یہ خوف تھا کہ کوئی سانحہ گزرنا ہے!!
گمان نہ تھا کہ تیرا ساتھ چھوٹ جائے گا
کتنے برسوں کا سفر خاک ہو گیا
اس نے جب پوچھا ۔۔۔ کیسے آنا ہوا
مت پوچھ جدائی کا سبب مجھ سے
ہر بات میرے یار بتائی نہیں جاتی
تنگ نہیں کرتے ہم انہیں آج کل👍
یہ بات بھی انہیں تنگ کرتی ہے❤
زمیں کی گود میں اتنا سکون تھا انجمؔ
کہ جو گیا وہ سفر کی تھکان بھول گیا
ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے
Traveling of gelgit to abboottabad👉👉👉tomorrow
نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی
وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں
جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس
ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
میں نے پوچھا تھا اِظہار نہیں ہو سکتا
دِل پُکارا کہ خبردار نہیں ہو سکتا
۔
جس سے پوچھوں تیرے بارے میں یہی کہتا ہے
خوبصورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا
سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ
ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔🤔🤔🤔🤔🤔😍😘😍😄😉
!!-مرہم نہ بن سکے گی-!!
!!-تیری معذرت کبھی-!!😷😷🙃🙃🙃😔😔😔
Miss u bhaina😔😔😔😔🙏🙏🙏🙏🙏
بس یہی ہے ہماری خطا دوستو
کیوں نہ ہنس کے ستم ہر سہا دوستو
مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی
دیا ہے میں نے انہیں ذوق آتش آشامی
حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج
کہ تار تار ہوئے جامہ ہاے احرامی
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
مجھے یہ ڈر ہے مقامر ہیں پختہ کار بہت
نہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی خامی
عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی
قبائے علم و ہنر لطف خاص ہے ورنہ
تری نگاہ میں تھی میری ناخوش اندامی
یہ ٹهنڈی ہوائیں یہ سرد موسم اور ہلکا ہلکا سا درد دل
فروری تیرے نخرے بهی بالکل میرے یار جیسے ہیں.
کلمئہ عشق تو کئی بار سنا ہوگا تم نے
کیا کبھی اُسکی حقیقت کو بھی جانا تم نے
عشق وہ آگ ہے جب خٓلق کو لگ جاتی ہے
بُجھنے کے خُلق کو پھر خود ہی بُھلا دیتی ہے کیسے بتلاؤں کیا ہے آتشِ عشق کی تاب
وہ ایسی آگ ہے سمندر بھی جلا دیتی ہے
سمندر کی موجوں سے جاکے پُوچھ حیاتِ عشق کیا ہے
کہ کتنے ڈُوب گئے پٓر آج بھی زندہ ہیں
دِیا تو عشق کا آندھی میں بھی جل جاتا ہے
جلتا ہے ایساکہ طوفاں بھی سمٹ جاتا ہے
سرکش موجوں کو معلوم ہے استقامتِ عشق کیا ہے
وہ ایسی وادی ہے طوفانِ نوح میں پناہ دیتی ہے
کبھی مزاق نہ اُڑانا کسی تیراک کا
کیا خبر کِتنوں کو طوفاں سے بچایا اُسنے
کسی زماں عاشق بھی جھوٹے ہوا کرتے تھے
یہ تو ہے عِشق کہ اُنہیں سچا بنا ڈالا ہے
سمندروں کو خوب خبر ہے آتشِ عشق کیا ہے
بُجھا نہ سکی گہرائیاں اُنکی ایسی آگ ہے وہ
غم سارے انھوں نے ہی دیے ہیں
یہ آج جو غم خوار بنے ہیں
کالے بال، پیشانی کشادہ
ان کے نین تلوار بنے ہیں
بس جھوٹ زمانے میں پھیلانے
اتنے سارے اخبار بنے ہیں
لگتا ہے کہ اب بچھڑیں گے ہم بھی
کچھ ہجر کے آثار بنے ہیں
تمہاری مہربانی کی خاطر
کچھ اچھے بھی بیمار بنے ہیں
یہ لوگ، بڑے لوگ ہیں طاہر
جو دھوپ میں اشجار بنے ہیں
دنیا کو بھی دکھانا تھا یار
اس لیے مسکرانا تھا یار
بھاگ رب نے جگانا تھا یار
ہاتھ اس نے ملانا تھا یار
زندگی نے دو روز میں ہم کو
رنگ ہر اک دکھانا تھا یار
تاریکی کو ہرانے کے لیے
کوئی دیپک جلانا تھا یار
بچھڑ کے اس سے نہ ہی تھا چین
اور نہ ہی ٹھکانہ تھا یار
ہوش ہم ہی کھو بیٹھے تھے ورنہ
راستہ تو پرانا تھا یار
تیرا مرہم اثر کیا کرتا
زخم میرا پرانا تھا یار
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain