شِکنجے ٹُوٹ گئے ، زَخم بدحواس ہُوئے
سِتم کی حد ھے کہ اِہلِ سِتم اُداس ہوئے
اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا
وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا
#مجھے__مغرور__مت__سمجھو💦
#صاحب""''
♡☆♡) 👥 💦
#بس__کم__بولنے__کی__عادت__ہے💦
🔥🔥🔥
نا جانے کیوں آتے ہیں زندگی میں
”وہ لوگ“
وفاٸیں کر نہیں سکتے
باتیں ہزار کرتے ہیں🔥
*شاعری اس کے لب پہ سجتی ہے!!*
*صاحب*
*جس کی آنکھوں میں عشق روتا ہے....!!!!*
قاصد نے دی خبر کہ وہ آئیں گے رات کو
اتنا کیا چراغاں_____کہ گھر ہی جلا دیا ..
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
بہت بے چین ہیں گاؤں کے رستے
بڑی تیزی سے ہجرت ہو رہی ہے
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے
بڑی بے چین رہتی ہے طبیعت اب میری
مجھے اب قتل ہونا ہے مگر قاتل نہیں ملتا
دل کی بربادی کا کوئی سلسلہ پہلے سے تھا
اس چراغ شب پہ الطاف ہوا پہلے سے تھا
ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں ریحان
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
مضمون نہیں ہے تو نہ ہو اپنی غزل میں
اکبر یہی کیا کم ہے کہ ہم اہل زباں ہے
لحد سے اٹھتے ہی سیدھا میں کوئے یار میں پہنچا
فرشتے ڈھونڈتے پھرتے ہیں میدان قیامت میں
چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیوں کر جاؤں
اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے
نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں
تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے
کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح
وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح
کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی
چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح
بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح
ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح
کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیلؔ اس کے لیے
کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کی طرح
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain