تیری تلاش میں گم ہو گئے سبھی رستے
میں ایسی راہ پہ ہوں جو کہیں نہیں جاتا
کرنے کو بہت کچھ تھا مگر طئے یہی پایا
اھل محبت ھیں محبت ھی کریں گے
نہیں ہوتی کوئی وجہ کسی کو یاد کرنے کی
جو دل میں بستے ہیں وہ خود ہی یاد رہتے ہیں .________.
شاید کئی راتوں سے نا سویا تھا مُصور
تصویر کی آنکھوں میں قیامت کی تھکن تھی
کیوں نہ آنکھیں کھود کر دیکھیں🤔
مرشید🙏
اتنے آنسو کہاں سے آتے ہیں💔
پہلے پہل تو ہم ہی ترے غمگسار تھے
پھر تیری زندگی میں کئی اور آ گئے
وہ روشنی پسند کراچی چلا گیا
اور ہم کسی کے واسطے لاہور آ گئے
اس نے مجھ سے پوچھا مفہوم "غلط فہمی" کیا ہے ؟
میں نے مسکرا کر کہا " تم سے " "امیدِ وفا" رکھنا
ھم دل کے بادشاہ لوگ ہیں ❤
نہ ارادےبدلتے ہیں نہ معیار🔥
ﺟﺐ ﮐﺎﻧﭻ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺗﻢ ﮨﺎﺗﮫ ھﻤﺎﺭﺍ ۔۔۔۔۔ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ
ﺟﺐ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻢ ﺳﺎﺗﮫ ھمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ
ﺟﻮ ﺑﺎﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺟﯿﺘﻮ ﮔﮯ
ﺟﻮ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ
ھﻢ ﭘﺎﺱ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ھﻮﮞ نہ ھﻮﮞ
ﺍﺣﺴﺎﺱ ھمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ
ﺍﮔﺮ ﯾﺎﺩ ھﻤﺎﺭﯼ ﺁ ﺟﺎۓ
ﺗﻢ ﭘﺎﺱ ھﻤﺎﺭﮮ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ
ﺑﺲ ﺍﮎ ﻣﺴﮑﺎﻥ ۔۔۔۔۔۔ ھﻤﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ
اور ﺟﺎﻥ ھﻤﺎﺭﯼ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ
یہ تخت خدا ہے اسے تم پاک ہی رکھنا
ہر شخص کو اس دل میں بسایا نہیں کرتے
میں نے پھر ویسا ہی بنا لیا خود کو🔥🥀
جیسا ہونے کا الزام لگایا تھا اس نے🌹🔥
وہ دے رہا ہے دلاسے عمر بھر کے مجھے
بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اداس کرکے مجھے
جہاں نہ تو، نہ تری یاد کے قدم ہوں گے
ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے
ہوائے دشت اب تو مجھے اجنبی نہ سمجھ
کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے
دلِ تباہ ، ترے غم کو ٹالنے کے لیے
سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے
کچھ اس لیے بھی میں اس سے بچھڑ گیا محسن
وہ دُور دُور سے دیکھے ٹھہر ٹھہر کے مجھے۔۔!!
شام ڈھلتے ہی تیری دید کے مارے ہوئے ہم
تاک میں رکھی ہوئی آنکھیں جلا دیتے ہیں
کرم والوں کی بستی میں صدائیں دی بہت ہم نے
سبھی نے کھڑکیاں کھولیں کسی نے در نہیں کھولا
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﻣﯿﮟ
ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ
ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﺎ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ
ﺍِﮎ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺪ ﻟﮯ ﮐﺮ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﺁﺝ ﮐﮭﻮﯾﺎ ﮨﮯ
ﺁﺝ ﺿﺒﻂ ﺭﻭﯾﺎ ﮨﮯ !
ﺯِﻧﺪﮔﯽ ﭘَﺮ ﮐِﺘﺎﺏ ﻟِﮑُﮭﻮﮞ ﮔﺎ
ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺣِﺴﺎﺏ ﻟِﮑُﮭﻮﮞ ﮔﺎ
ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨِﺶ ﮐﺎ ﺗﺬﮐِﺮﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮔُﻼﺏ ﻟِﮑُﮭﻮﮞ ﮔﺎ
جیسے دیوار ہو اک دوسری دیوار کے ساتھ
ایسا ہی ایک تعلق ہے مرا یار کے ساتھ
اس لئے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کبھی
تو نہ چل پاۓ گی دنیا مرے معیار کے ساتھ
کیا عقیدت تھی ترے شہر میں داخل ہوتے
رکھ دی دروازے پہ دستار بھی تلوار کے ساتھ
اس نے دیکھا تھا مجھے اتنی عقیدت سے کہ میں
چل پڑا اٹھ کے محبت سے خریدار کے ساتھ
میں نے اس واسطے پھر اور محبت نہیں کی
کیا کسے چاه سکوں گا دل_بیمار کے ساتھ
اٹھ گئے سارے تماشائی تماشا اجڑا
مر گئی ساری کہانی مرے کردار کے ساتھ
میثم علی آغا
حالات کی اک ضرب نے صورت ہی بدل دی
مجھ سے مری تصویر ذرا بھی نہیں ملتی
چنگا ویلا موڑ دے سائیاں
تینوں کاہدی تھوڑ وے سائیاں
تیرے ہتھ وچ ڈور وے سائیاں
پتلی دا کی زور وے سائیاں
گم سم بیٹھا کملیاں وانگوں
اندر چپ دا شور وے سائیاں
ازلوں ہارے بخت جے ہوون
چلدا نئیں فیر زور وے سائیاں
میں تے صفر برابر وی نئیں
توں ایں لکھ کروڑ وے سائیاں
#دنیا کا دستور ہی ایسا ہیں🔥
☝سرکار❣️☝
#ساتھ وہاں تک ♨
#مطلب جہاں تک💯
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain