اس رات سے ہم نے سونا ہی چھوڑ دیا
جس رات اس نے کہا تھا صبح آنکھ کھلتے ہی مجھے بھول جانا
ایک اور رات گزر رہی ہے اسکی یاد کے ساتھ
پتا نہیں یہ راتیں یادوں کی کب ختم ہو گی
اے رات چلی جا کیوں آئی ہے میری چوکٹ پر
چھوڑ گئے وه لوگ جن کی یاد میں ہم تیرے آنے کا انتظار کرتے تهے
باتوں میں بیت جاتی تھیں اکثر
کبھی یہ راتیں مختصر ہوتی تھیں
اے رات تم تو آغوش محبت میں سو جایا کرو
ہماری تو عادت ہے چاند کی رکھوالی کرنا
کچھ لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم رات کو سوتے کیوں نہیں
اب انہیں کون بتائے جن کے سپنے ٹوٹ جاتے ہیں نہ انہیں نیند نہیں آتی
سب سو گئے خوشی خوشی اپنے حال دل سنا کر
اے خدا
کیا میرا کوئی نہیں جو مجهے پوچهے کہ تم کیوں جاگ رہے ہو
ﮐﭧ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮨﮯ ﻋﺠﯿﺐ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺟﻮ ﮐﺎﭨﻮ ﺗﻮ ﺻﺪﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
دھندلا چکے ہیں شہر کے جلتے ہوئے چراغ
اے نیند آ بھی جا کہ بہت رات ہو چکی
بس چند ہی راتیں میرے جیون کی کٹھن ہیں
جیسے کہ یہ رات ، وہ رات ، ہر رات وغیرہ
سونے لگا ہوں تجھے خواب میں دیکھنے کی حسرت لے کر
دعا کرنا کوئی اٹھا نہ دے تیرے دیدار سے پہلے
تمھاری اور میری رات میں بس فرق اتنا ہے
تمھاری سو کے گزری ہے اور ہماری رو کے
جو میسر ہو تیری دید روز خوابوں میں
با خدا نیند کو میں اپنا سہارا کرلوں
آنکھ کھلتے ہی نیند آجاتی ہے
اور کچھ لوگ ہیں کہ سونے کو ترس جاتے ہیں
چلا گیا چاند دیکھو سو گئے ستارے بھی
اب تو آ جاؤ اے نیند ادھورے ہیں کچھ خواب ہمارے بھی
اب نہ جاگیں گے راتوں کو تیری یادوں کے سہارے
ہم نے عادت کو بدلنا ہے تیری نظروں کی طرح
وہ جسے نیند کہا کرتے ہیں سب چین کی نیند
وہ تیرے بعد کبھی آنکھ میں اتری ہی نہیں
یوں راتوں کو جاگنے کی میری عادت نہ تھی
نا جانے کس کی یادوں نے مجھے آوارہ بنا دیا
کرو نفرت جی بھر کے اے ظالم
محبت کے قابل نہ سہی چلو نفرت کے قابل تو سمجھا
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بے کار تمنائوں ڀر شرمندہ ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain