وہ آئے تھے ھم سے وفاؤں کا حساب کرنے
کتاب وفا کھولی تو قرضدار ھوکر چلے گئے
ہر ایک چیز برائــے فروخت رکھ دیں گــے
تـمہارے پـیار کـی ہم انتہا خریدیں گــے ۔۔۔
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر
سانحہ یہ ﮨﮯ ﮐﮧ اب آرزو بھی نہ رہی
اب تو وہ ہوگا جو دل فرمائے گا 🔥
بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا.....
ان کے واسطے تماشہ تھا
ادھر زندگی تباہ ہوگئی
میرے جیسا ہو جائے گا
جب عشق تمہیں ہو جائے گا
دل کے سودے میں نفع و نقصان دیکھنے والے دل والے نہیں تاجر کہلاتے ہیں
چلئیے وہ شخص ہمارا تو کبھی تھا ہی نہیں
دُکھـ تو یہ ہے کہ تُمہارا بھی نہیں ہو سکتا
↭🙌🏻
بے وفا ہوں گے لاکھوں ہزاروں
کوئی کم ظرف تیرے جیسا نہیں ہے 🔥
*" کون آنکھوں میں چھپے کرب کو پڑھتا ہوگا!؟ لوگ اتنے بھی سمجھدار کہاں ہوتے ہیں! ۔ " 💔🙂
کسی کے دل کے راستے پر کسی اور کے قدموں کے نشان مل جائے تو جانا ترک کردینا چاہیے
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ؟
ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ___ﺭﺍﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ...
🍁
جس رات مہکتی ہیں کسی رات کی یادیں
اس رات گزرتی ہی نہیں رات ہماری
ظفر اقبال ~
اگـر من چـاہے شخص کـو کچھ ہو
جـاۓ تو اپنـا بھـی دل کہیـں نہیں
لگتا چاہے لاکھ جگہ ادہر ادہر چلـے
جاؤ دل بے چین ہی رہتا ہے
ہمیں یوں خرچ کیا ہے تمہاری خواہش نے
خزانے جس طرح بیماریوں میں لگ جائیں
🍁
جب توجہ غائب ہوتی ہے تو ،
رہنے اور چھوڑنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے!
میرا غم ہی آخر میرے کام آیا آج بہت رویا اور آرام آیا
وہ ملا ہے مجھ کو اکثر
سرے راہ چلتے چلتے......
وہی اجنبی نگاہیں...........
وہی بے رخی کی باتیں
.../
انسان اپنے آپ کو خواھشات کے پتھروں میں خود چنواتا ہے- پھر جب سانس رکنے لگتی ہے تو شور مچاتا ہے.
انسان بڑا نادان ہے ہر خوشی حاصل
کرنے کے لیے ہر کوشش کرتا ہے لیکن
کافی خـــوشیاں کسی کی اہمیت کا
محتـاج ره جاتی ہیں.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain