Damadam.pk
innoxent_-sheikh's posts | Damadam

innoxent_-sheikh's posts:

innoxent_-sheikh
 

اس رات سے ہم نے سونا ہی چھوڑ دیا
جس رات اس نے کہا تھا صبح آنکھ کھلتے ہی مجھے بھول جانا

innoxent_-sheikh
 

ایک اور رات گزر رہی ہے اسکی یاد کے ساتھ
پتا نہیں یہ راتیں یادوں کی کب ختم ہو گی

innoxent_-sheikh
 

اے رات چلی جا کیوں آئی ہے میری چوکٹ پر
چھوڑ گئے وه لوگ جن کی یاد میں ہم تیرے آنے کا انتظار کرتے تهے

innoxent_-sheikh
 

باتوں میں بیت جاتی تھیں اکثر
کبھی یہ راتیں مختصر ہوتی تھیں

innoxent_-sheikh
 

اے رات تم تو آغوش محبت میں سو جایا کرو
ہماری تو عادت ہے چاند کی رکھوالی کرنا

innoxent_-sheikh
 

کچھ لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم رات کو سوتے کیوں نہیں
اب انہیں کون بتائے جن کے سپنے ٹوٹ جاتے ہیں نہ انہیں نیند نہیں آتی

innoxent_-sheikh
 

سب سو گئے خوشی خوشی اپنے حال دل سنا کر
اے خدا
کیا میرا کوئی نہیں جو مجهے پوچهے کہ تم کیوں جاگ رہے ہو

innoxent_-sheikh
 

ﮐﭧ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮨﮯ ﻋﺠﯿﺐ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺟﻮ ﮐﺎﭨﻮ ﺗﻮ ﺻﺪﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ

innoxent_-sheikh
 

دھندلا چکے ہیں شہر کے جلتے ہوئے چراغ
اے نیند آ بھی جا کہ بہت رات ہو چکی

innoxent_-sheikh
 

بس چند ہی راتیں میرے جیون کی کٹھن ہیں
جیسے کہ یہ رات ، وہ رات ، ہر رات وغیرہ

innoxent_-sheikh
 

سونے لگا ہوں تجھے خواب میں دیکھنے کی حسرت لے کر
دعا کرنا کوئی اٹھا نہ دے تیرے دیدار سے پہلے

innoxent_-sheikh
 

تمھاری اور میری رات میں بس فرق اتنا ہے
تمھاری سو کے گزری ہے اور ہماری رو کے

innoxent_-sheikh
 

جو میسر ہو تیری دید روز خوابوں میں
با خدا نیند کو میں اپنا سہارا کرلوں

innoxent_-sheikh
 

آنکھ کھلتے ہی نیند آجاتی ہے
اور کچھ لوگ ہیں کہ سونے کو ترس جاتے ہیں

innoxent_-sheikh
 

چلا گیا چاند دیکھو سو گئے ستارے بھی
اب تو آ جاؤ اے نیند ادھورے ہیں کچھ خواب ہمارے بھی

innoxent_-sheikh
 

اب نہ جاگیں گے راتوں کو تیری یادوں کے سہارے
ہم نے عادت کو بدلنا ہے تیری نظروں کی طرح

innoxent_-sheikh
 

وہ جسے نیند کہا کرتے ہیں سب چین کی نیند
وہ تیرے بعد کبھی آنکھ میں اتری ہی نہیں

innoxent_-sheikh
 

یوں راتوں کو جاگنے کی میری عادت نہ تھی
نا جانے کس کی یادوں نے مجھے آوارہ بنا دیا

innoxent_-sheikh
 

کرو نفرت جی بھر کے اے ظالم
محبت کے قابل نہ سہی چلو نفرت کے قابل تو سمجھا

innoxent_-sheikh
 

اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بے کار تمنائوں ڀر شرمندہ ہوں