💕 زمانہ جہالیت کا ذکر ہے کہ جب عورتوں کی منڈیاں لگائی جاتی تھیں. عورت کو کسی گائے بکری کی طرح ٹٹول کر ناپ تول کر خریدا اور فروخت کیا جاتا تھا. سرِعام بولیاں لگائی جاتی تھیں. عورت کو بس ایک عام سی چیز کی سی اہمیت حاصل تھی, استعمال کیا اور پھینک دیا. غرض عورت پوری کی پوری ذلت و رسوئی کی تصویر بنی ہوئی تھی *پھر اسلام کا سورج چمکا. عورت کو بازاروں کی رونق سے گھر کی عزت بنا دیا گیا. وہ مَرد جو کبھی عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھا کرتا تھا, عورت کے پاؤں میں اپنی جنت کی تلاش میں لگ گیا اور اسی عورت کے پاؤں کو چومنے لگا. عورت کو اسلامی* *معاشرے نے وہ مقام دیا کہ جس مقام کا تصور تک قبل از اسلام موجود نا تھا.* *مگر آفسوس آج وہی عورت کہ جس کو اسلام نے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر بیٹھا دیا تھا آج پھر سے زمانہ جدید کی انہیں تاریکیوں
لا تعداد یادیں وہ وعدے وہ قسمیں کبھی جدا نا ہونے کی یقین دہانیاں خیر کسی کے ماتھے پہ تھوڑی لکھا ہوتا ہے کہ بیچ رستے میں چھوڑ جائے گا یا آخر تک نبھانے گا
خدا .کرے تیرے ہونٹوں پر سدا مسکان رھے نصیب لکھنے والا ہمیشہ تجھ پر مہربان رھے خدا کرے تو زندگی میں کبھی مجبور نا ھو تجھے چاہنے والا کبھی تجھ سے دور نا ھو خدا کرے تیری آنکھ میں کبھی آنسو نا آۓ مانگنے سے پہلے تیری ہر دعا قبول ھو جاۓ