میں سوچ رہا ہوں سر وسامان اتاروں اب روح کو ہلکا کروں یہ جان اتاروں غم تو نے دئے ہیں مری اوقات سے بڑھ کر اے زندگی کیسے ترا احسان اتاروں سارا سفر اس کشمکش فکر میں گذرا سامان رکهوں سر پہ کہ سامان اتاروں ہونا ہی ہے آئینے کے آگے تو برہنہ بہتر ہے یہ پہنی ہوئی پہچان اتاروں اے زندگی چپ رہنا مرے بس میں نہیں ہے میں کیا کروں کیسے ترا نقصان اتاروں گر چاند ستارے بھی نہ بہلا سکے تجھ کو کیا اور فلک سے دل نادان اتاروں اب تک تو اتارا ہے ترے دهیان میں دل کو اب چاہتا ہوں دل میں ترا دهیان اتاروں
سُنو_! ________قِصّہ سُناتا ہوں تمہیں اِک __,سچ بتاتا ہوں محبت کب_ ہوئی مجھ کو تمہیں ___,آغازِ چاہت میں میری غلطی_____ بتاتا ہوں میں ٹُوٹا___ دِل لیے اِک دن مُحبّت بھول____ کے اک دن یہ سمجھا_____, میں مکمل ہوں اچانک______ اِک پری چہرہ نظر کے __________سامنے گُزرا میری آنکھوں__ کے رستے وہ میرے اندر_________,, کہیں اُترا میں کیسے____ جان لیتا کہ وہ میری ___,جان لے لے گی مجھے اس___ راہ پر چلنے پہ پھر مجبور_____ کر دے گی وہ رستے کب___ کے بند کر کے میں تو بھول_______,, بیٹھا تھا مُحبّت کے___ سبھی موسم کہیں پر_____ چھوڑ آیا تھاdosri post pr h
وہ چہرہ اک___ دن جاتے ہوئے کچھ اس ______,,طرح پلٹا مجھے وہ_ پَل نہ بھولے گا جہاں پر _______جان نکلی تھی مُحبّت______ لوٹ کے آئی وہ رستے کُھل_ گئے جیسے پھر اس نے ایک ___دن مجھ کو بتلایا__________زندگی کیا ہے میری تکمیل_____, کی اس نے مُحبّت________'_ سکھا کے وہ سمجھانے___ لگی مجھ کو یہ غلطی_ مت کبھی کرنا مُحبّت درد________, ہے دل کا وہ پگلی یہ___ نہیں سمجھی مُحبّت کے ______سبھی چہرے خوشی کے غم کے ___سب لمحے اسی کے نام _________پہ کر کے یہ غلطی کر _____چکا ہوں میں مُحبّت کر__ چکا ہوں میں مُحبّت کر _چکا ہوں میں! ❤
بے وَفا بنے ہیں ، وَفا دار کسی کے پارسا سب ہیں گُناہ گار کسی کے لُوٹ کر اعتبار جی رہے ہیں زندگی بے کردار ہیں اعلیٰ کردار کسی کے بنا میرے بھی ، جینا محال تھا کبھی اب میرے سوا ہیں طلب گار کسی کے عطا کر کے سب رنج و الم مجھے خود بن گئے ہیں غم خوار کسی کے بِکے بے مول ہم ، تو ٹھہرے بے قدر باوفا سوداگر ہیں خریدار کسی کے