کبھی یاد آؤں تو پوچھنا ذرا اپنی فرصتِ شام سے کسی عشق تھا تیری ذات سے کسی پیار تھا تیرے نام سے ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا جو کبھی تُجھے بھی عزیز تھا وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے وہ مر مٹا تیرے نام پہ ہمیں بِ رخی کا نہیں گلہ کے یہی ہے وفاؤں کا صلہ مگر ایسا جرم تھا کون سا گئے ہم دعا و سلام سے کبھی یاد آؤں تو پوچھنا ذرا اپنی فرصتِ شام سے
"مجھ سے میری عمر کا خسارہ پوچھتے ہیں یعنی لوگ مجھ سے تمہارا پوچھتے ہیں" "میں بتاتا ہوں اُس سے تعلق نہیں رہا انہیں یقین نہیں آتا اور دوبارہ پوچھتے ہیں..."!🌸❤
حال اچھا ہو تو ہو جاتے ہیں چُپ لوگ یہاں !! ورنہ ہر ایک کو بتلائیے " اب کیسے ہیں ؟ " زخم بھر جاتے مگر اُف یہ کُھرچنے والے !! روز آ جاتے ہیں " دِکھلائیے اب کیسے ہیں ؟ "🖤🔥🥀