سانس تھامیں ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دم
تم پلٹ آؤ، گزر جاؤ یا مڑ کر دیکھو
گرچہ واقف ہیں نگاہیں کہ یہ سب دھوکا ہے
جنابِ فیض۔♥
محسن طلوعِ ماہِ محرم کے ساتھ ہی
ہر دل مثالِ شہرِ خاموشاں اُداس ہے
محسنؔ نقوی
یہ قیام کیسا ہے راہ میں؟
تیرے ذوق عشق کو کیا ہوا؟؟
ابھی چار کانٹے چبھے نہیں
تیرے سب ارادے بدل گئے
کیوں یقین اٹھ گیا دل سے کہیں وفاؤں کا 🙏😒
پیار محسوس کیوں __ ہونے لگا گناہوں سا 😔😢💔
اس شخص میں ہرگز دلچسپی نہ لو جو تم سے دوری اختیار کرتا ہوں۔۔
اعتبار تھا شاید___
یا شاید مان تھا تُم پر___
خیر_____
جو بھی تھا اب نہیں رہا____
دعا کرو کۂ مر جاۓ
.
ساقب جی ان دنوں بیمار بہت ھے
*کبھی کبھی انسان اتنا تھک جاتا ھے کہ
پھر وہ صرف اللہ تعالی سے باتیں کرنا چاہتا ھے....!!!*♥️💕
ناجانے کیوں میرا جی چاہتا تھا وقت الوداع
پلٹ کے پھر تجھے دیکھوں کسی بہانے سے..!!!!!
بارشوں کے دنوں میں قبرستان کا چکر لگا لیا کرو، وہاں وہ لوگ دفن ہیں جو بجلی کے کڑکنے پر آپ کو سینے سے لگا لیا کرتے تھے.
😢
بادشاہ تو دنیا میں بہت گزرے،
شہزادے صرف دو ہی ہیں حسنؓ اور حسینؓ
Koch din k liya damadam ko chor RHA hon Dil or demag k saqon k liya sub friend sy guzarish h k koe bat buri lgi ho to maf KR Dena Allah Hafiz khush rho g
چُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنو نِکل گئے
پھیلے ہُوئے تھے جاگتی نیندوں کے سِلسلے
آنکھیں کھلیں تو رات کے منظر بدل گئے
کب حدّتِ گلاب پہ حرف آنے پائے گا
تِتلی کے پَر اُڑان کی گرمی سے جل گئے
آگے تو صرف ریت کے دریا دکھائی دیں
کن بستیوں کی سمت مسافر نکل گئے
پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب
صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے
پروین شاکر
*عبادت کے طریقے طے شدہ ہیــــــــں ... لیکن محبتــــ میــــں یہ آسانی نہیــں ہے .....!!!*
💞
اپنے اَطوار میں کتنا بڑا شاطِر ھو گا
زندگی ، تجھ سے کبھی جس نے شکایت نہیں کی
منافقت نہ کریں , حق بہادری سے کہیں۔۔۔۔
محبتوں میں بدن کی بڑی ضرورت ہے۔۔۔۔💯
❤✌🔥
میری پسند
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﯾﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺩﯾﺮ ﮐﺎ،ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﺴﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍُﺱﮐﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮﮐﺎ ﺁﺑﺴﺎ
ﯾﮩﯽ ﺁﻧﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﮬﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ،ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ،
ﯾﮩﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺎﺭِ ﺣﯿﺎﺕ ﮬﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﻗُﺮﺏ ﮐﺎ، ﮐﺒﮭﯽ ﺩُﻭﺭ ﮐﺎ
ﻣﻠﮯﺍِﺱ ﻣﯿﮟﻟﻮﮒ ﺭﻭﺍﮞﺩﻭﺍﮞ،ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮯﻭﻓﺎ ﮐﻮﺋﯽﺑﺎﻭﻓﺎ
ﮐﭩﯽ ﻋُﻤﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﻭﮬﺎﮞﮐﮩﯿﮟ ﺩﻝ ﻟﮕﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﻟﮕﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺧُﻮﺍﺏ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ ﯾﮩﺎﮞ، ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﻮﮞ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ
ﮐﺴﯽ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﮐﺎ، ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢِ ﯾﺎﺭ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍِﺱ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﮬﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﮩﺮ ﺿﺮﻭﺭ ہےاﻧﮩﯽ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮬُﻮﺍ
ﯾُﻮﻧﮩﯽ ﮬﻢ ﻣُﻨﯿﺮؔ ﭘﮍﮮ ﺭﮬﮯﮐﺴﯽ ﺍِﮎ ﻣﮑﺎﮞ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺎﮦ ﺳﮯ، ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩَﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
منیر نیازی
اب خساروں کو میں انگلی پہ گنوں ؟ ناممکن
اب تجھے چھوڑ دیا ہے تو سمجھ چھوڑ دیا
اسے کہنا کے اب واپس آنے کا تکلف نا کرے😒
❤ہماری مسکراہٹین اب عروج پر ہیں
خیالِ یار کو مَن میں بٹھا کے چائے پی !
ذرا سا روئے، ذرا مسکرا کے چائے پی !
یہ دونوں ذائقے چکّھے تھے ایک ٹیبل پر !
رلایا پہلے اُسے پھر ہنسا کے چائے پی !
کسی کا خوں تو نہیں پیتے ! چائے پیتے ہیں !
ہمارے ساتھ کبھی بیٹھ ! آ کے چائے پی !
وہاں جو پیتے تو یادیں عذاب بن جاتیں !
سو اُس کے شہر سے کچھ دور جا کے چائے پی !
یہ دو ہی کام کیے ! ایک "مجھ سے پیار کیا !"
اور ایک اُس نے "بہت دل لگا کے چائے پی !"
بچھڑنے والے کو کس کس طرح نہیں روکا !
جو کچھ نہ بن سکا ! آخر بنا کے چائے پی !
وہ برسوں بعد جو لوٹا تو ہم نے آنسو پیے !
اور اُس نے کیف یہاں صرف، آ کے چائے پی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain