نہ دید ہے نہ سخن ، اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے اُمیدِ یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے ( فیض احمد فیض )
خیالوں میں ــــــــــــــــــــــــــــــ 1ـ خیالوں میں میرے اس طرح آیا ہیں وہ کرتے، کہ مجھ کو ہر پہر آ کے تڑپایا ہیں وہ کرتے. ٢ـ دلوں کو ڈھونڈ کر دل کو چمکایا ہیں وہ کرتے، جو ٹھکرائے گئے ہوں ان کو اپنایا ہیں وہ کرتے. ٣ـ محبت کا سبق سیکھا ہے میں نے پیر سے اپنے، خودی کو مار کر مرشد کو بسایا ہیں وہ کرتے. ٤ـ جنہیں مٹنا ہو وہ مٹنے سے ڈر جایا نہیں کرتے، بسا کر خود میں مرشد، خود مٹ جایا ہیں وہ کرتے. ٥ـ ہنسی سروری کی ٢ دن، ذندگی بھی ٤ دن کی ہے، ملے سرور سا مرشد جن کو اِترایا ہیں وہ کرتے. ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ