وہ دن بہت یاد آتے ہیں، جب میں تمہیں دن بھر کی داستان سناتا تھا، آج میں نے یہ کیا وہ کیا یہاں گیا وہاں گیا، آج امی نے ڈانٹا، آج میں رویا، آج میں بہت خوش ہوں، آج بہت اداس ہوں، ایسے کیا ویسے کیا، آج میرے سر میں درد ہے بولنے پر آتا تھا تو چپ کرنا بھول جاتا تھا، تم بھی چپ چاپ سنتی رہتی تھی میری پاگل باتیں، مگر اب کسی سے کچھ کہنے کا دل نہیں چاہتا، کتنی تکلیف ہو کتنا دکھ ملے کسی کو نہیں سناتا، تمہیں اپنی ذات تک رسائی دی تھی، تمہارے لہجے میں تلخیوں کے بعد، اپنی ذات کو دفن کردیا، تمہارے چلے جانے کے بعد " میں نے چپ رہنا سیکھ لیا" ــــ
گزرے دنوں کی باتیں...... کتنا اچھا وقت تھا وہ جب صبح و سویرے اپ کا جگانا ہوتا تھا. ہر وہ لمحہ فلاں کیا کہ نہیں.... کھانا کھایا کہ نہیں... سارا دن باتوں کا نہ حتم ہونا بات بات پر آپ کا لڑنا.... بہت یاد آتا ہے وہ شاہد کسی کی نظر لگ گئی ہماری محبت کو یا کوئی مجبوریاں؛ پر جو بھی ہے میں آج تک نہیں بدل سکا حود کو آج بھی ہر بات جوڑی ہے تمہاری بات سے.... آج بھی سراہانے کو آپ کی آغوش سمجھ کر سو جاتا ہوں جیسے گزرے دنوں میں آپ کہ ساتھ وہ پل گزرے شاہد پھر کبھی زندگی میں تم سے ملاقات نہ ہو پائے تم سے بات نہ...💕💕💕💝💝💝💝💓💓💓🌺🌺🌺❤❤❤