کسی سے رابطے اتنے شدید ہو گئے ہیں
کہ ہم لڑے بھی نہیں اور شہید ہو گئے ہیں
۔
کبھی وقت مِلے تو اُن کے پاس جا کر بیٹھا کر
جو لوگ عشق میں بابا فرید ہو گئے ہیں
روٹھوں گا_______اس طرح کہ پھر,,
فاتحہ کے علاوہ کچھ بھی نہ کہہ سکو گے.....!💔💔
لے چلا جان میری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے
اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے
وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں
دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے
وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں
جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے
اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی
اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے
اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جان ہم
اِس طَور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
کوئی تو خبر لے میرے دشمنِ جان کی
کچھ دن سے میرے صحن میں پتھر نہیں آتے
دل بھی کوئی آسیب کی نگری ہے کہ”محسن”
جو اِس سے نکل جاتے ہیں مُڑ کر نہیں آتے
ملال ہے مگر اتنا ملال تھوڑی ہے
یہ آنکھ رونے کی شدّت سے لال تھوڑی ہے
۔
لگانی پڑتی ہے ڈُبکی اُبھرنے سے پہلے
غروب ہونے کا مطلب زوال تھوڑی ہے
جب اُس کی زندگی میں کوئی اور آ گیا
تب میں بھی گاؤں چھوڑ کے لاہور آ گیا
حالات نے چہرے کی چمک چھین لی ورنہ
دو چار برس میں یوں بڑھاپے نہیں آتے
اے شخص اب تومجھ کوسبھی کچھ قبول ہے
یے بھی قبول ہےکہ تجھے چیھن لے کوئی
۔
اک شخص کررہاہےابھی تک وفا کا زکر
کاش کہ اس زباں دراذ کا منہ نوچ لے کوئی
میرے زٙوال سے پہلے چھوڑ گیا مجھکو
حسین تو تھا ہی ، ذہین بھی نکلا
درد کی شدت سے شرمندہ نہیں میری ذات
دوست گہرے تھے تو زخم بھی گہرے لگے
میں شھر والا سہی، تُو تو گاؤں زادی ہے
تجھے بہانے بنانے کہاں سے آ گئے ہیں ؟
تیری تحریروں سے آتی ہے تیرے ہاتھ کی خوشبو
بے وفا مجھ سے تیرے خط جلائے نہیی جاتے
ناجانے اتنے وفا ناشناس کیسے ہوئے . . . . . . . یہ بے وفا صنم۔۔۔۔۔۔
تمھارے ہوتے ہوئے ہم اُداس کیسے ہوئے
میں نے پوچھا تھا اِظہار نہیں ہو سکتا
دِل پُکارا کہ خبردار نہیں ہو سکتا
۔
جس سے پوچھوں تیرے بارے میں یہی کہتا ہے
خوبصورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا
مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میں
ہم نے پوری جان لگائی اس کی تابعداری میں
بے ایمانی کرتے تو پھر شاید جیت کے آجاتے
چاہے ہار کے واپس آئے کھیلے اپنی باری میں
میٹھے میٹھے ہونٹ ہلائے کڑوی کڑوی باتیں کی
کیکر اور گلاب لگایا اس نے ایک کیاری میں
تیری جانب اٹھنے والی آنکھوں کا رخ موڑ لیا
ہم نے اپنے عیب دکھائے تیری پردہ داری میں
جانے اب وہ کس کے ساتھ نکلتا ہوگا راتوں کو
جانے کون لگاتا ہوگا دو گھنٹے تیاری میں
ہم نے جونہی اڑان لینی ہے
تم نے بندوق تان لینی ہے
یار کچھ تو خدا کا خوف کرو
کتنی پیاری ہو! جان لینی ہے ؟
حکم کیجے تو ایسے کہتی ہو
جیسے ہر بات مان لینی ہے
دام اچھے لگا محبت کے
مجھ کو پوری دکان لینی ہے
تیرا بوسہ تو بعد میں لوں گا
پہلے رب سے امان لینی ہے
تیرے شیریں سخن کا شہرہ ہے
تجھ سے اردو زبان لینی ہے
تیری نہ نہ نہیں چلے گی پھر
جب بھی آسی نے ٹھان لینی ہے
رستہ رفتار کی مایوسی سے اٹ جاتا تھا
جب میں چپ چاپ تجھے مل کے پلٹ جاتا تھا
تھک کے مرتے ہوئے لوگوں کو میں روتا تھا بہت
ہر پڑاؤ پہ مرا قافلہ گھٹ جاتا تھا
کیا کشش تھی کہ مجھے چھوڑ کے جانے والا
دو قدم چلتا تھا پھر مجھ سے لپٹ جاتا تھا
چاند کی چاندنی شرما کے نکل جاتی تھی
شب کا سورج میرے ہاتھوں میں سمٹ جاتا تھا
شب خسارے کے حسابوں میں گزر جاتی تھی
دن ترے شہر کی دہلیز پہ کٹ جاتا تھا
تیرے آنسو مجھے برچھی کی طرح لگتے تھے
دیکھتے دیکھتے اندر سے میں کٹ جاتا تھا
یار لوگوں کے توسط سے وہ اب غائب ہے
ایک پتھر جو مری راہ سے ہٹ جاتا تھا..
اس قدر آپ پر فدا ہوں میں
آپ بس آپ سے خفا ہوں میں
سوچتا ہوں ترے ہی بارے میں
خود غرض کتنا ہو گیا ہوں میں
آپ کا دل ہی بھر گیا ورنہ
اب تلک قابلِ سزا ہوں میں
تیسرا میں ہی تھا مثلث میں
میں سمجھتا تھا دوسرا ہوں میں
سب مسائل ہی آگہی کے ہیں
کیا میں سمجھا تھا اور کیا ہوں میں
اب ضرورت ہے کیا دلیلوں کی
آپ نے کہہ دیا , برا ہوں میں
آپ کو روشنی سے مطلب ہے
آپ کو کیا کہ جل رہا ہوں میں
جو بھی آتا ہے اس سے کہتا ہوں
تجھ سے ملنے گیا ہؤا ہوں میں
مانگتے ہی نہیں مری رائے
سب سمجھتے ہیں مر گیا ہوں میں
شعر ابرک اسی کو کہتے ہیں
منہ سے جو خود کہے نیا ہوں میں
درد دیتی ہے تیری خاموشی
مار دیتا ہے تیرا یوں بے خبر رہنا
ہاں آج درد کی وہ شدت ہے
جس میں کہتے ہیں موت بہتر ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain