ہمارے سپرد درد کا خزانہ وہ کر گیا پاگل نہ کر سکا تو دیوانہ وہ کر گیا وہ شخص ماہر تھا بہانہ گری کا یارو اچانک ہمارے ساتھ بھی بہانہ وہ کر گیا میرا دل اسنے توڑا سو میرا بھی کیا گیا اپنا خراب یارو ٹھکانہ وہ کر گیا یہ بھی احسان اسکا میری ذات پر لکھو جاتے ہوئے خلاف میرے زمانہ وہ کر گیا اک یار بھی میرے ساتھ نہ رہا تجمل کیسا ہمارے ساتھ یارانہ وہ کر گیا