Damadam.pk
innoxent_-sheikh's posts | Damadam

innoxent_-sheikh's posts:

innoxent_-sheikh
 

شِکنجے ٹُوٹ گئے ، زَخم بدحواس ہُوئے
سِتم کی حد ھے کہ اِہلِ سِتم اُداس ہوئے

innoxent_-sheikh
 

اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا
وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا

innoxent_-sheikh
 

#مجھے__مغرور__مت__سمجھو💦
#صاحب""'';(♡☆♡) 👥 💦
#بس__کم__بولنے__کی__عادت__ہے💦
🔥🔥🔥

innoxent_-sheikh
 

نا جانے کیوں آتے ہیں زندگی میں
”وہ لوگ“
وفاٸیں کر نہیں سکتے
باتیں ہزار کرتے ہیں🔥

innoxent_-sheikh
 

*شاعری اس کے لب پہ سجتی ہے!!*
*صاحب*
*جس کی آنکھوں میں عشق روتا ہے....!!!!*

innoxent_-sheikh
 

قاصد نے دی خبر کہ وہ آئیں گے رات کو
اتنا کیا چراغاں_____کہ گھر ہی جلا دیا ..

innoxent_-sheikh
 

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

innoxent_-sheikh
 

بہت بے چین ہیں گاؤں کے رستے
بڑی تیزی سے ہجرت ہو رہی ہے

innoxent_-sheikh
 

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو 
ہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے

innoxent_-sheikh
 

بڑی بے چین رہتی ہے طبیعت اب میری
مجھے اب قتل ہونا ہے مگر قاتل نہیں ملتا

innoxent_-sheikh
 

دل کی بربادی کا کوئی سلسلہ پہلے سے تھا
اس چراغ شب پہ الطاف ہوا پہلے سے تھا

innoxent_-sheikh
 

ترقی کر گئے بیماریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے

innoxent_-sheikh
 

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں ریحان
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور

innoxent_-sheikh
 

مضمون نہیں ہے تو نہ ہو اپنی غزل میں
اکبر یہی کیا کم ہے کہ ہم اہل زباں ہے

innoxent_-sheikh
 

لحد سے اٹھتے ہی سیدھا میں کوئے یار میں پہنچا
فرشتے ڈھونڈتے پھرتے ہیں میدان قیامت میں

innoxent_-sheikh
 

چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیوں کر جاؤں
اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا

innoxent_-sheikh
 

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے

innoxent_-sheikh
 

نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں
تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے

innoxent_-sheikh
 

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح
وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح
کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی
چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح
بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح
ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح
کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیلؔ اس کے لیے
کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کی طرح

تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
i  : تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی -