Damadam.pk
anusinha's posts | Damadam

anusinha's posts:

anusinha
 

مینو۔۔۔۔۔ سچ کہوں تو تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تمہیں احساس کی شدید والی بیماری لاحق ہے۔ یہ دنیا ہے میری جان۔۔۔ تھوڑی سی خودغرضی تو اپنے اندر لے آو۔۔۔ تم تو قربانیاں دے دے کر ختم ہو جاو گی۔۔۔۔" مہر کو لگا جیسے آج اسے مینو کو ڈانٹنا چاہیے۔
"مجھے اپنی پرواہ نہیں ہے" وہی ایک ہی جملہ۔۔۔۔
"یہی تو دکھ ہے مینو کہ تم نے آج تک ساری پرواہ دوسروں پر لٹا دی ہے۔۔۔ اپنے لیے تمہارے پاس ترس، بے بسی، مجبوری، اور تکلیف ہی بچی ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں تم ایک ہی پیس ہوگی اس دنیا میں" آخری بات پر مینو مسکرائی تھی۔۔۔
"یہی سمجھ لو" مسکراہٹ یک دم دکھ میں بدلی تھی۔
"تمہیں کسی نے قربانیوں کا ایواڈ دینے کا وعدہ تو نہیں کر رکھا نا لڑکی۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری بہت فکر ہے" اب تو مہر بھی ہلکی پھلکی خوشگواری لیے بولی تھی۔۔
"مت کیا کرو میری فکر۔۔۔

anusinha
 

وہ ایک دوسرے کے ساتھ صرف خوش دیکھائی نہیں دیتے بلکے خوش ہیں بھی" دوسری طرف جیسے مہر کو بھی اطمینان سا ملا تھا۔
"جو ہوتا ہے کسی نہ کسی مصلحت کے تحت ہوتا ہے میری جان۔ میں تو تجھے تبھی کال کرتی پر میرے شوہر صاحب۔۔۔۔ ھائے انھیں مدتوں کی کھوئی بیوی ملی ہے تو بس مت پوچھو۔۔۔۔" اب تو مہر کی شرارتی انداز سے کہی بات پر وہ بھی مسکرائی۔۔۔
"انکا اب حق بنتا ہے" مینو کی بات پر مہر بھی مسکرائی۔
"یہ بتاو کہ اس کی تکلیف کب کم کرو گی۔۔۔۔۔ مینو اتنی ظالم مت بنو۔ وہ تمہاری محبت ہے، تم اسکی ہو۔۔۔ پھر یہ تکلیف دہ کھیل کس لیے" مہر ایک بار پھر بوجھل ہوئی تھی اور مینو کی آنکھیں بھی تکلیف سے بھری ہوئی تھیں۔
"شاید کبھی کم نہ کر سکوں۔۔۔۔ مہر یہ کھیل میری مجبوری ہے۔ میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔ تم تو مجھے جانتی ہو" ایک بار پھر مینو اسے پاگل اور بے بس لگی۔

anusinha
 

مجھے خوشی ہے کہ آپ عادی کی دوست ہیں۔۔۔ اور اب میری بھی" عادل اور مینو دونوں ہی حرا کی نرمی سے اور مسکرا کر کہی بات سن کر مسکرا دیے۔۔۔
"سو سوئیٹ۔۔۔۔ مجھے بھی بہت اچھا لگا۔۔۔تم دونوں کو یوں ہنستا مسکراتا دیکھ کر۔۔۔۔ اور ہمیشہ میں تم دونوں کو ایسا ہی دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔" اب تو وہ ایموشنل ہونے کو تھی۔۔۔
"بھئی یہ لاڈ ختم ہو گئے ہوں تو کیا خیال ہے مووی دیکھی جائے" عادی خود ہی معاملے کی ایموشنل جھلک مٹاتے مسکرایا اور اب کی بار مینو متفق انداز میں مسکرائی تھی۔
◇◇◇
"آہاں بڑے لوگوں نے انٹری مار ہی دی آخر ۔۔۔۔ عادی نے بتایا مجھے۔۔۔ بہت اچھا کیا تم نے" مینو روم میں آئی تو مہر کی کال نے اسے جیسے تھوڑا فریش سا کر دیا تھا۔
"ہاں۔۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے مہر کہ یہاں آکر میرا وہ بوجھ کم ہو گیا ہے جو عادی کو دکھ دینے کے باعث مجھے لاحق تھا۔۔۔۔۔۔

anusinha
 

" عادی ان دونوں کو باتیں کرتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔
"لڑکیو۔۔ کیا خیال ہے کہیں باہر چلیں۔" وہ دونوں ہی حیرت ذدہ تھیں کیونکہ وہ کافی مستی موڈ میں دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔
"نہیں تم دونوں جاو۔۔۔۔ میں تو آرام کروں گی اب۔۔ گھومو پھرو یار یہی دن ہیں" وہ اب اتنی بھی نہیں تھی کہ کباب میں سیدھی سیدھی ہڈی بن جاتی۔۔۔۔۔
"بھئی ہم تمہارا موڈ ہی تو فریش کرنے کے لیے لے جانا چاہتے۔۔۔ چلو تم نہیں جا رہی تو ہم بھی نہیں جاتے۔۔۔۔گھر میں ہی رہتے ہیں" عادی اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا اور حرا اس سے ایک دم متفق تھی۔۔
"ارے میری وجہ سے آگے ہی تم لوگوں کا ہنی مون ڈسٹرب ہوا ہے۔۔۔۔ مجھے آکورڈ فیل مت کرواو" اب کی بار مینو نے معصومت سے منہ بنائے کہا۔۔
"ایسی کوئی بات نہیں ہے مینال۔۔۔۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ آپ آئی ہو۔۔۔۔اور پرسنلی مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔

anusinha
 

"تو پھر لڑکی کیسا لگا تمہیں یہاں آکر۔۔۔۔۔۔ اس جگہ کو مس کیا یا نہیں۔۔۔ تمہیں پتا ہے حرا ہم ہر ویک اینڈ پر یہاں ریکٹس کھیلتے تھے اور مہر ہمارے لیے آلو کے پراٹھے بناتی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ دو کھا جاتی تھی" دو پر مینو کی آنکھیں باہر آئیں تو وہ دونوں ہنسے۔
"ارے واہ یعنی آپ سب نے بہت سارا انجوائے کیا ہے۔۔۔۔۔ " حرا بھی مسکراتی بولی۔
"ہممم بہت۔۔۔ میری زندگی کا بہترین وقت ہی وہ تھا جب میں یہاں رہی۔ بلکل کبھی لگا ہی نہیں تھا کہ گھر سے باہر ہوں۔۔۔۔ یہ میرا اچھا دوست اور مہر میری بیسٹ فرینڈ۔۔۔۔۔" مینو نے عادی کی طرف دیکھے کہا۔۔۔وہ دونوں ہی مینو کا موڈ فریش کرنے میں لگے تھے۔۔۔۔ کیونکہ عادی اسکے اندر کی ہر تکلیف سے بخوبی باخبر تھا۔۔۔۔۔۔۔
"کیا مجھے مینو کو سچ بتانا چاہیے۔۔۔۔۔ نہیں اسکی یہ رہی سہی ہنسی بھی ختم ہو جائے گی۔۔۔ عادی سہی وقت کا انتظار کرو"

anusinha
 

بھروسہ رکھو مجھ پر" حانی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔ دانیہ اسے چھوڑنے کی بات کیسے کر سکتی ہے۔۔۔۔بے یقینی اب ناراضگی میں بدلی تھی۔۔۔
"تم دونوں کس مٹی کی بنی ہو۔۔۔۔۔ایک وہ ہے کہ اسکا ایثار ہی ختم نہیں ہوتا اور اسکی رہی سہی کسر تم پوری کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔ کیا حنوط مرتضی کے لیے مزید اذیت ابھی باقی ہے" وہ ابھی تک دکھ میں تھا اور دانیہ کو تو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بہت بڑا ظلم کر گئی ہے۔۔۔۔
"حانی اٹھو کھانا کھاتے ہیں۔۔۔۔ میں اب تمہیں پریشان نہ دیکھوں۔۔ چلو" وہ جیسے اسکی بات نظر انداز کیے اٹھی اور ہاتھ بڑھا دیا۔۔ حانی ناچاہتے ہوئے بھی ہاتھ بڑھا کر اٹھ گیا۔۔۔۔۔
◇◇◇
"اس وقت کافی کی شدید طلب تھی۔۔۔ تھینکس" حرا سب کے لیے کافی لائی تھی۔ وہ تینوں ہی لان میں بیٹھے تھے۔
"بہت اچھی ہے۔۔۔۔۔" مینو مسکرائی تو وہ دونوں بھی مسکرا دیے۔

anusinha
 

یک دم جیسے وہ حانی کے ساتھ گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔۔۔۔بے یقینی اور تکلیف کی ملی جلی کیفیت نے جیسے دانیہ کو ساکت کر دیا تھا۔۔۔
"یہ کیا کہہ رہے ہو حانی۔۔۔۔۔ حانی پلیز مزاق مت کرو۔۔۔۔۔وہ بھی۔۔۔ یا میرے اللہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا۔۔۔۔حانی یہ میں کیسے نہ جان پائی۔۔۔۔۔۔۔" اب کی بار وہ دونوں روئے تھے۔۔۔۔
"میں یہ راز خود تک رکھ رکھ کر تھک گیا ہوں دانیہ۔۔۔۔۔ وہ اس سب کے باوجود مجھے چھوڑ رہی ہے۔۔۔۔۔ وہ بہت ظالم ہے دانیہ۔۔" یک دم دانیہ نے اپنے چہرے پر آتے آنسو صاف کیے اور حانی کی سمت مڑتے ہوئے اسکا چہرہ تھاما۔۔۔
"بس۔۔۔۔۔ اب تم دیکھنا میں کیسے اس پاگل کی عقل ٹھکانے لگاتی ہوں۔۔۔۔۔ دانیہ کو اگر تمہاری زندگی سے جانا بھی پڑا تو خوشی خوشی جائے گی۔۔۔۔۔۔ مینو نے بہت تکلیف سہہ لی۔۔۔۔۔ تم فکر مت کرو۔۔۔۔ وہ نہیں جائے گی تمہیں چھوڑ کر۔۔۔۔

anusinha
 

وہ بظاہر ہلکی روشنی جلا چکی تھی مگر وہ بھی اس اجڑے شخص کو بے انتہا ناگوار گزری تھی۔۔۔۔۔حانی کی حالت دیکھ کر تو دانیہ ساکت رہ گئی تھی۔ وہ بیڈ کے ساتھ بیٹھا سر جھکائے ناجانے کونسا ماتم منا رہا تھا۔
"آجاوں گا" یوں لگا جیسے وہ آواز بھی بوجھل تھی۔۔۔ دانیہ نے دیکھا تو اسکی آنکھیں تھوڑی سوجھی تھیں۔۔۔ ہو بھی لال رہیں تھیں۔۔۔ فل بلیک میں وہ مزید بوجھل دیکھائی دے رہا تھا۔ دانیہ کو شدید افسوس اور احساس جرم نے گھیرا تھا۔۔۔
"حانی۔۔۔۔ یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپنا۔۔۔۔" دانیہ نے اسکا چہرہ خود کی طرف موڑے کہا اور اسکے سامنے ہی بیٹھ گئی۔۔۔
"کچھ نہیں" وہ اسکا ہاتھ ہٹائے اسی طرح بولا۔۔۔۔ شاید وہ اپنے آپ میں تھا ہی نہیں۔
" ایسی بے رخی کس لیے" وہ سنجیدہ سی تھی۔۔۔ جانتی تھی کہ وہ تکلیف میں ہے۔
"میں بھی تو سہہ رہا ہوں" وہ واقعی بے حد دکھ میں تھا۔

anusinha
 

نیلم کی اداس آنکھیں ایک پل کو مسکرائی تھیں۔۔۔۔
"ہاں۔۔۔۔ " وہ سر اسکے کندھے سے ٹکائے بولی مگر جو حالت وہ حانی کی دیکھ چکی تھی اس نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
"باقی ہم دعا کرتے ہیں کہ اوپر والا ان تینوں کے لیے بہترین فیصلہ کرے۔۔۔۔۔" وہ بہت دھیمے انداز میں بول کر مسکرایا ۔۔۔۔تو وہ بھی اسکا ساتھ دیتی ہوئی مسکرا سی دی۔۔۔۔۔
"تم میرے ہی ہوگے دائم۔۔۔۔ ان شاء اللہ " وہ اسے بھی بہت پیارا تھا۔ دل نے جیسے اس دلکش سے دوست کو پوری شدت سے اپنا مان لیا تھا۔۔۔۔اداسی کے سمندر میں وہ خوشی کا دریا ہی تھا۔۔۔ وہ کچھ بہتر سی ہو گئی۔۔۔
"چھچھورے کہیں کے" اور اگلے ہی لمحے وہ اسکے کندھے سے سر ہٹائے بولی تو وہ دونوں ہی بے ساختہ ہنس دیے۔۔۔۔
◇◇◇
"حانی ۔۔۔۔ یہ اندھیرا کیوں کر رکھا ہے۔ نیچے آجاو کھانا کھاتے ہیں" دانیہ اندازے سے لائٹ آن کرتی ہوئی بولی۔۔۔

anusinha
 

تو ایک لمحے کو وہ بھی ساکت ہوا۔۔۔
"یہ اتنا آسان تھوڑی ہے پاگل۔۔اپنی محبت کے معاملے میں ہر کوئی بہت ٹچی ہوتا ہے۔۔۔ یا تو پورا چھوڑ دینا بہتر ہوتا یا مکمل اپنانا۔۔۔ یہ بیچ کی تکلیف اتنی سخت ہے کہ تمہاری سوچ ہے۔۔۔ تم بتاو اگر مینو یا دانیہ کی جگہ تم ہوتی تو کیا کرتی؟" اب تو دائم اسکی آنکھوں میں جھانکے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ایک لمحے کو نیلم کو لگا اسکا دل رکا ہے۔۔۔۔۔۔یہ تو سوچنا بھی اتنا مشکل تھا پھر آخر مینو نے یہ اتنا ظالم فیصلہ کس اذیت سے لیا ہوگا۔۔۔۔
"یہ واقعی تکلیف دہ ہے" نیلم کی آنکھوں میں نمی سی تیری تو دائم نے ہاتھ سے اسکے وہ آنسو وہیں روکے۔۔۔۔۔
"سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ پریشان مت ہو۔۔۔۔ اور باقی تمہیں انکی جگہ جا کر سوچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔یہ بندہ فل صرف تمہارا ہے۔۔۔۔۔۔" نیلم کا ہاتھ وہ اپنے دل پر رکھتے آج پہلی بار دلکش انداز میں کہہ رہا تھا۔۔

anusinha
 

اففففف ایک تو یہ سب مجھے آفس بھیج بھیج کر میری سکن خراب کر دیں گے" دائم نے نیلم کا اداس منہ دیکھا تو اسے ہنسانے کو اسکے ساتھ بیٹھا دہائی دیتے بولا مگر اسکا کوئی ریکشن نہ دیکھ کر وہ بھی اداس ہو گیا۔
"کیا ہوا ہے۔۔۔تم بھی گھر کے ٹینس ماحول کی وجہ سے اپ سیٹ ہو؟" دائم بھی سنجیدہ ہو چکا تھا۔۔۔ وہ بس ہلکا سا سر ہلائے دوبارہ دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے ٹکائے بیٹھی تھی۔
"ہممم۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔ ہر کوئی پریشان ہے۔۔۔۔۔ صبح حانی بھائی کو دیکھ کر میرا تو دل کٹ سا گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ مینو سے آسانی سے دور نہیں ہوں گے" دائم بھی ٹیک لگائے افسردگی سے بولا تھا۔
"ناممکن۔۔۔۔۔ دائم کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ دانیہ اور مینو دونوں ہی حانی بھائی کی زندگی میں رہیں۔۔۔اسطرح تو سب سیٹل بھی ہو جائے گا نا" وہ دائم کی طرف رخ پھیرے اداسی لیے بولی

anusinha
 

"تمہاری دی ہر اذیت قبول ہے مگر اب تمہیں حساب دینا ہوگا۔۔۔ اب یہ جدائی کا فیصلہ تم اکیلی نہیں کرو گی۔ جب یہ میری اور تمہاری زندگی کا باہم جڑا معاملہ ہے تو اسکا فیصلہ کرنے کا سارا اختیار تمہارے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ ۔" آنکھوں کی نمی کو بے دردی سے صاف کرتا ہوا وہ تلخ سا چہرہ لیے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
◇◇◇

anusinha
 

گاڑی کا دروازہ کھولے وہ اندر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
"مینو تم نہیں جا سکتی" دکھ سے خود کلامی کرتا ہوا اب وہ لیٹر کھول چکا تھا۔۔۔۔ پڑھنے سے پہلے ایک لمحے کو دل رکا تھا۔۔۔
"میں جانتی ہوں میں نے آپکو بہت دکھ دیا۔ اس تکلیف کا ازالہ شاید میں مر کر بھی نہیں کر سکتی حانی۔ مجھے معاف کر دیں۔ کیونکہ میرے پاس صرف فرار کا اختیار ہے۔ اظہار کے لیے نہ ہی میرے پاس کوئی لفظ ہے نہ حوصلہ۔۔۔۔۔ آپ سے دور جا رہی ہوں اس امید پر کہ یہ فاصلہ، آپکو فیصلہ لینے میں آسانی دے۔۔۔۔مجھے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے دل سے بھی نکال باہر کیجئے۔ پلیز حانی میری دی ہوئی یہ آخری اذیت قبول کر لیں۔۔۔۔
مینال" یہ الفاظ کم اور حانی کی جان لیتے ہوئے تیر زیادہ معلوم ہو رہے تھے۔۔۔۔ تو گویا اسے اب حنوط مرتضی کی اذیت سے مزہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔ حانی کا تڑپنا شاید طویل تھا۔۔۔۔۔

anusinha
 

اب تو وہ عادی کی سرگوشی پر ہنسی تھی۔۔۔
"ھائےےے میں کب ہوں اس قابل" آہ تو ظالم سی تھی پر عادل اور کچن سے آتی حرا بھی ہنس دی۔
"آپ بہت قابل ہو مینال۔۔۔۔ " وہ بھی عادی کے ساتھ آکر بیٹھ چکی تھی۔۔۔ عادی اور حرا کو مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے دیکھ کر جیسے وہ جی اٹھی تھی۔۔ گویا عادی نے واقعی اسکا مان پورے دل سے نبھایا تھا۔۔۔
"مجھے شرمندہ مت کرو یار۔۔۔۔ویسے کیا جادو کیا ہے اس پر۔ یہ تو کافی دلیر اور خوش مزاج ہو گیا ہے" اب تو مینو کی بات پر وہ دونوں ہنسے تھے۔۔۔
"بس اس جادو کا نام نہیں بتانا اسکو حرا" وہ بھی شرارت لیے بولا تھا۔۔۔۔
"ھاھا چلو بھئی یہ بھی ٹھیک ہے" مینو کی اداسی جیسے ہلکی سی کم ہوئی تھی۔
"لو جی دو خواتین لگ گئی ہیں باتوں میں۔۔ اب کھانا ملنے کے متعلق تو ہم بھول ہی جاتے ہیں۔ "

anusinha
 

وہ صبح کی فلائیٹ سے نیویارک چلی گئی۔ بنا کسی کو بتائے اور اطلاع دیے۔ وہ آئی تو بہت دلبرداشتہ سی تھی مگر یہاں آئیرپورٹ پر ہی اسے جو استقبال ملا تھا اس نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔حرا تو اسکی سوچ سے بھی پیاری اور دھیمے مزاج کی تھی۔۔۔۔اس پر ستم کے وہ ہر وقت مسکراتی رہتی تھی۔۔۔۔عادل کی لک میں تبدیلی دیکھ کر مینو دل سے مسکرائی تھی۔۔۔۔وہ باقاعدہ کلین شیو کیے جنٹل مین لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور شاید وہ خوش رہنا بھی سیکھ گیا تھا۔۔۔۔اپنا ہنی مون وہ لوگ مینو کے لیے مختصر کر چکے تھے۔۔۔۔عادی اور حرا دونوں کے بہت اسرار پر وہ ان دونوں کے ساتھ جانے پر راضی ہو گئی تھی۔۔۔۔ مینو وہاں پہنچی تو اسکا سامان اسکے روم میں پہنچا دیا گیا۔۔۔۔۔ خود وہ عادی اور حرا سے باتیں کرتی رہی۔۔۔۔۔ عادل نے محسوس کیا کہ وہ بہت بوجھل سی ہو گئی ہے۔۔۔۔

anusinha
 

میں تو ساری زندگی اسکا یہ انکار بھی سن کر جی سکتا ہوں۔۔۔۔ بھلے وہ انکار کرے پر وہ میرے نام سے جڑی رہے۔۔۔ "دروازے میں کھڑی نیلم تو ساکت ہو چکی تھیں۔ حانی کی ایسی حالت تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچی تھی۔۔۔ اسکا بھائی اسقدر تکلیف میں تھا۔۔۔۔۔اسکے قدم وہیں جم چکے تھے۔
"ہمممم ٹھیک ہوگا سب۔۔۔۔ پریشان مت ہو" پھر جیسے مہران نے تسلی دی مگر نیلم کی آنکھیں ضرور نم تھیں۔
"اففففف یہ کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔ بھائی مینو کو اسقدر چاہتے ہیں۔۔۔۔ اور مینو بھی۔۔۔۔ نہیں یہ سب اتنا غلط کیسے ہو گیا۔۔۔۔۔ یااللہ میرے حانی بھائی کی تکلیف دور کر دیں۔۔۔۔ وہ بہت اذیت میں ہیں۔۔۔ آپ سب ٹھیک کر دیں۔۔۔۔۔ کسی کو کوئی دکھ نہ ہو اور سب خوش رہیں۔۔۔۔پلیز اللہ " نیلم کمرے تک آئی تو رو دی۔۔۔۔۔ نجانے اب قسمت کیا چاہتی تھی۔۔۔۔ کیا فیصلہ ہونے والا تھا آخر۔۔۔۔۔
◇◇◇

anusinha
 

دانیہ کی خوشی کے آگے اس نے اپنی خوشی بھلا دی۔۔۔۔ میں اس سے بہت خفا ہوں۔۔۔۔تم نے اپنی کوشش کی ہے نا۔ اسکے فیصلے کا انتظار کرو۔۔۔۔ یوں رو کر بوڑھے باپ پر ظلم بند کرو۔۔۔۔ میں آگے ہی خود کو تمہارا اور مینو کا مجرم سمجھ رہا ہوں" وہ خود دلبرداشتہ سے تھے۔۔۔
"بابا وہ چلی گئی تو؟ نہیں برداشت کر سکتا۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں ناں میں بہادر نہیں ہوں۔۔۔۔۔ اسے الجھا تو آیا ہوں مگر آپ نہیں جانتے وہ بہت ظالم ہے۔۔۔۔۔ یہ کھیل اتنی آسانی سے ختم نہیں کرے گی" حانی کا ڈر اپنی پیک پر تھا۔۔۔
"یار حانی سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔ تم ہوش سے کام لو گے تو ہی یہ معاملہ ٹھیک ہوگا۔۔۔۔۔۔ اسے منانے کی ہر ممکن کوشش کرنا حانی۔۔۔ اب کی بار اگر مینو کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو میں خود کو معاف نہیں کر پاوں گا" وہ بھی بے حد افسردہ تھے۔۔۔
"کب چاہتا ہوں کہ وہ دور ہو۔۔۔۔

anusinha
 

اور وہ تو رب تھا۔۔۔۔۔۔ کوئی ایک عمر اس سے لو لگائے ہوئے ہو اور وہ اسے کسی کم انعام سے نوازے ایسا ممکن ہی کب ہے۔۔۔اوپر والا جو کرے گا بہترین کرے گا۔۔۔ وہ جو دیتا ہے اسی میں عافیت ہے۔۔۔۔۔۔وہ جو لیتا ہے اسی میں نجات ہے۔۔۔۔۔۔۔ یک دم آذان کے چہرے پر اطمینان ابھرا تھا۔۔۔۔۔۔
◇◇◇
"شاید ہم دونوں کا نصیب دو الگ کناروں پر لکھ دیا گیا ہے۔ وہ کتنی آسانی سے مجھے سزا سنا گئی ہے۔۔۔۔ میری مشکل کا بھی تو کوئی حل ہونا چاہیے نا بابا" حانی یک دم ٹوٹا پھوٹا سا مہران کے قدموں میں بیٹھا انکی گود میں سر دھرے تھا۔۔ مہران خود حانی کی اس کیفیت سے دکھی تھے۔۔۔۔ وہ اپنی کوشش کرنے کے باوجود ہار گئے تھے۔
"حانی سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔ کہیں سے بھی مردوں والی ہمت نہیں ہے تم میں۔۔۔۔ اسے بھی تو سمجھو نا کہ ناجانے کس دل سے اس نے یہ فیصلہ کیا۔۔۔۔۔

anusinha
 

مجھے خود سے دور نہ کرنا۔۔۔۔ میں تیرے دیے پر راضی ہوں۔۔۔۔ مجھے مت آزمانا" گاڑی کی سپیڈ بڑھائے وہ مکمل پسینے میں شرابور تھا۔۔۔۔۔۔
"یہ کیا تھا آج۔۔۔۔۔ وہ بچہ وہ آدمی۔۔۔۔۔ افففففف کیا میری دیوانگی بھی یہ روپ اوڑھنے والی تھی۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ یہ کیا کرنے والا تھا میں۔۔ جب اس رب نے ایک چیز لے لی ہے تو میں کیوں اسی کو پانے کی ضد میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ یہ دربدری عنقریب میری قسمت بن جاتی۔۔۔۔۔ ہاں جو میرا نہیں ہے اسے مانگ مانگ کر میں نے بھی تو اس رب کو ناراض کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یااللہ تو نے مجھے بچا لیا ہے۔۔۔ میں تیرا شکر گزار ہوں۔۔۔۔۔۔۔" یک دم آذان کی آنکھیں نمی سے بھر گئی تھیں۔۔۔۔۔
"مجھے خود سے دور مت کیجئے گا اللہ ۔۔۔۔۔۔ آپ کے ہر فیصلے پر راضی ہوں۔۔۔۔۔ ہر فیصلے پر۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ مجھے معاف کر دیں" دل سے وہ اپنے کیے پر نادم تھا۔۔۔۔۔۔

anusinha
 

میں اس رب کے دیے پر راضی نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج جو یہ میری آنکھ میں آنسو ہیں ناں۔۔۔ یہی کہانی ہے انکی" وہ شاید اپنا دل پھٹا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ اففففففف یہ کیا ہے۔۔۔۔یہ آدمی اور اسکی کہی ہر بات آذان کو خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ کہیں یہ اشارہ تو نہیں۔۔۔
کہیں تم بھی اللہ سے ایک ہی ضد تو نہیں لگا بیٹھے آذان۔۔۔۔ یہ کیوں نہ کہا کہ مولا وہ دے جو میرے لیے ہے۔۔۔۔۔ آذان کو لگا جیسے ایک دن وہ بھی ایسی دیوانگی اوڑھ کر کسی فٹ پاتھ پر پڑا ملنے والا تھا۔۔۔۔۔۔ آج اسکی فجر کی نماز قضا ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ایک ڈر اور فرار تھا جو آذان کے چہرے پر نمودار ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
"یہ رکھیں۔۔۔۔۔ میں پھر آوں گا" وہ کچھ مزید پیسے اس آدمی کے ہاتھ میں دیتا ہوا اپنی پوری رفتار سے گاڑی کی طرف دوڑا۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک لمحہ لگائے بنا گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔۔۔۔
"یااللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔۔۔