*پتہ ہے صبر کسے کہتے ہیں..!؟ جب آپ زِندگی کے اُس مقام پر ہوں جہاں آپ کا دِل زوروں سے رونے کو کرے ، لیکن اِس کے بجائے آپ اللّٰہ کے فیصلے پر ، راضی ہوکر خاموشی سے وہ وقت گُزار لیں اِسے کہتے ہیں صبر! ۔
*ایسے لوگ بُہت کم مِلتے ہیں جو آپ کی جُھوٹی ہنسی کے پیچھے چُھپی اذیت کو جان لیں ، آپ کے بات کرنے سے پتہ لگا لیں کہ ؛ آپ پریشان ہیں ، آپ کی آنکھوں میں بس سرسری سا دیکھ کر آپ کی اُداسی بھانپ لیں ، جو ہنسی والے ایموجی کے پیچھے چُھپی آہ و زاری جان لیں ، بس زندگی میں اُن ایک چند لوگوں کی قدر کریں ورنہ یہ کھو جائیں تو دوبارہ نہیں مِلتے ، کیوں کہ ؛ ایسے لوگ ڈُھونڈنے سے نہیں نصیب سے مِلا کرتے ہیں!* ۔ " 🖤🙂
انا سب میں ہوتی ہے جُھکنا کوئی بھی پسند نہیں کرتا مگر اِس کے باوجود اگر کوئی اپنی انا کا گلہ گھونٹ کر آپ کے لیے جُھک رہا ہے آپ کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے تو قدر کریں ایسے رشتوں کی ورنہ اچھے لوگوں کا کیا ہے وہ کہیں بھی کسی بھی جگہ اپنا مقام بہت آسانی سے بنا لیتے ہیں اور رہ گئی بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر آپ نے کِتنا گھاٹے کا سودا کیا ہے یہ بات تو وقت آپ کو سمجھا دے گا...! لیکن جب تک آپ کو سمجھ آئے گی واپسی کے سارے راستے بند ہوچکے ہوں گے۔
غمِ دنیا جو نہ ہو گا غمِ جاناں ہو گا گھر اجڑنے کا مرے کوئی تو ساماں ہو گا پاسِ غم، پاسِ وفا، پاسِ جنوں، پاسِ حبیب اور تم عشق کو کہتے تھے کہ آساں ہو گا اک ذرا شورشِ اندوہ وفا سے چھوٹوں فیصلہ پھر ترا اے گردشِ دوراں! ہو گا اے جنوں لے تو چلا ہے سوئے گلشن ہم کو اور اگر کل یہی گلشن بھی بیاباں ہو گا؟ موت کا غم ہے اگر آج تو کل فکرِ حیات گردشِ وقت کا یہ بھی کوئی احساں ہو گا ایک مدت ہوئی افسردہ ہے رفتارِ حیات کون جانے کوئی کب حشر بداماں ہو گا راس آئے ہمیں بربادیءِ ہستی شاید رنج و غم ہو گا نہ اندیشہءِ دوراں ہو گا چشمِ غم شمع بنی تیرے سیہ خانہ کی یاد اتنا تو تجھے اے شبِ ہجراں ہو گا؟ جی رہا ہوں اسی امید پہ شاید ہمدم دردِ دل ہی مرے اندوہ کا درماں ہو گا جان سرور نے غم عشق میں ہاری آخر کیا خبر تھی کہ یہ کافر بھی مسلماں ہو گا
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران سرا ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزر گاہوں میں اک کرن ذوق فزا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بوئے گل، گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک تہذیب فنا ہوتی ہے
ایسے ٹوٹا ہے محبت کا بھرم ، آج نہ پوچھ جھوٹے لگتے ہیں وفاؤں کے دھرم ، آج نہ پوچھ اپنی اوقات سے بڑھ کر تری خواہش کی تھی خود سے آنے لگی آنکھوں کو شرم ، آج نہ پوچھ میں نے ہر باب میں لکھی تھی وفائیں تیری آخری حرف پہ روتا ہے قلم ، آج نہ پوچھ