یہ زمین کی فطرت ہے کہ ہرچیز کو جزب کرلیتی ہے
ورنا تیری یاد میں گرنے والے آنسو کا الگ سمندر ہوتا۔
تم نے چھوڑا جب سے آنسو پوچھنا
ہم کو رونے کا مزہ آتا نہیں۔
ضبط غم اتنا آسان نہیں
آگ ہوتے ہیں وہ آنسوں جو پئیے جاتے ہیں
اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو اظہار نہیں کرتے
مر تو جاتے ہیں پر کسی کو بدنام نہیں کرتے😢
دیوانہ کہہ کر شہر میں رسوا کیے گۓ
ہم میں فقط یہ عیب تھا ہم بےوفا نہ تھے💔
میں وہ بدنام محبت ہوں جدھر جاوں زمانے میں
نگاہیں خلق کی اٹھتی ہیں مجھ پر انگلیاں بن کر
ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﮨﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ
ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
تنہا نہیں ہوں میں!!
مجھ میں بسا ہے وہ😏
جب انسان اندر سے صحراوں میں بھٹک رہا ہو
تو شہروں کا ہجوم بھی اس کی تنہائی دور نہیں کر سکتا💔
اکیلے رہنا سیکھ چکا ہوں میں
اب دل نہیں لگتا محفلوں میں
کندھا نہیں ہے میسر کوئی اب مجھے
رونا آئے تو دیوار سے لگ جاتا ہوں💔
اس کی خوشبو سے معطر ہے میری تنہائی
یاد اس کی مجھے تنہا نہیں ہونے دیتی💑