کرتے ہیں میری خامیوں کا تذکرہ اسطرح
لوگ اپنے اعمال میں فرشتے ہوں جیسے۔🔥
میرا دل ڈھونڈتا ہے تمہیں❤️
میری دھڑکنوں کا مسلہ ہو تم🔥
گُلاب لب ، بدن چاند ، اور آتشی رُخسار 😍😘
نظر کے سامنے ایسا خزانہ ٹھیک ہے کیا ؟ 🙄😯
غیروں سے پوچھتی ہے طریقہ نجات کا
اپنوں کی سازشوں سے پریشان زندگی۔۔
ابنِ آدم کو یونہی بدنام کر رکھا ہے 💔💔💔
ہم نے دیکھا ہے بنتِ حوا کو بھی دغا کرتے.💔
جس پہ چلتے ہوئے سوچا تھا کہ لوٹ آؤں گا
اب وہ رستہ بھی مجھے شہر بدر لگتا ہے
مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے
اپنے شجرے کہ وہ تصدیق کرائے جا کر
جس کو زنجیر پہنتے ہوئے ڈر لگتا ہے
عباس تابش
میٹھے لوگوں سےمل کر میں نے جانا 😰
کڑوے لوگ اکثر سچے ہوا کرتے ہیں😶
دلِ برباد کو برباد ، کہاں تک رکھتے
جانے والے تجھے ھم یاد ، کہاں تک رکھتے
اب تیرے ھجر کی باتیں نہیں سنتا کوئی
ھم لبوں پر تیری رُوداد ، کہاں تک رکھتے
بڑی مشکل سے نکالا ھے ، تیری یادوں کو
اپنے گھر میں انہیں آباد ، کہاں تک رکھتے
کارِ دُشوار تھی ، دوبارہ محبت لیکن
خود کو بیکار تیرے بعد ، کہاں تک رکھتے
💔 آج پھر اس تنہا رات میں انتظار ہے اس شخص کا
جو کہا کرتا تھا تم سے بات نہ کروں تو نیند نہیں آتی
ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ مجھ جیسے لوگ
ﺧﺎﻣﻮﺵ، ﺳﺎﺩﮦ، اداس ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮩﺎ ..!!
🖤🥀
خا موشی اسے پسند تھی''مرشد''
ہم نے لفظوں کے گلے کاٹ دیے💔
زبان کڑوی سہی مگر دل صاف رکھتا ہوں..!!
کون کہاں بدلا، سـب کا حساب رکھتا ہوں..!!
یہی ہے اجرت ، یہی کمائی ، ہمارا حصہ
ہر اک اذیت میں دو تہائی ہمارا حصہ
ہمیں وراثت میں صبر کرنے کا کہہ رہے ہیں
جھگڑ کے کیسے کہیں کہ بھائی ، ہمارا حصہ
مجھے گلی کے جو ایک بچے پہ پیار آیا
پکڑ کے کہنے لگے کلائی ، ہمارا حصہ ؟
ادھر وہ لوگوں میں بانٹ آیا وفائیں ساری
ادھر محبت میں بے وفائی ،،،،،، ہمارا حصہ
ہمیں نئے خواب سکہ سکہ عطا ہوئے ہیں
وہ چھین لیتا ہے پائی پائی ، ہمارا حصہ
کرتے ہیں مسلسل جو میرے ایمان پہ تنقید...
خود اپنے عقیدوں کی وضاحت نہیں کرتے...
وہ جو ایک پَل بھی نہیں رہتا تھا میرے بِنا،
سو بھی جاتا ہے اب، بھوک بھی لگتی ہے اُسے..
ایک چہرے سے اُترتی ہیں نقابیں کتنی۔۔!!
لوگ کتنے ہمیں اک شخص میں مِل جاتے ہیں۔۔!!
بلندی جن کی خواہش تھی چٹائی پر اتر آئے
لگائی تاج کو ٹھوکر ،گدائی پر اتر آئے
جو دیکھا ماں کو تنہائی میں سوکھی روٹیاں کھاتے
تو بچے پھینک کر بستہ،کمائی پر اتر آئے
😢😢
ایک کمی سی ایک نمی سی،
چاروں جانب پھیل رہی ہے
کئی زمانے ایک ہی پل میں
باہم مل کر بھیگ رہے ہیں
اندر یادیں سوکھ رہی ہیں
باہر منظر بھیگ رہے ہیں
مُحسِن دِلِ غریب کی ،، ویرانیاں تو دیکھ
کیسا نگر تھا جو ،، تیرے ہاتھوں اُجڑ گیا...!
تُو مجھ کو دیکھ، پرکھ ،اور پھر بتا مُجھ کو
ترے سوا مرے اندر کہیں پہ مَیں بھی ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain