غزل ہو جائے اس کا ایک اشارا زمین پر جنّت کا رو نما ہو نظارا زمین پر آلودگیِ ذہن و خیالات کے سبب دشوار ہو رہا ہے گزارا زمین پر مظلوم کی صدا سے نہ ہل جائے آسماں اتنا کرو نہ ظلم خدارا زمین پر دل کو یقین ہے کہ ملیں گے بروزِ حشر ممکن نہیں جو ملنا ہمارا زمین پر وہ لوگ خوش نصیب ہیں تیری رضا پہ جو ہنس کر اٹھا رہے ہیں خسارا زمین پر دشمن ہے کون، کون ہے راغبؔ ہمارا دوست سمجھا کر اُس نے ہم کو اُتارا زمین پر
کس قدر عجیب لوگ ہیں ہم 😲 محبت ہم نبھا نہیں سکتے نفرت ہم سہہ نہیں سکتے احساس ہم میں زندہ نہیں رہا 😑 احترام ہم میں باقی نہیں ہے میل جول سے ہم دور بھاگتے ہیں حسد ہم میں بھرا ہوا ہے 😯 غلطی ہم نے تسلیم نہیں کرنی معذرت کرنا ہمیں توہین لگتا ہے ....😒