دنیا میں ہزار رشتے بناؤ لیکن ایک رشتہ ایسا ضرور بناؤ
کہ جب ہزاروں آپ کے خلاف ہوں تو وہ ایک آپ کے ساتھ ہو
وہ جو ہاتھ تک لگانے کو سمجھتا تھا بے ادبی
گلے لگ کے رو دیا بچھڑنے سے ذرا پہلے
بچھڑوں گی کچھ اس طرح تم سے
قبریں کھودتے رہ جاؤ گے میرے ہم ناموں کی
وہ پاس تھا تو زمانے کو دیکھتی ہی نہ تھیں
بچھڑ گیا تو ہوئیں پھر سے دربدر آنکھیں
مجھے نہیں معلوم کہ انسان کی تعریف کیا ہیں مگر انسان کہنے کا لائق وہ ہے جو دوسروں کو دکھ نہیں دیتا
دل کسی سے تب ہی لگانا جب دلوں کو پڑھنا سيکھ جاؤ
ہر اک چہرے کی فطرت ميں وفاداری نہیں ہوتی
میں نے ہر بار نئی آنکھ سے دیکھا تجھ کو
مجھ کو ہر بار نیا عشق ہوا ہے تجھ سے
دکھاوے کی محبت سے بہتر ہے نفرت ہی کرو تم ہم سے
ہم سچے جذبوں کی بڑی قدر کیا کرتے ہیں
نفرت کرتے ہو نہ مجھ سے تو اس قدر کرنا
کہ میں دنیا سے جاؤں اور تیری زبان پر لفظ شکر ہوں
اس کو میری نفرت کا اندازہ نہیں شاید
اس شخص نے دیکھا ہے میرا پیار مسلسل
ضروری نہیں کہ محبت میں روز باتیں ہوں
خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھنا بھی عشق ہے
کچھ رشتے کرائے کے مکان کی طرح ھوتے ھیں
جتنا بھی سجا لو اپنے نہیں ھوتے
ع
میں نے ہر بار نئی آنکھ سے دیکھا تجھ کو
مجھ کو ہر بار نیا عشق ہوا ہے تجھ سے
مصیبت عین راحت ہے اگر ہو عاشق صادق
کوئی پروانے سے پوچھے کہ جلنے میں مزا کیا ہے
بہت سلجھے ہوئے تھے ہم
بہت تفصیل سے الجھا گیا کوئی
تیرا عشق مجھے اس حال میں لے آیا
نہ میرا تن اپنا نہ میرا من اپنا
جو دل کے سارے درد بانٹ لے
ایسے دوست زندگی میں بہت کم ملتے ہیں
جو دل کے سارے درد بانٹ لے
ایسے دوست زندگی میں بہت کم ملتے ہیں
سب سے بہترین دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں بھی ساتھ نہ چھوڑے
مر جائیں تو بڑھ جاتی ہے انسان کی قیمت
زندہ رہے تو جینے کی سزا دیتی ہے دنیا