اچھی یادیں آپ کی آنکھوں میں تبی نمی لاتی ہیں
جب آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ ان یادوں کو دوبارہ جی نہیں سکتے
میں شکایت کیوں کروں یہ تو قسمت کی بات ہے
تیری سوچ میں بھی میں نہیں مجھے لفط لفط میں تو یاد ہے
زخم دینے والے بھی اپنے
اور مرہم لگانے ولے بھی اپنے
بڑے ہی سخت تھے زندگی کے حادثے
زخم بھی کھائے ہم نے مرہم بھی ہمیں رکھنا پڑا
سرد سرد موسم میں زرد زرد ہونٹوں پر
چپ کا جو پہرا ہے کوئی تو زخم گہرا ہے