مذہب اور محبت پہ جب تک عملاً کچھ نہ ہو تو دونوں بیکار ہیں. ان دونوں چیزوں کا دعوؤں اور باتوں سے کوئی لینا دینا
نہیں ہے۔
روح میں جذب کبھی خوں میں رواں ہوتا ہے۔۔
وہ بچھڑ کے بھی جدا مجھ سے کہاں ہوتا ہے۔۔
وقت کی گردش میں زندگی پہلے بھی آتی تھی
اب کی بار "فل سٹاپ" لگ گیا ہے
تیرے بغیر دیکھا ہے محسوس کر کے
جینے میں اب وہ بات نہیں۔۔۔۔۔۔
یہ کبھی ختم نہیں ہوتا، یہ الگ بات ہے کہ آپ اس بارے میں مزید سوچنا چھوڑ دیتے ہیں، لیکن یہ احساس آپ میں موجود رہتا ہے۔ ایک شخص جو کبھی اہم تھا ہمیشہ اہم ہی رہتا ہے۔ "
یوں تو خود کو سنبھال لوں میں مگر
یار مجھ کو تیری ضرورت ہے
مجھے معلوم ہے میں تھک چکا ہوں!!!!!
مگر اب کیا کروں رستہ یہی ہے............
😞😔
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﮟ ﺳﮑﯿﮟ. ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮔُﮭﭩﻦ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻦ ﺟﺎتی ہے۔۔۔۔۔
المیہ تو یہ بھی ہے کہ انسان کسی کے پہلے ایکسپریشن سے ایمپریس ہو جاتا اور جب اس میں استحکام نہیں رہتا تو اسکو بر بھلا کہا جاتا۔۔۔اگر پہلے ایمپریشن کے بجائے استحکام سے کام لیتے ہوئے لوگوں/چیزوں کو جج کیا جائے تو کافی سکون مل سکتا زندگی میں۔۔۔
گزرے ہیں عشق میں کچھ ایسے مقام سے کہ
نفرت سی ہو گئی ہے محبت کے نام سے
علاوہ میرے ہر اک شخص نور نکلے گا
میں جانتا ہوں مرا ہی قصور نکلے گا
یہ خوب ہم سے زمانے نے ضد لگائی ہے
ہوا نہ میرا جو اس کا ضرور نکلے گا
خبر مجھے تھی یہ رستہ نہیں ہے منزل کا
گمان کب تھا کہ خود سے بھی دور نکلے گا
نشہ ہے عارضی ابرک یہ چاہے جانے کا
تمہارے دل سے بھی جلدی غرور نکلے گا
زندگی اِتنی بھی دشوار نہیں تیرے بغیر
تجھ کو ہر روز سرِ شام بُھلانا ہی تو ھے۔
ممکن جو اگر ہوتا
ہم تم کو بھلا دیتے
یادوں کو کفن دے کر
بے وقت سلا دیتے
تنہائی میں جی لیتے
تم کو نہ صدا دیتے
اس دل سے تیرے دل تک دیوار اٹھا دیتے
ممکن ہی نہیں ہے ورنا
ہم تم کو بھلا دیتے
کبھی وہ خاص عنایت کہ سو گماں گزرے
کبھی وہ طرزِ تغافل کہ___ مہرباں نہ لگے۔۔
اک خاص حد پہ آ گئی جب تیری
بے رخی
نام اس کا ہم نے گردش ایام رکھ دیا!!!
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی🍁👣
اب کس بات پر نہیں آتی 🔥🔚💔