھبرایا تو وہ باہر لان میں آگئی۔۔۔۔ٹھنڈک دل تک اترتی محسوس ہو رہی تھی اور تکلیف تھی کہ دل کو چھلنی کر رہی تھی
"پتا نہیں یہ کیسی بے چینی ہے۔۔۔حانی ٹھیک ہوں" وہ پھر اپنا فون دیکھ رہی تھی۔۔۔۔مینو اپنا دوسرا نمبر آف کیے ہوئے تھی۔۔ پھر جیسے اسکا دل گھر کال کر کے سب کی خیریت کا پوچھنے کو کیا تو گھر کے لینڈ لائن پر کال کرنے لگ گئی۔۔
"جی کون" مینو نے ملاتے ہی فون کان سے لگایا تو

anusinha
 

مجھ سے میری کمزوریوں پر ہی کیوں آزمایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔" آج پہلی بار وہ بہت بے بس ہو کر شکوہ کر رہا تھا۔۔۔ مہران صاحب کی لرزتی پلکیں دیکھ کر جیسے اسکے چہرے کی تکلیف مزید وافع ہوئی۔۔۔۔وہ جاگ چکے تھے۔۔۔
"کیوں بابا۔۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ۔۔۔جانتے ہیں نا آپکا حانی کتنا اکیلا ہے۔۔۔ مجھے یوں مزید ہلکان کرنا ضروری تھا کیا؟ " مہران کیا بتاتے کہ وہ بھی حانی کے دکھ سے اندر تک کٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔ کیا کریں کہ انکے جگر کے ٹکڑے کی ہر تکلیف مٹ جائے۔ اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے اب وہ مسکرائے تھے۔
"یار۔۔۔۔۔ کیا تو لڑکیوں کی طرح رو پڑتا ہے۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں۔ اب اگر تیری آنکھ میں یہ نمی مجھے نظر آئی تو چماٹ دے ماروں گا تجھے ایک بار پھر" وہ کہہ کر خود ہی مسکرائے تھے۔۔۔ مگر سامنے والا تو شاید غم میں مکمل طور پر غرق تھا۔۔۔

anusinha
 

جو انکے دماغ اور دل پر موجود تھا۔۔۔۔۔۔سب ہی مہران کے روم سے اب باری باری جا رہے تھے۔۔۔حانی نے جتنا خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی اب وہ اتنا ہی ٹوٹا دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔ اسے دکھ تھا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ، بابا کو بھی تکلیف دے رہا ہے۔۔۔۔
"حانی۔۔۔پریشان مت ہو۔۔۔دعا کرو بس۔۔۔ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا ہے" رضوان سامنے صوفے پر تھے جبکہ وہ بابا کے ساتھ بیڈ پر نڈھال سا انکا ہاتھ تھامے ہوئے تھا۔
"نہیں۔۔۔ کچھ کا کوئی حل نہیں ہوتا" رضوان خود اس سب سچویشن سے پریشان تھے۔
"خود کو یوں کمزور مت کرو حانی۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوگا۔ بی بریو" وہ پھر اٹھے اور اپنا ہاتھ حانی کے کندھے پر دھرتے ہوئے باہر نکل گئے مگر فل وقت حانی کو یہ سب تسلیاں ، سہارے، بلکل بے وقعت لگ رہے تھے۔۔۔حانی کا پھٹا دل تو کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

anusinha
 

کیا حسرت تھی۔۔۔ پر وہ کیا جانتی تھی کہ کوئی اپنا سب کچھ اس پر وارے اسکا منتظر ہے۔۔۔۔
"کاش میں یہ کھیل ختم کرنے کا اختیار رکھتی۔۔۔۔ لیکن نہیں۔ مجھے معاف کر دیں حانی۔۔" آنکھوں میں آتی نمی صاف کیے وہ دکھ سے سوچ رہی تھی۔
◇◇◇
حانی شاید اپنے آپ کو مزید ٹوٹا ہوا ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی آفس گیا تھا مگر اسی وقت مہران صاحب کی طبعیت کی خرابی کا پتا چلا تو الٹے قدموں واپس پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ مہران اس سب سچویشن سے بہت پریشان تھے۔۔۔۔۔۔ اب جب وہ مینو کے جذبات سے واقف تھے تو انکو اپنا آپ حانی اور مینو کا مجرم لگ رہا تھا۔۔۔ انکا بی پی بہت ہائی ہو گیا تھا۔۔۔۔ڈاکٹر گھر ہی آیا تھا اور اس نے مہران صاحب کو کچھ انجیکشن دیے تھے اور ساتھ نیند کی دوا بھئ اور ہدایت کی تھی کہ انکو ٹنشن وغیرہ سے دور رکھیں۔۔۔۔ مگر ڈاکٹر کیا جانیں کہ یہ مشکلات سے کہیں بڑا بوجھ تھا

anusinha
 

یہ بتاو کیسی جا رہی ہے تمہاری لائف۔۔ جیجو کیسے ہیں؟ مینو شاید ان سب باتوں تک سے بھی تھک چکی تھی۔
"بھئی میرا حال تو بڑا بے حال سا ہے۔۔۔۔ شوہر صاحب کے حکم بجا لاتی ہوں۔ گھر ہے ، سسرال ہے۔۔۔بس یک دم جیسے زندگی مصروف ہو گئی ہے۔۔۔سوچ رہی ہوں بوتیک کا کام سٹارٹ کر لوں۔۔۔ ویسے بھی یہ میرا خواب ہے" اب تو مینو مسکرائی تھی۔
"بہت اچھا خیال ہے تم ضرور کرو۔۔۔۔۔ میرے لیے بھی دعا کرنا مہر کہ اللہ مجھے سرخرو کرے" مینو نے سر ، بیڈ کی بیک پر ٹکائے افسردگی سے کہا۔۔۔
"اپنے لیے سوچو اس بار مینو۔ باقی میری ساری دعائیں تمہارے لیے ہیں۔۔۔ اتنی تکلیف مت دو حانی کو۔۔۔ وہ بدگمان ہو گیا تو سب بکھر جائے گا" مینو نے پھر بس سر ہلایا اور وہ فون بند کر کے سائیڈ پر رکھ دیا۔۔۔
"حانی مجھے خود سے دور جانے مت دیجئے گا۔ آپکو مینو بھی کہے تو تب بھی" یک دم اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔