غزل افسانہ غم خود کو سنا کر مری آنکھیں روتی ہیں تری یاد میں اکثر مری آنکھیں تم جب سے گئے چھوڑ کے تنہا مجھے جاناں تکتی ہیں تری راہ برابر مری آنکھیں تم آ کے مرے پاس کہیں لوٹ نہ جاو اس غم میں کھلی رہتی ہیں شب بھر مری آنکھیں آجاتے ہیں جب یاد وہ قربت کے زمانے بن جاتی ہیں لمحوں میں سمندر مری آنکھیں جاتے ہوئے مڑ مڑ کے مجھے دیکھ کے رونا اب تک نہیں بھولی ہیں وہ منظر مری آنکھیں آجاو کہ اب ضبط مسلسل نہیں ممکن ڈر ہے کہ چھلک جائے نہ تھک کر مری آنکھیں تب جا کے کہیں اس نے مرا حال بھی پوچھا جب خون کے قطروں سے ہوئیں تر مری آنکھیں کیونکر مری آنکھوں سے اسے پیار ہو ذیشان نہ مئے ہیں، نہ مینا ہے نہ ساغر مری آنکھیں
چلو عشق کر کے دیکھتے ہیں جادو اُس نظر کے دیکھتے ہیں ہو جائینگے ہم سُرخرو شاید چلو اِس راہ میں مر کے دیکھتے ہیں عمر بھر خیالوں میں گُم رہتے ہیں لوگ جانے وہ خواب کِدھر کے دیکھتے ہیں ہمیں سمیٹنے کون آئیگا توصیفؔ چلو سرِ راہ بِکھر کے دیکھتے ہی💓💔