Damadam.pk
innoxent_-sheikh's posts | Damadam

innoxent_-sheikh's posts:

innoxent_-sheikh
 

یہ خوف تھا کہ کوئی سانحہ گزرنا ہے!!
گمان نہ تھا کہ تیرا ساتھ چھوٹ جائے گا

innoxent_-sheikh
 

کتنے برسوں کا سفر خاک ہو گیا
اس نے جب پوچھا ۔۔۔ کیسے آنا ہوا

innoxent_-sheikh
 

مت پوچھ جدائی کا سبب مجھ سے
ہر بات میرے یار بتائی نہیں جاتی

innoxent_-sheikh
 

تنگ نہیں کرتے ہم انہیں آج کل👍
یہ بات بھی انہیں تنگ کرتی ہے❤

innoxent_-sheikh
 

زمیں کی گود میں اتنا سکون تھا انجمؔ
کہ جو گیا وہ سفر کی تھکان بھول گیا

innoxent_-sheikh
 

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

تو سمجهتا هے کہ جینے کی ہوس هے مجھ کو....!!
میں تو اس آس پہ زنده هوں کہ مرنا کب هے...!!
i  : تو سمجهتا هے کہ جینے کی ہوس هے مجھ کو....!! میں تو اس آس پہ زنده هوں کہ مرنا - 
innoxent_-sheikh
 

Traveling of gelgit to abboottabad👉👉👉tomorrow

innoxent_-sheikh
 

نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی
وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں

innoxent_-sheikh
 

جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس
ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے

innoxent_-sheikh
 

میں نے پوچھا تھا اِظہار نہیں ہو سکتا
دِل پُکارا کہ خبردار نہیں ہو سکتا
۔
جس سے پوچھوں تیرے بارے میں یہی کہتا ہے
خوبصورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

innoxent_-sheikh
 

سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ
ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔🤔🤔🤔🤔🤔😍😘😍😄😉

innoxent_-sheikh
 

!!-مرہم نہ بن سکے گی-!!
!!-تیری معذرت کبھی-!!😷😷🙃🙃🙃😔😔😔

innoxent_-sheikh
 

Miss u bhaina😔😔😔😔🙏🙏🙏🙏🙏

innoxent_-sheikh
 

بس یہی ہے ہماری خطا دوستو
کیوں نہ ہنس کے ستم ہر سہا دوستو

innoxent_-sheikh
 

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی
دیا ہے میں نے انہیں ذوق آتش آشامی
حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج
کہ تار تار ہوئے جامہ ہاے احرامی
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
مجھے یہ ڈر ہے مقامر ہیں پختہ کار بہت
نہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی خامی
عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی
قبائے علم و ہنر لطف خاص ہے ورنہ
تری نگاہ میں تھی میری ناخوش اندامی

innoxent_-sheikh
 

یہ ٹهنڈی ہوائیں یہ سرد موسم اور ہلکا ہلکا سا درد دل
فروری تیرے نخرے بهی بالکل میرے یار جیسے ہیں.

innoxent_-sheikh
 

کلمئہ عشق تو کئی بار سنا ہوگا تم نے
کیا کبھی اُسکی حقیقت کو بھی جانا تم نے
عشق وہ آگ ہے جب خٓلق کو لگ جاتی ہے
بُجھنے کے خُلق کو پھر خود ہی بُھلا دیتی ہے کیسے بتلاؤں کیا ہے آتشِ عشق کی تاب
وہ ایسی آگ ہے سمندر بھی جلا دیتی ہے
سمندر کی موجوں سے جاکے پُوچھ حیاتِ عشق کیا ہے
کہ کتنے ڈُوب گئے پٓر آج بھی زندہ ہیں
دِیا تو عشق کا آندھی میں بھی جل جاتا ہے
جلتا ہے ایساکہ طوفاں بھی سمٹ جاتا ہے
سرکش موجوں کو معلوم ہے استقامتِ عشق کیا ہے
وہ ایسی وادی ہے طوفانِ نوح میں پناہ دیتی ہے
کبھی مزاق نہ اُڑانا کسی تیراک کا
کیا خبر کِتنوں کو طوفاں سے بچایا اُسنے
کسی زماں عاشق بھی جھوٹے ہوا کرتے تھے
یہ تو ہے عِشق کہ اُنہیں سچا بنا ڈالا ہے
سمندروں کو خوب خبر ہے آتشِ عشق کیا ہے
بُجھا نہ سکی گہرائیاں اُنکی ایسی آگ ہے وہ

innoxent_-sheikh
 

غم سارے انھوں نے ہی دیے ہیں
یہ آج جو غم خوار بنے ہیں
کالے بال، پیشانی کشادہ
ان کے نین تلوار بنے ہیں
بس جھوٹ زمانے میں پھیلانے
اتنے سارے اخبار بنے ہیں
لگتا ہے کہ اب بچھڑیں گے ہم بھی
کچھ ہجر کے آثار بنے ہیں
تمہاری مہربانی کی خاطر
کچھ اچھے بھی بیمار بنے ہیں
یہ لوگ، بڑے لوگ ہیں طاہر
جو دھوپ میں اشجار بنے ہیں

innoxent_-sheikh
 

دنیا کو بھی دکھانا تھا یار
اس لیے مسکرانا تھا یار
بھاگ رب نے جگانا تھا یار
ہاتھ اس نے ملانا تھا یار
زندگی نے دو روز میں ہم کو
رنگ ہر اک دکھانا تھا یار
تاریکی کو ہرانے کے لیے
کوئی دیپک جلانا تھا یار
بچھڑ کے اس سے نہ ہی تھا چین
اور نہ ہی ٹھکانہ تھا یار
ہوش ہم ہی کھو بیٹھے تھے ورنہ
راستہ تو پرانا تھا یار
تیرا مرہم اثر کیا کرتا
زخم میرا پرانا تھا یار