آج کی رات خیر سے گزرے
دردِ دل بار بار اٹھتا ہے
💔😢💔💔😢💔
ایسے جاتی ہے زندگی کی امید
جیسے پہلو سے یار اٹھتا ہے
کیوں نہیں محسوس ہوتی انہیں میری تکلیف؟
جو کہتے تھے تمہیں ہم اچھے سے جانتے ہیں
ہم بدنصیب لوگ کسی کو کیا یاد آییں گے
ہم تو درد لے کر بھی مسکرانے کی ادا رکھتے ہیں
ہم بدنصیب لوگ کسی کو کیا یاد آییں گے
ہم تو درد لے کر بھی مسکرانے کی ادا رکھتے ہیں
باہر سے تو رونق ہے وہی آج بھی لیکن
اس عشق نے اندر سے جلایا ہے بہت کچھ
باہر سے تو رونق ہے وہی آج بھی لیکن
اس عشق نے اندر سے جلایا ہے بہت کچھ
باہر سے تو رونق ہے وہی آج بھی لیکن
اس عشق نے اندر سے جلایا ہے بہت کچھ
اتنا تو کسی نے چاہا بھی نہیں ہو گا
جتنا میں نے صرف سوچا ہے تجھے
ایسا نہیں ہے کہ مجھے تمہارے سوا کوئی نظر نہیں آتا
درحقیقت مجھے کسی اور کو دیکھنے کی چاہ ہی نہیں
باہر سے تو رونق ہے وہی آج بھی لیکن
اس عشق نے اندر سے جلایا ہے بہت کچھ
احساس بے رخی میں نکل آۓ جو آنسو
یادوں نے تیرے اور بھی بے چین کر دیا
میں روتی رہی رات بھر پر یہ فیصلہ نہ سکی
تو یاد آ رہا ہے یا میں یاد کر رہی ہوں
اچھی یادیں آپ کی آنکھوں میں تبی نمی لاتی ہیں
جب آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ ان یادوں کو دوبارہ جی نہیں سکتے
چپ ہوں کس وجہ سے ہمیں معلوم نہیں
دل ڈوب سا جاتا ہے جب تم یاد نہیں کرتے
اگر زندگی کو ہمیشہ خوشیوں کے ساتھ گزارنا چاہتے ہو تو
غمزدہ لوگوں کے غم سنا کرو کبھی دکھی نہیں رہو گے
پہلے ڈر لگتا تھا موت کے نام سے
اب ڈر لگتا ہے محبت کے نام سے
عمر بیت جاتی ہے دل کے رشتے بنانے میں
زرا سی رنجش پہ لوگ چھوڑ دیتے ہیں دامن