اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے صبحِ فردا کی کِرن بھی نہ جہاں تک پہنچے میں نے آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں کچھ اور چراغ روشنی صبح کی شاید نہ یہاں تک پہنچے بے کہے بات سمجھ لو تو مناسب ہوگا اس سے پہلے کہ یہی بات زبان تک پہنچے تم نے ہم جیسے مسافر بھی نہ دیکھے ہوں گے جو بہاروں سے چلے اور خزاں تک پہنچے آج پندارِ تمنّا کا فسُوں ٹُوٹ گیا چند کم ظرف گِلے نوکِ زبان تک پہنچے اقبال عظیم
. 🍁🌹🥀🌸 ;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;; 🌸🥀🌹🍁 . 🌹🍁نہ کبھی بدلے یہ لمحہ🍁🌹 . 😎💝 نہ کبھی بدلے یہ خواہش ہماری ❣😘 . 💯🌺ہم دونوں ایسے ہی رہیں ایک دوسرے کے 💛🌹 . 😍😻جیسے تم چاہت اور میں زندگی تمہاری