نفرت ہے تو کہہ دیتے ہم سے
غٰیروں سے مل کر دل کیوں جلاتے ہو
کبھی نفرتوں سے ملا سکون
کبھی محبتوں نے رلا دیا
تمہاری آنکھ کا آنسو ہماری آنکھ سے نکلا
شکایت اب بھی کرتے ہو محبت ہم نہیں کرتے.؟
خود سے ملنے کی بھی فرصت نہیں مجھے
اور وہ اوروں سے ملنے کا الزام لگا رہے ہیں
یوں سرعام مجھے ملنے بلایا نہ کرو
لوگ کر دیتے ہیں بدنام زمانے بھر کے
کبهی آ کے تهوڑا وقت میرے ساتهہ گزار
جتنا تو نے سنا هے اتنا برا نہیں هوں میں
محبت کرنے والے بڑے نادان ہوتے ہیں
حاصل کچھ نہیں ہوتا مگر بدنام ہوتے ہیں
جو الزام رہ جائیں
وہ میرے کفن پے لکھ دینا
اتنا برے تو نہ تھے ہم
جتنے الزام لگایا لوگوں نے
بس کچھ مقدر برے تھے
کچھ آگ لگائی اپنوں نے۔۔
بڑے عروج پہ پہنچی ہوئی ہے بدنامی
وہ مسکرائیں تو ہم سے سوال ہوتے ہیں
کوئی الزام رہ گیا ہے تو وہ بھی مجھے دے دو
ہم تو پہلے بھی برے تھے تھوڑے اور سہی
اب تو خود سے بھی ملنے کو جی نہیں کرتا
بہت برے ہیں ہم کچھ اپنوں سے سنا ہے میں نے
تہمت تو لگتی رہی روز نئی نئی ہم پر مگر
جو سب سے حسین الزام تها، وہ تیرا نام تها
دل یہ چاہے کہ تو کبھی بدنام نہ ہو
دیکھ ذکر تیرا ہے مگر نام چھپا رکھا ہے
دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر اب تو جلا دے مجھ کو
یوں سرعام مجھے ملنے بلایا نہ کرو
لوگ کر دیتے ہیں بدنام زمانے بھر کے
کر دیا تو نے زمانے میں ہم کو بدنام
کیا تجھے اس کے بغیر تھا نہ کوئی کام
کتنا بھروسہ تھا ہم کو تجھ پہ اے یار
نکلے گا تیری اس بات کا بہت برا انجام
میں وہ بدنام محبت ہوں جدھر جاوں زمانے میں
نگاہیں خلق کی اٹھتی ہیں مجھ پر انگلیاں بن کر
اگر دنیا میں رہنا ہے تو راز کسی کو مت دینا
یہ دنیا اک نقارہ ہے تجھے بدنام کر دے گی
ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﮨﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ
ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain